ایک دفعہ پھر روٹی نہیں تو کیک

عوام کی بھوک اور شاہی خاندان کی بے حسی کی علامت بن جانے والے اس جملے کو اکثر انقلابِ فرانس کے پس منظر میں بیان کیا جاتا ہے


سہیل یعقوب October 23, 2026
sohailyaqoob

’’اگر روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟‘‘ یہ مشہور جملہ عام طور پر فرانس کی ملکہ میری انطوانیت (Marie Antoinette) سے منسوب کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق، جب ملکہ کو بتایا گیا کہ ملک میں غریب عوام کو کھانے کے لیے روٹی بھی میسر نہیں، تو اس نے مبینہ طور پر کہا کہ’’ اگر انھیں روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟ ‘‘عوام کی بھوک اور شاہی خاندان کی بے حسی کی علامت بن جانے والے اس جملے کو اکثر انقلابِ فرانس کے پس منظر میں بیان کیا جاتا ہے۔تاہم، مورخین کے مطابق اس بات کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں کہ یہ الفاظ واقعی ملکہ میری انطوانیت نے کہے تھے۔

یہ جملہ ژاں ژاک روسو (Jean-Jacques Rousseau) کی خودنوشت کتاب ’’کنفیشنز‘‘ (Confessions) میں ملتا ہے، جس کی تحریر کا آغاز 1760ء کی دہائی میں ہوا۔ روسو نے یہ بات ایک ’’عظیم شہزادی‘‘ کے حوالے سے بیان کی تھی، لیکن اس کا میری انطوانیت سے تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔ اس وقت میری انطوانیت کم عمر تھی اور بعد میں فرانس کی ملکہ بنی۔ تاریخی نسبت متنازع ہونے کے باوجود اس جملے کا مفہوم آج بھی حکمران طبقے کی بے خبری اور عوامی مشکلات سے بے حسی کی عکاسی کرتا ہے۔آج اس جملے کو ایک بار پھر یاد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ اس کا جواب ہمیں یورپ کی سڑکوں پر ہونے والے حالیہ مظاہروں میں دکھائی دیتا ہے۔ اکتوبر 2026 میں فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں عوامی بے چینی شدت اختیار کرچکی ہے۔

فرانس میں احتجاج کا آغاز ستمبر میں پیرس کے نواحی علاقوں کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور ناقص سہولیات کے خلاف طلبہ کے مظاہروں سے ہوا۔ بعدازاں، مزدور تنظیمیں اور دوسرے سماجی حلقے بھی اس میں شامل ہوگئے اور مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور سرکاری خدمات میں کمی جیسے مسائل نمایاں ہونے لگے۔فرانس کے مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ اور دکانوں کو لوٹنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ صورت حال سنگین ہوئی تو پیرس کے بعض علاقوں سمیت چند دوسرے شہروں میں محدود پیمانے پر کرفیو نافذ کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ دوسری جانب اٹلی، البانیہ، بیلجیم، پرتگال اور اسپین میں بھی مہنگائی، رہائش کے اخراجات، تعلیمی مسائل اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

ان ممالک میں احتجاج کی وجوہات مختلف ہیں، لیکن ایک بات مشترک ہے، عوام کو محسوس ہونے لگا ہے کہ ان کے بنیادی مسائل کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی جس کے وہ مستحق ہیں۔عوامی احتجاج ہمیشہ کسی انقلاب کا پیش خیمہ نہیں ہوتا، نہ ہی ہر احتجاج کے پیچھے ایک ہی وجہ ہوتی ہے۔ تاہم، جب مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور رہائش جیسے مسائل بیک وقت شدت اختیار کرلیں تو معاشرے میں بے چینی کا بڑھنا فطری ہے۔ خصوصاً اس وقت جب عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہو، لیکن مراعات یافتہ طبقے کے طرزِ زندگی میں کوئی خاص فرق نہ پڑ رہا ہو۔ یہی وہ خلیج ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان وسیع ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کرائے، بجلی، گیس، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کرنے کے باوجود زندگی بہتر بنانے سے قاصر ہیں۔ دوسری طرف ایسے طبقات بھی موجود ہیں جن کے لیے مہنگی ترین اشیا کی خریداری معمول کی بات ہے۔

جب عام آدمی کو محسوس ہو کہ جن اشیا کو وہ زندگی بھر کی محنت کے باوجود نہیں خرید سکتا، وہ کسی دوسرے کے لیے معمولی خریداری ہیں، تو یہ فرق محض دولت کا نہیں رہتا بلکہ احساسِ محرومی اور ناانصافی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ فرانس اور دوسرے یورپی ممالک کے واقعات کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ دکانوں کو لوٹنے اور املاک کو نقصان پہنچانے جیسے اقدامات کسی صورت قابلِ جواز نہیں، کیونکہ ان کا نقصان عام لوگوں اور کاروباری افراد کو بھی اٹھانا پڑتا ہے، لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر معاشرے میں ایسے حالات کیوں پیدا ہوتے ہیں جن میں بعض احتجاج کرنے والے قانون ہاتھ میں لینے پر اتر آتے ہیں؟ ان واقعات کی مذمت اپنی جگہ، مگر ان کے پس منظر میں موجود معاشی اور سماجی مسائل کو نظرانداز کردینا بھی دانش مندی نہیں۔

دنیا کی معیشت کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگائی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضے، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات مختلف ممالک کو متاثر کررہے ہیں۔ اگرچہ ان عوامل کی بنیاد پر کسی عالمی معاشی بحران کی آمد کا حتمی اعلان نہیں کیا جاسکتا، لیکن موجودہ حالات ایک نئے اور سنگین بحران کے خدشات ضرور پیدا کررہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں عوام کو خدشہ ہے کہ سرکاری سہولیات میں کمی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ان کے معیارِ زندگی کو مزید متاثر کریں گے۔ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک میں خوراک، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی عام آدمی کے لیے زندگی مشکل بنا رہا ہے۔ دونوں دنیاؤں کے مسائل مختلف ضرور ہیں، لیکن معاشی پالیسیوں کے اثرات کا بوجھ اکثر انھی لوگوں پر زیادہ پڑتا ہے جن کے پاس ان سے بچنے کے وسائل سب سے کم ہوتے ہیں۔