سوشل میڈیا پر آواز اٹھانا اب خطرے سے خالی نہیں

سوشل میڈیا پر صحافت کرنے والوں کو قانونی کارروائی اور تحفظ کے نئے سوالات کا سامنا ہے


کامران سرور October 22, 2026

وحید مراد کے گھر رات گئے نامعلوم افراد کی آمد سے بلال غوری کی گرفتاری اور صحافیوں کو سائبر کرائم نوٹسز تک، سوشل میڈیا پر صحافت کرنے والوں کو قانونی کارروائی اور تحفظ کے نئے سوالات کا سامنا ہے۔

2001 میں کم عمری میں صحافت کا آغاز کرنے والے وحید مراد نے دو دہائیوں سے زائد عرصے میں صحافت کے بدلتے انداز اور اس کے نشیب و فراز کو قریب سے دیکھا، لیکن آج صحافت کا میدان بدل چکا ہے۔ خبر اب صرف اخبار یا ٹی وی تک محدود نہیں، سوشل میڈیا بھی صحافیوں کی آواز بن چکا ہے مگر اس آواز کو بلند کرنے کی قیمت کیا ہے؟ وحید مراد کا تجربہ اس سوال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔

اسلام آباد کے نامور صحافی وحید مراد کے مطابق 26 مارچ 2025 کی رات تقریباً دو بجے ان کے گھر کا دروازہ توڑا گیا اور نامعلوم افراد انہیں اپنے ساتھ لے گئے، تقریباً 13 گھنٹے تک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ اس واقعے کو اغوا قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس تجربے نے ان کی صحافت اور سوشل میڈیا پر اظہار رائے کا انداز تو نہ بدلا، اور نہ ہی انہوں  نے اس خوف کو اپنی صحافت پر حاوی نہیں ہونے دیا البتہ ان کے خاندان کے تحفظات ضرور بڑھ گئے ہیں۔  

وحید مراد نے بتایا کہ انہیں اس وقت وارنٹ، ایف آئی آر یا کوئی نوٹس نہیں دکھایا گیا، بعد میں انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کے حوالے کیا گیا، جہاں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر دھمکی آمیز مواد شائع کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں، وحید مراد کے اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا اور 28 مارچ 2025 کو عدالت نے انہیں بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔ تاہم، ضمانت مقدمے سے بریت نہیں تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی آئین وقانون کے تحت اپنی صحافت کررہے تھے یعنی آئین کے آرٹیکل 19-اے کے تحت آزادی اظہار رائے کا استعمال کررہا تھا اور اس واقعے کے ذریعے محض انہیں ڈرانے ، دھمکانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد بھی انہوں نے کوئی پوسٹ، اسٹوری یا اپنی رائے اس خوف سے نہیں روکی کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ایسی کوئی خبر نہیں دی جسے بعد میں وہ ثابت نہ کرسکیں، اور نہ ہی ایسا کسی صحافی کو کرنا چاہیے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ صحافیوں کو خبر دیتے وقت تصدیق، ذمہ دارانہ زبان اور متعلقہ فریق کا مؤقف لینے جیسے اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر بڑھتے خطرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں روایتی میڈیا میں جگہ محدود ہونے اور دباؤ بڑھنے کے باعث سوشل میڈیا صحافت کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، اسی لیے صحافی ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی خبر بریک کرتے ہیں، اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں، سیاسی رہنماؤں کے بیانات حاصل کرتے ہیں اور مختلف فریقوں کا مؤقف سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک، سوشل میڈیا نے صحافیوں کو اپنی بات براہِ راست عوام تک پہنچانے کا موقع دیا ہے، لیکن سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات اور کارروائیوں کے سبب یہ پلیٹ فارم خطرے سے خالی نہیں، کیوں کہ سائبر کرائم قوانین کو تنقیدی آوازیں دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، انہوں نے اسے پاکستان میں صحافت کے لیے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔

صحافتی تنظیموں کے کردار سے متعلق سوال پر وحید مراد نے کہا کہ بنیادی طور پر پاکستان میں صرف صحافت کمپرومائز نہیں ہوئی بلکہ صحافتی تنظیموں کی قیادت زیادہ کمپرومائز ہے، وہ اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں جب کہ صحافتی تنظیموں کی قیادت کے کچھ دیگر کاروبار بھی ہیں اور وہ حکومتوں سے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے زیادہ تر معاملات میں حکومتوں کے ساتھ ہی ملے ہوتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہ کہ جس صحافی کو اس ملک میں رہنا ہے تو اسے چاہیے زیادہ محتاط انداز میں رپورٹنگ کریں، اپنی رائے دیتے ہوئے کسی پر ایسا الزام عائد نہ کریں جو بعد میں آپ ثابت نہ کرسکیں، باقی جہاں تک ان مقدمات کی بات ہے تو یہ صرف ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں، اگر آپ کی خبر غلط نہیں تو عدالتوں میں آپ کے خلاف کچھ ثابت نہیں کیا جاسکتا، یہ مقدمات وقتی طور پر آپ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں مگر آپ کو ثابت قدم رہنا ہوگا۔

دیگر صحافیوں کیخلاف کارروائیاں

وحید مراد کا واقعہ کسی ایک صحافی کی کہانی تک محدود نہیں۔ 2026 کے دوران بھی سوشل میڈیا پر مواد شائع کرنے یا شیئر کرنے کے معاملات میں صحافیوں کو گرفتاریوں، مقدمات اور طلبی کا سامنا کرنا پڑا۔

ستمبر 2026 میں صحافی بلال غوری کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے گرفتار کیا۔ ڈان ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ان کے خلاف 6 ستمبر کو پیکا کی دفعات 20 اور26-اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام تھا کہ انہوں نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی(نیکٹا) کے سربراہ کی تقرری سے متعلق مواد سوشل میڈیا پر شائع کیا۔ عدالت نے ابتدائی طور پر ان کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ بعد ازاں 22 ستمبر کو انہیں بعد از گرفتاری ضمانت مل گئی۔ یہ ضمانت مقدمے میں بریت یا الزامات کے حتمی فیصلے کے مترادف نہیں تھی۔

اپریل 2026 میں صحافی فخر الرحمٰن کو بھی سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ ڈان ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر میں ان سمیت 9 افراد پر ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر غلط، گمراہ کن اور غلط تشریح شدہ معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ عدالت نے این سی سی آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا؛ بعد میں انہیں ضمانت مل گئی۔ اس کیس میں بھی الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جا سکتا۔

جولائی 2026 میں صحافی اسد علی طور کو این سی سی آئی اے نے پیکا کی دفعہ 26-اے کے تحت مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے کی انکوائری کے سلسلے میں طلب کیا اور انہیں 31 جولائی کو پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔

صحافی سہراب برکت کو جون میں کشمیر سے متعلق احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کے حوالے سے گرفتار کیا گیا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق، این سی سی آئی اے نے ان کے خلاف پیکا کے تحت مقدمہ درج کیا؛ رپورٹس کے مطابق انہیں 15 جون کو ضمانت پر رہائی ملی۔

’عدلیہ ریاست کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے‘

نامور صحافی مطیع اللہ جان نے بتایا ہے کہ صحافیوں کو عموماً ان نجی فریقوں سے خطرات لاحق ہوتے ہیں جن کے بارے میں وہ اسٹوریز کرتے ہیں، لیکن اب ریاست کی جانب سے بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدلیہ ریاست کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ریاست اور عدلیہ کے درمیان فرق ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ عام شہریوں اور صحافیوں کے لیے انصاف کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں جب کہ صحافی غریب عوام کی آواز ہوتے ہیں، لیکن اب ان کی آواز دبائی جا رہی ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 19 میں دیے گئے آزادی اظہار کے بنیادی حق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہراسانی یا مقدمات کا سامنا کرنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے خلاف کی جانے والی قانون سازی بھی بدنیتی پر مبنی ہوتی ہے، قوانین کا نفاذ بھی اسی نیت سے کیا جاتا ہے اور مقدمات بھی انتقامی بنیادوں پر بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں عدالتی کارروائی خود ایک سزا بن جاتی ہے کیوں کہ سزا عدالتی فیصلے کے بعد ملنے کے بجائے ملزم کو بار بار ریمانڈ پر بھیجنے، مقدمات کی سماعت نہ ہونے اور اپیلیں نہ سنے جانے کے باعث دورانِ کارروائی ہی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحافیوں کے خلاف غیرآئینی اور غیرقانونی کارروائیوں میں ملوث اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے اور کسی بھی غیرقانونی اقدام پر متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے آزاد عدلیہ ضروری ہے۔ ان کے بقول، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ اور ججوں پر اداروں کے کنٹرول میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صحافیوں، شاعروں اور دیگر نمایاں شخصیات کے خلاف کارروائیاں کرکے معاشرے کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر ان افراد کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو عام شہری بھی محفوظ نہیں۔

اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی یکم مئی 2026 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جنوری 2025 سے اپریل 2026 کے دوران صحافیوں اور میڈیا کے شعبے سے وابستہ افراد کے خلاف کم از کم 233 واقعات ریکارڈ کیے گئے، ان میں تشدد، دھمکیاں، قانونی کارروائیاں اور سنسرشپ سمیت مختلف نوعیت کے واقعات شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق، 67 صحافیوں یا میڈیا پروفیشنلز کے خلاف فوجداری شکایات درج ہوئیں، جن میں سے 34 میں پیکا کی دفعات شامل تھیں۔ اس عرصے میں 11 گرفتاریاں، 11 حراست میں لیے جانے کے واقعات، تین اغوا کے واقعات اور 31 دھمکیوں یا ہراسانی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ یہ اعدادوشمار مختلف نوعیت کے واقعات کا مجموعہ ہیں؛ انہیں صرف سوشل میڈیا پوسٹس پر کارروائیوں کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسی طرح، فریڈم نیٹ ورک کی جولائی 2026 کی رپورٹ میں بھی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف 11 واقعات درج کیے گئے، جن میں سے 6 پیکا یااین سی سی آئی اے کی تحقیقات سے متعلق تھے۔ رپورٹ میں قانونی کارروائیوں، ڈیجیٹل دھمکیوں، گرفتاریوں اور سنسرشپ سمیت مختلف خطرات کی نشان دہی کی گئی۔

قانون کیا کہتا ہے؟

قانونی ماہر عثمان فاروق ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے بتایا ہے کہ کسی صحافی کے خلاف محض حکومت، ریاستی ادارے یا عوامی شخصیت پر تنقید کرنے کی بنیاد پر پیکا کے تحت کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، دفعہ 26-اے کے اطلاق میں یہ اہم ہے کہ متعلقہ شخص کو معلومات کے غلط یا جعلی ہونے کا علم تھا، یا اس کے پاس ایسا یقین کرنے کی معقول وجہ موجود تھی، اور قانونی دفعہ میں بیان کردہ دیگر شرائط بھی پوری ہوتی ہوں۔

انہوں نے آئین کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہ آزادی اظہار اور آزادیٔ صحافت کو قانونی طور پر عائد معقول پابندیوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، ہر متنازع یا تنقیدی پوسٹ خودبخود جرم نہیں بنتی؛ حکام اور عدالت کو یہ جانچنا ہوتا ہے کہ متعلقہ جرم کے قانونی تقاضے پورے ہوتے ہیں یا نہیں۔


ایڈووکیٹ عثمان فاروق سے جب سوال کیا گیا کہ سائبر کرائم یا پیکا قوانین میں متاثرہ فریق کے ساتھ اگر زیاتی کی گئی ہو تو اس کی ریمیڈی کیا ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ سائبر کرائم سے متعلق مقدمات کی تحقیقات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کرتی ہے جو  تحقیقات کے دوران حکام ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کرکے متعلقہ شخص کو طلب کر سکتی ہے، جہاں وہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے ساتھ اپنے حق میں موجود شواہد اور دیگر متعلقہ دستاویزات بھی پیش کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران بعض اوقات متعلقہ شخص کا موبائل فون، لیپ ٹاپ یا دیگر اشیا تحویل میں لے لی جاتی ہیں جب کہ بعض معاملات میں تحقیقاتی حکام کا رویہ ہتک آمیز ہوتا ہے۔

ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے بتایا کہ اگر کسی شخص کو بے بنیاد الزام یا غیر قانونی کارروائی کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہو تو وہ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرکے متعلقہ حکام کی کارروائی کو چیلنج کر سکتا ہے جب کہ مناسب قانونی بنیاد موجود ہونے کی صورت میں عدالت سے حکمِ امتناع یا دیگر متعلقہ ریلیف بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر ایف آئی آر بدنیتی پر مبنی یا قانونی طور پر ناقابلِ جواز ہو تو اسے منسوخ کرانے کے لیے بھی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدالت کے سامنے یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص کے خلاف بدنیتی سے جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا تھا تو متاثرہ شخص حالات اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کرسکتا ہے۔ تاہم، ہرجانے یا کسی دوسرے قانونی ازالے کا حصول متعلقہ شواہد، قانونی تقاضوں اور عدالتی فیصلے پر منحصر ہوگا۔

ضمانت سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے بتایا کہ ضمانت ملنے کا مطلب بریت یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا، ضمانت صرف یہ اجازت دیتی ہے کہ ملزم مقدمے یا تفتیش کے دوران عدالت کی عائد کردہ شرائط کے تابع حراست سے باہر رہ سکے؛ قصوروار یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ مقدمے کے شواہد اور قانونی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے جب این سی سی آئی حکام سے رابطہ کیا گیا اور ان کے سامنے سوالات رکھے گئے، تو ان کی جانب سے اسٹوری پبلش ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
کامران سرور
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔