11اکتوبر2026 بروز اتوار وفاقی حکومت نے آئین کے فریم ورک میں رہتے ہُوئے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ختم کر دی۔(سابق) وزیر اعلیٰ اور اُن کی حکومت پر جو بھی اور جتنے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں۔ گیارہ اکتوبر کو حکومت نے KPKمیں ایمرجنسی اور گورنر راج ، دونوں بیک وقت نافذ کیے ۔ اِس اقدام کی ، ملک بھر میں ، حمائت بھی کی گئی ہے اور مخالفت بھی ۔ حمائت اور مخالفت میں کس کا پلّہ بھاری ہے ، اِس ضمن میں کچھ بھی حتمی طور پر کہنا سہل نہیں ہے۔
اِس اقدام کے تین دن بعد ، 13اکتوبر کو، ایوانِ بالا کے معروف رکن ، جناب فیصل واوڈا ، نے اسلام آباد میں ایک تفصیلی اور تہلکہ خیز پریس کانفرنس کی۔ سینیٹر واوڈا صاحب کی ویسے ہر پریس کانفرنس ہی دھماکہ دار ہوتی ہے ۔ اِس میں سننے اور دیکھنے والوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہوتی ہیں ۔ 13اکتوبر کی پریس کانفرنس کی ہر جانب، ہنوذ، بڑی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ مذکورہ پریس کانفرنس کو بین السطور انتباہی (warning) پریس کانفرنس بھی کہا جا سکتا ہے۔ اِس بات سے قطعِ نظر کہ فیصل واوڈا صاحب کس کی ترجمانی کررہے ہیں!
اِس پریس کانفرنس پر ہمارے معتبر مبصر و تجزیہ نگار، جناب ایاز خان ، نے ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے ٹاک شو RUNDOWNمیں کہا: ’’ فیصل واوڈا کی گفتگو میں دو چیزیں اہم ہیں ۔ ایک تو یہ کہ (KPKمیں لایا جانے والا) نیا(11رکنی) سیٹ اَپ عارضی ہے اور اِسے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے ، اور دوسرا یہ کہ اُنھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں پارٹ وَن ، ٹُو ، تھری ، ری بوٹ اور ری سیٹ کی جو بات کی ہے ، یہ دراصل محسن نقوی صاحب کی کہی گئی بات ہی کو دہرایا گیا ہے ۔فیصل واوڈا نے صاف بتا دیا ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے ۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ ہم فیصل واوڈا صاحب کی انتباہی پریس کانفرنس کے بین السطور میں یہ منظر بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آیندہ ملک میں نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس کے معرضِ عمل میں لائے جانے کی منزل کتنی دُور رہ گئی ہے۔ عنوانات بظاہر یہ ہیں کہ یہ ’’منزل‘‘ تو بہرحال حاصل کرنی ہے۔ خواہ پیپلز پارٹی اور اِس کی قیادت ، بظاہر اور بباطن ، خصوصاً، کتنی ہی مخالفتیں کرتی رہے۔ کتنی ہی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ناکام کوششیں کرتی رہے۔ اس دریا کے پار اُترنا ہی اُترنا ہے ۔ اگر سیاسی اقتدار حاصل کرنے والوں نے ووٹ اور عوام کی توقیر و تحریم کی ہوتی تو آج اُنہیں پسپائی ہوتی نہ اُنہیں جمہوریت پسند عوام کے سامنے نظریں ہی جھکانا پڑتیں ۔
باون سالہ سینیٹر فیصل واوڈا صاحب باکمال، حیران کن اور پُر اسرار شخصیت ہیں ۔ کراچی کی اتک بزنس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ امریکا میں پیدا ہُوئے ، مگر پاکستانی سیاست میں نام پیدا کیا ۔ بانی پی ٹی آئی کے مقربین میں شمار کیے جاتے رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ایم این اے منتخب ہُوئے اور پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت میں وفاقی وزیر بنائے گئے۔ پہلے بھی ایک بار سینیٹر منتخب ہُوئے تھے ، مگر پھر دوہری شہریت کے معاملے پر عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیئے گئے تو اِس نشست سے محروم ہو گئے۔ آج وہ، معروف معنوں میں، پی ٹی آئی سے باہر ہیں ۔اِس کے باوجود مگروہ سینیٹ کے رکن منتخب ہو گئے ۔ یہ واقعہ مگر انوکھا ، منفرد اور حیران کن نہیں ہے ۔ وطنِ عزیز کے سماجی اور سیاسی حالات میں بعض با اثر افرادایوانِ بالا کے رکن بھی بن جاتے ہیں ۔ واوڈا صاحب واحد اور اکلوتی مثال نہیں ہیں ۔
سینیٹر فیصل واوڈا صاحب نے انتباہی کانفرنس کی تو بہت سی حکومتی شخصیات بھی اِس پر تبصرہ کرنے سے گریز پا اختیار کرتی دکھائی دیں ۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم صاحب کے مشیرِ سیاسی امور جناب رانا ثناء اللہ صاحب ۔ رانا صاحب سے اِسی انتباہی پریس کانفرنس بارے استفسار کیا گیا تو وہ صحافیوں کو چکمہ دے گئے ۔ آج سے 10روز قبل جب واوڈا صاحب نے دھواں دار پریس کانفرنس کی تو اسی روز ممتاز مذہبی رہنما اور JUIFکے سربراہ، حضرت مولانا فضل الرحمن، نے بھی پریس کانفرنس کی تھی ۔ مولانا صاحب کی پریس کانفرنس مگر دو چار منٹ بعد ہی نجی ٹی ویوں کی اسکرینوں سے غائب ہو گئی ، مگر سینیٹر واوڈا صاحب کی انتباہی پریس کانفرنس کو زیادہ کوریج دی گئی۔
مذکورہ پریس کانفرنس یک رُخی نہیں ، بلکہ Multi Dimensionsکی حامل گردانی گئی ہے۔ مثال کے طور پر (۱) ایک معنی یہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو قانون KPKمیں بروئے کار آیا ہے ، وہ کسی دوسرے صوبے میں بھی اپنا چہرہ دکھا سکتا ہے (۲) KPKکے بعد ابھی مزید کئی فیز آنے والے ہیں (۳) خیبر پختونخوا کی ایڈوائزری کونسل کے ارکان یہ نہ سمجھیں کہ مستقل ہیں (۴) گورنر KPK کے پاس 180 دن ہیں۔ اِنہی ایام میں وہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں، بصورتِ دیگر؟ تینوں صوبوں کے عوام اور بالخصوص پی ٹی آئی کے محبان ، گورنر شپ اور ایڈوائزری کونسل پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
مذکورہ دھواں دھار پریس کانفرنس کے چند دن بعد وہ اسلام آباد کے پریس کلب میں تشریف لائے تو کئی صحافیوں نے اُن سے اُن کی ری بُوٹ کی سیاست بارے استفسار کیا تو وہ بِلا جھجک اور بے حجاب اپنی اِس اختیار کردہ سیاست کا دفاع کرتے رہے۔ کوئی راضی رہے یا ناراض ہو، واوڈا صاحب اپنے سیاسی اسلوب سے انجوائے بھی کررہے ہیں اور حسبِ دلخواہ بھرپور استفادہ بھی ۔ شائد اِسی لیے ایک حکومتی رکن کے یہ الفاظ خاصے قابلِ غور ہیں:’’ فیصل واوڈا کی ہر پریس کانفرنس میں کسی نہ کسی کو وارننگ ہی ہوتی ہے۔‘‘تازہ پریس کانفرنس میں بھی موصوف نے پاکستانی سیاست کو کئی انتباہات کیے ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک مقام پر گفتگو کرتے ہوئے امریکا و اسرائیل کی گہری دوستی کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے کہا کہ امریکی عوام کا اسرائیل کے بارے میں نقطہ نظر بدل رہا ہے اور اسرائیل امریکی عوام میں اپنی حمایت کھو رہا ہے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے عوام پر جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں اور جس طرح معصوموں کے قتلِ عام کا ارتکاب کیا ہے اس سے پورے مغرب میں اسرائیل اور خاص کر نتن یاہو کی حکومت کے بارے میں بہت منفی تاثر ابھرا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ غزہ کے دکھی مظلوموں کے حق میں کئی ایک امریکی یونیورسٹیوں کے طلباء نے مار کھا کر بھی احتجاجی کیمپس لگائے۔اسی طرح لندن اور دوسرے یورپی دارالحکومتوں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔مسلمان ممالک میں تو کوئی قابلِ ذکر احتجاج نہیں ہوا لیکن پورا مغرب سراپا احتجاج بنا رہا۔مغرب میں لوگ آہستہ آہستہ یہودی کریکٹر سے آگاہ ہو رہے ہیں لیکن یہ کوئی نیا Phenomenonبھی نہیں ہوگا۔اگر تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو یورپ کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں سے یہودیوں کو نہ نکالا گیا ہو۔مغرب اب بھی خائف ہے کہ اسرائیلی ریاست اگر ناکام ہوئی تو ہودی ایک بار پھر یورپ کا رُخ کریں گے اور یہ مغرب کو منظور نہیں۔اسی خطرے کے پیشِ نظر پورا مغرب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی ریاست کی پشت پر کھڑا ہے۔
یہودی بہت شاطر ہیں اور بہت دور کی سوچتے ہیں۔ابھی حال ہی میں اسرائیل کے ایک چوٹی کے تھنک ٹینک کے اہم رکن میجر جنرلHeyson ہیسن نے ایک آرٹیکل لکھ کر آیندہ آنے والے دنوں میں اسرائیل کی جنگ اور سیکیورٹی کے حوالے سے نئی ڈاکٹرائن کے خدوخال واضح کیے ہیں۔میجر جنرل ہیسن کی رائے میں مشرقِ وسطیٰ میں صرف ایک ملک ہے جہاں جمہوریت ہے ،جو ایک مکمل نیشن اسٹیٹ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہے۔ میجر جنرل ہیسن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اردگرد مشرقِ وسطیٰ میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو نیشن اسٹیٹ کی تعریف پر پورا اترتا ہو۔
ہیسن کے مطابق اکثر عرب ممالک یا تو مختلف قبائل کا مجموعہ ہیں ، یاپھر یہ ممالک ایک لسانی گروہی اکائی ہیں۔یہ کہ مشرقِ وسطیٰ خاص کر عرب ممالک میں حقیقی جمہوریت کہیں بھی نظر نہیں آتی اور عوام کا حکومت یا حکومتی امور سے دور دور بھی کوئی واسطہ نہیں۔اکثر عرب حکومتیں عوام سے کوئی رابطہ نہیں رکھتیں اور کسی عوامی امنگ کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ میجر جنرل نے اپنے آرٹیکل میں مزید کہا کہ اسرائیل کو علاقے میں امن کے لیے نہ تو کوشش کرنی چاہیے اور نہ ہی دو ریاستی حل کی جانب قدم بڑھانا چاہیے۔
اسرائیل کے چوٹی کے تھنک ٹینک کے اس فوجی رکن نے ایک چونکا دینے والی ایسی بات کہی ہے جس پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔امریکا نے اب تک اپنے ہر عمل سے ثابت کیا ہے کہ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد سے لے کر اس کی سلامتی امریکی داخلی و خارجی پالیسی کا بہت بنیادی آرٹیکل ہے۔امریکا ہمیشہ اسرائیل کی پشت پر نہ صرف خود کھڑا رہا بلکہ اپنے اتحادیوں کو اسرائیل کی ہر ممکن مدد پر آمادہ کرتا رہا۔ امریکا کی غیر مشروط حمایت کی وجہ سے اسرائیل کو اپنے اردگرد علاقے کے ممالک پر ایک فوقیت اور برتری حاصل رہی۔اسے نہ تو کبھی جدید ترین مہلک ہتھیاروں کی کسی کمی کا سامنا رہا اور نہ ہی یہ ملک کبھی معاشی مشکل میں پڑا۔ایسے میں اسرائیلی جنرل کی نئی سیکیورٹی ڈاکٹرائن کے خدوخال چونکا دینے والے اورحیران کن ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ حالات کروٹ لے رہے ہیں اور بین الاقوامی لینڈسکیپ بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ان حالات میں اسرائیل کے لیے نئی سیکیورٹی ڈاکٹرائن بہت ضروری ہے۔
میجر جنرل ہیسن کے آرٹیکل کا پانچواں پوائنٹ بہت اہم ہے اس کے تحت اسرائیل نے ابھی سے امریکا کو ایک Declining یعنی گرتی قوت کے طور کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلیوں کو احساس ہو چلا ہے کہ امریکا اب دنیا کی سب سے غالب قوت نہیں رہا اور بین الاقوامی اسٹیج پر اس کی خود کو منوانے کی صلاحیت میں بہت بڑا Dentپڑ چکا ہے۔میجر جنرل ہیسن نے ایڈووکیٹ کیا ہے کہ اسرائیل کو جلد از جلد امریکی دم چھلے کی حیثیت سے خود کو الگ کر لینا چاہیے۔امریکا سے دوری کر لینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں۔ اسرائیل کو ایک گرتی قوت کے سہارے اب مزید نہیں رہنا چاہیے۔
اگر امریکا اپنی تمام تر نظر آنے والی سپر پاور کے باوجود بدلتےscenarioمیں معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا،اگر وہ ایران پر کئی حملوں کے بعد بھی اسے جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتا تو یہ امریکی قوت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے حالانکہ ایران کے پاس نہ تو کوئی قابلِ ذکر نیوی ہے اور فضائیہ تو ہے ہی نہیں۔ایسے میں امریکا کاہے کی سپر پاور ہے اور اسرائیل کیوں اس کے سہارے کھڑا رہے۔ میجر جنرل نے مزید کہا کہ بہت جلد امریکا اسرائیل کو Abandonکر دے گا۔اس لیے اسرائیل کو پہل کر لینی چاہیے۔
میجر جنرل ہیسن نے مزید لکھا کہ اب تک تو امریکی چھتری تلے اسرائیل کو فائدہ تھا جب کہ مستقبل میں امریکا ایک Liabilityہوگا۔اس کے ساتھ امریکی معاشرہ بنیادی یہودی اقدار سے متصادم ہے۔امریکی معاشرہ لبرل اقدار اور مادر پدر آزاد معاشرہ ہے جہاں کوئی اخلاقی کوڈ نہیں۔یہ دونوں باتیں یہودی اقدار سے متصادم ہیں اس لیے اسرائیل کیوں گرتی قوت والے غیر اخلاقی معاشرے کی پرواہ کرے ۔اسرائیلی تھنک ٹینک کے اس اہم رکن نے اپنے آرٹیکل کے آخر میں یہ نتیجہ نکالا کہSevering ties with US is not only inevitable but essentialتاکہ اسرائیل کی آزاد حیثیت کو برقرار رکھا جا سکے اور یہودیوں کے اندر مزاحمت کی جو روایت موجود ہے اس کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔
اگر دیکھا جائے تو آٹھ دہائیوں سے اوپر امریکا کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ محض طاقت و قوت کے بل بوتے پر اقدامات اُٹھاتا رہا ہے اور اسرائیل کے علاوہ کسی کی نہیں سنتا۔چین کے عالمی قوت بننے، اور ایران کے ساتھ خواہ مخواہ کی جنگ نے امریکی غلبے کے خلاف کام کیا۔صدر ٹرمپ نے دوسری بار عہدۂ صدارت سنبھالتے ہی ساری دنیا پر ٹیرف بڑھا دئے لیکن جب چین نے جواب میں ٹیرف لگائے تو صدر ٹرمپ ڈھیلے پڑنے لگے۔صدر ٹرمپ نے یورپ اور کینیڈا کو سخت سست کہا۔ اسی لیے جب انھیں ایران کے خلاف جنگ میں یورپ اور کینیڈا کی مدد درکار تھی تو مدد اس طرح نہ آئی جس طرح امریکا کو توقع تھی۔ امریکا اور روس سرد جنگ کے ایام سے متحارب قوتیں رہی ہیں۔روس کو خطرے میں ڈالنے کے لیے یورپین یونین اور نیٹو کی سرحدیں روس کے قریب پہنچا دی گئیں۔
روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکا نے اپنے اسلحہ کے ذخائر یوکرین کے لیے کھول دئے اور بے پناہ مالی مدد کی لیکن روس پیچھے نہیں ہٹا تو امریکا نے یوکرینی صدر کی مدد سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا اور اب تو صدر ٹرمپ کھلم کھلا صدر زیلنسکی پر تنقید کر رہے ہیں۔امریکا اب یوکرین جنگ سے اکتا چکا ہے اور کوشش کر رہا ہے روس یہ جنگ بند کرے۔پہلے روس پر پابندیاں عائد کی جا رہی تھیں جب کہ حالیہ دنوں میں روس سے ایک بڑی مقدار میں ڈیزل کی خریداری کا معاہدہ کر لیا ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں روس اور چین کے صدور کے ساتھ سربراہی ملاقات کے لیے تیار ہیں۔کچھ عرصہ پہلے تک چین کے بڑھتے عالمی اثر و رسوخ کے سامنے بند باندھنے کے لیے انڈیا کو تیار کیا جا رہا تھا لیکن اب اس حوالے سے کوئی بات سننے میں نہیں آ رہی اور صدر شی کے امریکا کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ چین امریکا کی ہم پلہ قوت و طاقت ہے۔
عالمی سطح پر جو بھی ہو لیکن امریکا اور اسرائیل کا بہت ہی قریبی تعلق اور بہت ہی مضبوط بندھن ہے۔ اسرائیل کا یہ سوچنا کہ اسے نئی سیکیورٹی ڈاکٹرائن اپنانی ہوگی اور امریکا سے دوری اختیار کرنی ہوگی،یہ بہت ہی اہم شفٹ ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ اسرائیل کے اندر سے امریکا سے دوری اختیار کرنے کی آوازیں اُٹھیں گی۔اسرائیلی فوج کے اس اعلیٰ عہدیدار کا یہ تجویز کرنا کہ امریکا ایک گرتی ہوئی قوت ہے اور اسرائیل کو امریکا سے الگ ہو کر اپنی آزاد حیثیت کو منوانا ہوگا،ایک بہت اہم پیش رفت ہے۔اسرائیلیوں کا یہ اندازہ لگانا کہ امریکا اپنا سپر پاور کا مقام کھو رہا ہے اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ واقعی امریکی سپر پاور کے دن گنے جا چکے ہیں۔بہر حال یہ خیال کرنا کہ امریکی قوت جلد ہی ختم ہو جائے گی،ایک غلط اندازہ ہوگا۔یہ عمارت گرتے گرتے گرے گی اور شاید چند دہائیاں لگیں۔
27اکتوبر کو اسرائیل میں عام انتخابات ہو رہے ہیں اور 4نومبر کو امریکی مڈ ٹرم الیکشن۔دیکھتے ہیں امریکی اور اسرائیلی عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں۔