دنیا بھر میں لاکھوں ویب سائٹس اور کمپیوٹر نظام پر سائبر حملہ؟ اے آئی نے خامی پکڑلی

2 سنگین سائبر سیکیورٹی خامیوں کے بعد دنیا بھر میں حفاظتی اقدامات شروع، برطانیہ کی 32 سرکاری خدمات عارضی طور پر بند


ویب ڈیسک October 22, 2026
کروڑوں ویب سائٹس کو خطرہ، سائبر سکیورٹی کی خامی کو ’غیر معمولی‘ قرار دے دیا گیا

دنیا بھر میں لاکھوں ویب سائٹس اور کمپیوٹر نظاموں کو متاثر کرنے والی ایک سنگین سائبر سکیورٹی خامی سامنے آئی ہے جسے برطانیہ کے قومی سائبر سکیورٹی مرکز کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے غیر معمولی قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ خامی پی ایچ پی نامی پروگرامنگ زبان میں پائی گئی جو ویب سائٹس اور آن لائن خدمات کی تیاری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ اس خامی کے باعث متاثرہ نظاموں کو سائبر حملوں کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

خطرے سے دوچار تقریباً 90 فیصد نظاموں پر اب تک حفاظتی اصلاحات نافذ نہیں کی گئیں، تاہم فی الحال اس خامی سے فائدہ اٹھا کر حملے کیے جانے یا نظاموں میں نقب لگنے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرے سے دوچار تقریباً 90 فیصد نظاموں پر اب تک حفاظتی اصلاحات نافذ نہیں کی گئیں تاہم فی الحال اس خامی سے فائدہ اٹھا کر حملے کیے جانے یا نظاموں میں نقب لگنے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

مصنوعی ذہانت سے خامی کا پتا چلا

پی ایچ پی میں دو سنگین خامیوں کا پتا مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلایا گیا۔ ان کے ذریعے حملہ آور بعض حالات میں بغیر اجازت ویب سرور پر اپنی ہدایات چلا سکتے اور حساس معلومات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

پی ایچ پی کے منتظمین نے 21 اکتوبر کو ان خامیوں کے تدارک کے لیے حفاظتی اپ ڈیٹس جاری کیں۔ تاہم صورت حال ابتدائی اطلاعات سے زیادہ تشویش ناک ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کلاؤڈ فلیئر نے خامیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد چند گھنٹوں میں لاکھوں حملہ آور کوششیں ریکارڈ کیں۔

وائرڈ کی رپورٹ کے مطابق ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں حفاظتی اصلاحات کے اجرا سے پہلے یعنی 17 اکتوبر سے بھی شروع ہوچکی تھیں۔

برطانیہ اور دیگر ممالک کی آن لائن خدمات متاثر

برطانوی حکومت کے مطابق حفاظتی اقدامات کے باعث 32 سرکاری خدمات عارضی طور پر بند جبکہ چار جزوی طور پر غیر فعال تھیں۔

حکام نے واضح کیا کہ خدمات کی بندش کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ہیک کرلیا گیا ہے۔ کینیڈا سمیت دوسرے ممالک میں بھی بعض آن لائن خدمات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فن لینڈ نے بھی احتیاطاً اپنی سرکاری ویب خدمات عارضی طور پر بند کیں۔

مائیکروسافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طویل عرصے سے اس نوعیت کی صورت حال نہیں دیکھی۔

سائبر سیکیورٹی اداروں نے ویب سائٹس کے منتظمین کو فوری طور پر تازہ حفاظتی اپ ڈیٹس نصب کرنے اور نظاموں کی نگرانی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

برطانیہ کے قومی سائبر سیکیورٹی مرکز نے کہا کہ فوری طور پر تحفظ ممکن نہ ہو تو متاثرہ نظام کو مکمل محفوظ ہونے تک عارضی طور پر بند رکھنے پر غور کیا جائے۔