کیا بوتل بند پانی اور فلٹریشن سسٹم واقعی محفوظ ہیں؟

پینے کے پانی کامحفوظ ہونا صرف اس کی شفافیت یا قیمت سے نہیں، بلکہ سائنسی جانچ اور معیار پر پور ا اترنے سے ثابت ہوتا ہے



پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن پاکستان میں پینے کے صاف اور معیاری پانی تک رسائی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ملک کے کئی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کا معیار پینے کے پانی کے مقررہ معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ یہی وجہ ہے کہ شہری اور دیہی آبادی کی بڑی تعداد گھریلو فلٹریشن سسٹمز، کمرشل واٹر فلٹریشن پلانٹس اور بوتل بند پانی کی طرف رجوع کر رہی ہے۔

گھروں میں ریورس اوسموسس پر مبنی فلٹریشن سسٹمز کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ سسٹمز پانی میں موجود بہت سے حل شدہ نمکیات اور آلودگیوں کو کم کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کی افادیت کا انحصار بہت سی چیزوں پر مشتمل ہے، مثال کے طور پر اگر سسٹم کی جھلی یا دیگر فلٹرز بروقت تبدیل نہ کیے جائیں، ان کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو یا صاف شدہ پانی کو غیر صحت بخش ٹینکوں میں ذخیرہ کیا جائے تو پانی دوبارہ آلودہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایکٹیویٹڈ کاربن فلٹر پانی کے ذائقے اور بو کو بہتر بنانے اور بعض کیمیائی مادوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن ہر قسم کی آلودگی دور نہیں کرتے۔

الٹرا وائلٹ سسٹم جراثیم کو غیر مؤثر کر سکتے ہیں، لیکن پانی میں حل شدہ نمکیات، آرسینک یا دیگر بھاری دھاتوں کو دور نہیں کرتے۔ اسی طرح بہت سارے فلٹر پلانٹس پانی میں حل شدہ نمکیات کی مقدار مطلوب مقدار سے بھی کم لے جاتے ہیں ایسے صورت میں نمکیات کی مصنوعی ملاوٹ کے بغیر یہ سسٹمز صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف مہنگا فلٹریشن سسٹم خرید لینا محفوظ پانی کی ضمانت نہیں ہے۔

دیہی علاقوں میں، خصوصاً نہروں اور کھالوں کے قریب، نصب نلکوں اور ہینڈ پمپوں سے زیرِ زمین پانی حاصل کرنا عام ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نہروں کے قریب دستیاب زیرِ زمین پانی قدرتی طور پر زیادہ صاف ہوتا ہے، کیونکہ نہری پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرتا ہے۔ تاہم صرف نہر کے قریب ہونے کی بنیاد پر زیرِ زمین پانی کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا معیار زمین کی ساخت، زیرِ زمین پانی کی گہرائی، اردگرد زمین کے استعمال اور آلودگی کے ممکنہ ذرائع سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ زرعی کھیتوں سے کھادوں اور دیگر کیمیکلز کا رساؤ، سیوریج کا زمین میں جذب ہونا اور قدرتی طور پر موجود معدنیات زیرِ زمین پانی کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اگرچہ نہری پانی کا رساؤ زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن اس سے پانی کے پینے کے قابل ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔ اس لیے ایسے پانی کو محفوظ قرار دینے سے پہلے اس کا لیبارٹری ٹیسٹ ضروری ہے۔

اسی طرح کمرشل واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی بہت سے گھروں کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ لوگ ان پلانٹس سے گیلن یا بوتلوں میں پانی حاصل کرتے ہیں۔ تاہم صارفین کو اکثر اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ ان پلانٹس میں پانی کہاں سے حاصل کیا جاتا ہے، اسے صاف کرنے کے لیے کون سی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے، فلٹرز کب تبدیل کیے جاتے ہیں اور پانی کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں یا نہیں۔ جدید فلٹریشن ٹیکنالوجی کی موجودگی کے باوجود ناقص دیکھ بھال اور آلودہ ٹینکوں میں پانی ذخیرہ کرنے سے اس کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسے پلانٹس کے پانی کی باقاعدہ جانچ اور مؤثر نگرانی انتہائی اہم ہیں۔

ان تمام ذرائع میں بوتل بند پانی کو سب سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ صارفین اس پانی کے حصول کے لیے بھاری قیمت ادا کرتے ہیں، کیونکہ انہیں توقع ہوتی ہے کہ برانڈڈ بوتل میں فراہم کیا جانے والا پانی مقررہ معیار کے مطابق ہوگا۔ تاہم پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی رپورٹس بوتل بند پانی کے معیار سے متعلق اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز ملک میں دستیاب بوتل بند اور منرل واٹر کے مختلف برانڈز کی سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی کرتا ہے اور اپنی رپورٹس میں ان برانڈز کی نشاندہی کرتا ہے جن کے نمونے مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔

کونسل کی سابقہ سہ ماہی رپورٹس میں بھی بوتل بند پانی کے متعدد برانڈز کے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پرجولائی تا ستمبر 2024 اور اپریل تا جون 2025 کی رپورٹس کے اندر بالترتیب 30 اور 23 برانڈز کو غیر محفوظ قرار دیے جانے کے اعداد و شمار بیان کیے گئے ہیں۔
ان رپورٹس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے: کسی پانی پر معروف برانڈ کا نام، خوب صورت پیکنگ یا زیادہ قیمت درج ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ محفوظ بھی ہے۔ تاہم ان نتائج کا یہ مطلب بھی نہیں کہ بوتل بند پانی کے تمام برانڈز غیر محفوظ ہیں یا کسی ایک سہ ماہی میں غیر محفوظ قرار دیا جانے والا برانڈ ہمیشہ غیر محفوظ ہی رہے گا۔

پانی کا معیار مختلف پیداواری بیچز، نمونے لینے کے مقامات اور نگرانی کے ادوار کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس لیے صارفین کو پرانی یا غیر مصدقہ فہرستوں پر انحصار کرنے کے بجائے تازہ ترین رپورٹس کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کسی برانڈ کے پانی میں آلودگی کی نشاندہی کے بعد متعلقہ ادارے مؤثر کارروائی کریں، اصلاحی اقدامات کی تصدیق کریں اور دوبارہ جانچ کے ذریعے یہ معلوم کریں کہ پانی کا معیار واقعی بہتر ہوا ہے یا نہیں۔

عام طور پر صارفین پانی کی بوتل کے معیار کا اندازہ اس کی پیکنگ، سیل اور لیبل سے لگاتے ہیں، جبکہ پانی کا معیار پیداواری مرکز سے صارف تک پہنچنے کے سفر پربھی منحصر ہے۔ پانی کی حفاظت صرف فیکٹری میں صفائی تک محدود نہیں ہوتی۔بلکہ پیکنگ، نقل و حمل، ذخیرہ کرنے اور استعمال کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر پانی کو آلودہ ماحول میں رکھا جائے، بوتلوں کو غیر مناسب طریقے سے دوبارہ استعمال کیا جائے یا ذخیرہ کرنے کے دوران صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو اس کے منفی اثرات پانی کے معیار پر بھی پڑتے ہیں۔ اسی طرح بوتلوں کو زیادہ درجہ حرارت یا براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

پاکستان میں پینے کے پانی کا مسئلہ صرف اس مشورے سے حل نہیں ہو سکتا کہ لوگ بوتل بند پانی خرید لیں یا گھروں میں فلٹریشن سسٹم نصب کر لیں۔ یہ طریقے بعض حالات میں مفید متبادل ضرور فراہم کر سکتے ہیں، لیکن محفوظ اور قابلِ اعتماد پانی کی فراہمی کے لیے پانی کے ذرائع کی حفاظت، مؤثر صفائی، باقاعدہ لیبارٹری جانچ اور سرکاری نگرانی ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنائیں، فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی مؤثر کریں اور پانی کے معیار سے متعلق نتائج بروقت عوام کے سامنے رکھیں۔ اسی طرح صارفین کو بھی پانی کے معیار کے بارے میں باخبر رہنے اور ضرورت کے مطابق اپنے استعمال کے پانی کی جانچ کروانے کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔

صاف اور محفوظ پینے کا پانی کوئی آسائش نہیں جسے صرف صاحبِ استطاعت افراد ہی حاصل کر سکیں، بلکہ یہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت اور صحت مند معاشرے کی لازمی شرط ہے۔ جب لوگوں کو محفوظ پانی کے حصول کے لیے اپنی آمدنی کا ایک حصہ بوتلوں، فلٹرز اور دیگر متبادل ذرائع پر خرچ کرنا پڑے تو یہ صرف انفرادی انتخاب کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ عوامی صحت اور حکومتی ذمہ داریوں سے جڑا ایک اہم قومی مسئلہ بن جاتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔