غیر ملکی خاتون ڈیانا سے زیادتی کے مقدمے میں سیشن کورٹ نے ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی، تاہم پولیس نے ضمانت میں توسیع کے باوجود ملزم کو احاطہ عدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا۔ ملزم تنویر کے بھائی سمیت چند دیگر افراد کو بھی گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ملزم تنویر کی جانب سے ایڈووکیٹ صفدر شاہین پیرزادہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تنویر کو گرفتار کرنے کے لیے سیشن کورٹ کے چاروں اطراف پولیس تعینات تھی اور انہیں خدشہ ہے کہ ملزم کو کسی نئے مقدمے میں پھنسا کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی خاتون ڈیانا کے وکیل نے مدعیہ کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کی درخواست دائر کردی۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعیہ کو پاکستان کا ویزا نہیں دیا جا رہا، لہٰذا عدالت ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے درخواست پر دلائل طلب کرلیے۔
سماعت کے دوران عدالت نے سیشن کورٹ کے سکیورٹی انچارج کو طلب کرکے ملزم کو گاڑی تک بحفاظت پہنچانے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ گاڑی تک سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے، اس سے آگے ملزم خود جانے اور پولیس جانے۔
دوسری جانب ملزم تنویر کی گرفتاری کے خلاف درخواست بھی دائر کردی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم 27 اکتوبر تک عبوری ضمانت پر تھا، تاہم سی سی ڈی اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے اسے اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملزم کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملزم تنویر کو فوری بازیاب کراکے عدالت میں پیش کیا جائے اور اس کی سکیورٹی کے احکامات جاری کیے جائیں۔
ملزم تنویر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت بھی حاصل کر رکھی تھی۔ اس مقدمے میں دو ملزمان محسن اور زین پہلے ہی گرفتار ہیں۔ ڈیانا کی رپورٹ پر ڈیفنس سی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔
دوسری جانب متاثرہ خاتون ڈیانا نے اپنا ویڈیو بیان جاری کردیا جس میں اس نے احمد تنویر نامی ملزم کو بے گناہ قرار دے دیا۔
ڈیانا نے کہا کہ احمد تنویر نے میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ، احمد تنویر نے میرا موبائل اور سامان واپس دے دیا تھا، ڈیانا نے اس کیس کو بھی ختم کرنے کی اپیل کی۔
آزربائجان کیس میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر رکھا ہے، احمد تنویر قبل از گرفتاری ضمانت لے کر آج عدالت پیش ہوا۔
پولیس کے مطابق ملزم ساتھیوں کے مدد سے فرار ہوگیا، احمد تنویر کے ساتھیوں کے مطابق تفتیشی اداروں نے اسے گرفتار کرلیا۔