عالمی شہرت یافتہ آن لائن گیم ’اسٹک رن‘ کے خالق 30 سالہ مینوئل کی لائیو آکر خود سوزی

مینوئل اوٹو نے محض 14 سال کی عمر میں 2010 میں فیس بک کے لیے اسٹک رن گیم تیار کی تھی


ویب ڈیسک October 23, 2026
جرمن گیم ڈویلپر مینوئل اوٹو نے 14 سال کی عمر میں مقبول آن لائن گیم اسٹک رن تیار کی تھی

جرمن گیم ڈویلپر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر مینوئل اوٹو 30 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق ان کی موت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے براہِ راست نشریات کے دوران خودکشی کی تاہم واقعے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اسٹک رن گیم کی انتظامیہ کے ترجمان نے بھی مینوئل اوٹو کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس براہِ راست نشریات کا علم ہے جس میں بظاہر انہوں نے خودسوزی سے اپنی جان لے لی۔

امریکی جریدے پیپل کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی جنوب مشرقی ریاست باویریا میں ایک عمارت میں آگ لگنے کے بعد مینوئل اوٹو کی لاش ملی۔ بتایا گیا ہے کہ ایک پڑوسی نے آگ دیکھ کر اسے بجھانے کی کوشش بھی کی تھی۔

اسٹک رن گیم کی انتظامیہ نے اپنے خالق کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف گیم بنانے والے تھے بلکہ اس کے کھلاڑیوں کی برادری کا بھی حصہ تھے۔ انتظامیہ کے مطابق ان کا کام کھلاڑیوں کی یادوں میں زندہ رہے گا۔

مینوئل اوٹو نے محض 14 سال کی عمر میں 2010 میں فیس بک کے لیے اسٹک رن گیم تیار کی تھی۔ اس کھیل میں کھلاڑی ایک انسانی خاکے جیسے کردار کو رکاوٹوں سے بھرے راستے پر دوڑاتے اور سکے و پوائنٹس جمع کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ گیم دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور اسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور موبائل فونز پر چار کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ مرتبہ کھیلے جانے کا اندازہ ہے۔

گیم کی نشریاتی ویب سائٹ ٹوئچ نے واقعے کے بعد ان کا چینل اور موت کی ویڈیو ہٹا دی۔
پلیٹ فارم نے کہا کہ صارفین کی ذہنی صحت اور فلاح اس کے لیے اہم ہے اور مشکل وقت سے گزرنے والے افراد کو مدد حاصل کرنی چاہیے۔