میر رضا قتل کیس؛ پولیس افسران و اہل کاروں کے خلاف کارروائی شروع

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر محکمہ داخلہ سندھ نے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی


اسٹاف رپورٹر October 24, 2026

کراچی:

میر رضا علی قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر محکمہ داخلہ سندھ نے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات اور کابینہ کی سب کمیٹی کی سفارشات آئی جی سندھ کو ارسال کر دی گئی ہیں، جبکہ محکمہ داخلہ نے سیکرٹری صحت کو بھی خط لکھا ہے۔  جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کابینہ کی سب کمیٹی نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانے اور دو سالہ تربیت کی تجویز دی ہے۔

علاوہ ازیں محکمہ داخلہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے سینئر افسر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو ایف آئی اے کے افسر کی نامزدگی کے لیے خط ارسال کر دیا ہے جس میں گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسر کو کمیٹی کا سربراہ بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔  مجوزہ کمیٹی میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ بھی شامل ہوں گے۔

اُدھر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک پر مشتمل ایک رکنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق ذوالفقار لاڑک جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں نامزد ہر پولیس افسر و اہلکار کے کردار کا جائزہ لیں گے، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کمیٹی کی معاونت کریں گے۔

کمیٹی کا دائرہ کار چار ٹی او آرز پر ہوگا، جس میں نامزد افسران و اہلکاروں کی مجموعی پولیسنگ کارکردگی کا جائزہ، درج کردہ مخصوص مشاہدات کی روشنی میں صلاحیتوں اور کارکردگی کا تعین، جائے وقوع کو جلائے جانے کے معاملے میں انسپکٹر غوث کے کردار کی مزید تحقیقات اور رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرنا شامل ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی جانب سے کوئی قابل ذکر کوتاہی سامنے نہیں آئی، تاہم تفتیشی ٹیم کے ارکان نے انہیں مایوس کیا۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ان کے خلاف مزید کارروائی کی ضرورت نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈی آئی جی عامر فاروقی کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ وہ نہایت قابل افسر ہیں لیکن انہوں نے صلاحیت کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا، ان کا نقطہ نظر محدود اور غیر جامع ہے، بعض پہلوؤں میں پیشہ ورانہ غفلت پائی گئی، انہوں نے تفتیش کی ذمہ داری اپنے ذمے لینے کے بجائے دوسروں پر چھوڑ دی، سینئر افسران کو بہت زیادہ احترام دیا اور سوال نامے انہی کو بھیج دیے۔

ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے، ان کے جوابات مبہم، غیر سنجیدہ اور روایتی نوعیت کے تھے، اگر حقائق سامنے آنے کے بعد بھی ڈی آئی جی فاروقی اپنی تفتیش سے مطمئن ہیں تو یہ انتہائی تشویش کا باعث ہے اور حقائق سے انکار کے مترادف ہے۔  کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ان کے مشاہدات متعلقہ افسر کو پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈی آئی جی فرخ لنجار کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ ان میں قائدانہ صلاحیتوں اور نگرانی کا فقدان ہے، انہوں نے غیر سنجیدہ اور لاپروائی کا رویہ اختیار کیا۔ بطور ڈی آئی جی ایسٹ یہ بالآخر ان کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے ذمہ داری ادا نہیں کی۔

ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو میں بھی قائدانہ صلاحیتوں اور نگرانی کا فقدان ہے، غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، تفتیش میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا گیا، مقدمے کے قانونی پہلوؤں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، انہیں تربیت کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے اپنی کوتاہیوں کا خوش دلی سے اعتراف کیا، ان کی تفتیشی تربیت کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمیشن کے مطابق ایس ایچ او عدیل افضل نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، ان کے خلاف جامع انکوائری شروع کی جائے جس کے نتیجے میں انہیں ملازمت سے برطرف کیا جانا چاہیے، عبوری طور پر معطل کر کے پوچھ گچھ کی جائے کہ انہوں نے اہم شواہد تلف کرنے میں سہولت فراہم کی تھی۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے انہیں موجودہ عہدے سے ہٹا کر معطل کرنے اور آئی جی سندھ کی جانب سے مقرر کردہ افسر کے ذریعے انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سب انسپکٹر شبیر لغاری نے بھی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، ان کے خلاف جامع محکمانہ کارروائی شروع کر کے ملازمت سے برطرف کیا جانا چاہیے، عبوری طور پر معطل کیا جائے، ذیلی کمیٹی نے تبادلہ اور محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

ایس ایچ او کامران قریشی نے غیر پیشہ ورانہ اور غیر قانونی طرز عمل اختیار کیا، انہیں ایس ایچ او کی ذمہ داری سے ہٹایا جانا چاہیے، جامع محکمانہ کارروائی شروع کی جائے اور پوچھ گچھ کی جائے کہ آیا انہوں نے اہم شواہد تلف کرنے میں سہولت فراہم کی تھی۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے انہیں معطل کرنے اور ایف آئی اے افسر کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی اور اے آئی جی کی سربراہی میں قائم ایک رکنی کمیٹی سے مزید تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیشن کے مطابق ڈی ایس پی سراج لاشاری قابل افسر ہیں لیکن اس مقدمے میں مناسب کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا، اہم سراغ نظرانداز کیے، سابقہ تحقیقات کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی سوال اٹھایا، نقطہ نظر محدود اور غیر جامع تھا، ریکارڈ بیانات سے غور و فکر کا فقدان ظاہر ہوتا ہے، ’یہی طریقہ کار رائج ہے‘ کی بنیاد پر کوتاہیوں کو جائز قرار دیا گیا، مجموعی طور پر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا گیا، ان سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے ایس پی ندا جنید نے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا، انہیں تربیت کی ضرورت ہے، ان کے کردار کے بارے میں کسی بھی شبہ کو دور کرنے کے لیے ایک ایسے شخص کے ساتھ ان کے تعلق کی تحقیقات ضروری ہیں جو اس معاملے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ ان سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔

انسپکٹر غوث نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، انہیں معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کرنے اور جائے وقوعہ کو جلانے پر ان کے کردار کی مزید تحقیقات ایف آئی اے اور ایک رکنی کمیٹی سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمیشن نے ہیڈ محرر ذیشان اور پولیس کانسٹیبل محمد عارف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ذیشان کے ریکارڈ بیان کی بنیاد پر وہ واحد اہلکار ہیں جنہوں نے سندھ پولیس کا نام روشن کیا۔ محمد عارف محنتی، مستعد اور بھرپور توانائی کے ساتھ کام کرنے والے اہلکار ہیں، دونوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، ان کی خدمات کو سراہا جائے اور تربیت کا انتظام کیا جائے۔

ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ اور ایس پی ایسٹ عثمان سدوزئی کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ وقت کی کمی کے باعث انہیں طلب کر کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے جا سکے تاہم اس میں بہت کم شبہ ہے کہ انہوں نے مقدمے کے ساتھ غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا، ان کے مشاہدات دونوں افسران کو پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔