مخدوش عمارتیں، طلبہ کی سلامتی

پشاور کا یہ افسوس ناک واقعہ ہم سب سے تقاضا کرتا ہے کہ بچوں کی حفاظت کو وقتی بحث بننے نہ دیا جائے



تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسکول وہ مقام ہے جہاں بچے علم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے خواب لے کر پہنچتے ہیں۔

والدین اپنے بچوں کو اس امید کے ساتھ تعلیمی اداروں کے سپرد کرتے ہیں کہ وہاں انھیں محفوظ ماحول، معیاری تعلیم اور بہتر مستقبل کی بنیاد میسر آئے گی، لیکن جب یہی اسکول بچوں کے لیے خطرے کا باعث بن جائیں اور تعلیمی اداروں کی عمارتیں ان کی زندگیوں کے لیے سوالیہ نشان بن جائیں تو یہ صورتِ حال محض ایک حادثہ نہیں رہتی بلکہ پورے نظامِ تعلیم، انتظامی نگرانی اور اجتماعی ذمے داری کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا افسوس ناک واقعہ بھی اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی جان و سلامتی کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔15 اکتوبر 2026 کو پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت کی چھت گرنے کے حادثے نے ملک بھر میں غم و اندوہ کی فضا پیدا کر دی۔

صوبائی ادارہ آفات کی ابتدائی صورتِ حال کی رپورٹ میں 30 اموات اور 58 افراد کے زخمی ہونے کا اندراج کیا گیا، جب کہ بعد کی مختلف خبروں میں جانی نقصان کی تعداد مختلف بتائی گئی۔ اس لیے درست اعداد و شمار کے لیے حتمی سرکاری رپورٹ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

تاہم اس سانحے کی سنگینی کسی عدد کی محتاج نہیں۔ ہر بچے کی موت ایک خاندان کے خوابوں کے بکھر جانے کے مترادف ہے۔ جن گھروں میں بچوں کی ہنسی، ان کے مستقبل کے منصوبوں اور تعلیم کے حوالے سے امیدوں کی باتیں ہوتی تھیں، وہاں اچانک غم اور خاموشی نے جگہ لے لی۔

والدین اپنے بچوں کو اسکول اس اعتماد کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرکے بحفاظت واپس آئیں گے، لیکن جب کوئی بچہ گھر واپس نہ پہنچے تو یہ دکھ زندگی بھر کا زخم بن جاتا ہے۔پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبے کے تحت ہزاروں تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ یہ ادارے نئی نسل کو تعلیم فراہم کرنے اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اسکول کا قیام صرف کلاس رومز، فرنیچر، تختہ سیاہ اور کتابوں کی فراہمی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

ایک محفوظ تعلیمی ادارے کے لیے عمارت کی مضبوطی، مناسب روشنی اور ہوا، صاف پانی، محفوظ برقی نظام، ہنگامی اخراج کے راستے اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات بھی ضروری ہیں۔ عمارت کی چھت، ستونوں، دیواروں اور سیڑھیوں کا باقاعدگی سے معائنہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی حصے میں دراڑیں پڑ جائیں، چھت سے پانی رسنے لگے یا عمارت کے کمزور ہونے کی علامات ظاہر ہوں تو انھیں معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ایسی صورت میں مستند تعمیراتی ماہرین سے معائنہ کرانا اور ضروری مرمت فوری طور پر مکمل کرنا اسکول انتظامیہ کی بنیادی ذمے داری ہے۔تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ محکموں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔

اسکولوں کی رجسٹریشن کے وقت صرف کاغذی کارروائی مکمل کرنا کافی نہیں ہونا چاہیے بلکہ عمارت کے معیار، طلبہ کی تعداد کے مطابق گنجائش اور حفاظتی انتظامات کا عملی جائزہ بھی ضروری ہے۔

رجسٹریشن کے بعد بھی مقررہ وقفوں سے معائنہ ہونا چاہیے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہونے والی خرابیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے، اگر کسی ادارے کی عمارت بچوں کے لیے غیر محفوظ قرار پائے تو انتظامیہ کو واضح ہدایات دی جائیں اور خامیاں دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

سنگین خطرے کی صورت میں بچوں کو وہاں بٹھاتے رہنا کسی بھی طور مناسب نہیں۔ متعلقہ حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ حفاظتی معیار پورا کیے بغیر کسی تعلیمی ادارے کی عمارت بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال نہ ہو۔پشاور کے سانحے کے بعد خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کے حفاظتی معائنے اور ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق اقدامات کی اطلاعات سامنے آئیں۔

صوبائی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ ان اقدامات کو محض وقتی رد عمل تک محدود نہ رکھے بلکہ انھیں مستقل نظام کا حصہ بنائے۔ تمام اسکولوں کی عمارتوں کا جائزہ لیا جائے، معائنے کے نتائج محفوظ کیے جائیں اور خطرناک خامیوں کو دور کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے۔ جہاں عمارت کی حالت تشویش ناک ہو وہاں ماہرین کی رائے کے مطابق مناسب فیصلہ کیا جائے۔

اگر کسی عمارت کو فوری طور پر محفوظ بنانا ممکن نہ ہو تو بچوں کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہوئے متبادل انتظام کیا جائے۔ اس عمل میں سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہر بچے کی زندگی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ تعلیم کو محض کاروباری سرگرمی سمجھنے کے بجائے ایک سماجی ذمے داری کے طور پر لیا جائے۔

نجی اسکولوں کی فیسیں، انتظامی اخراجات اور تعلیمی سہولتیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن بچوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ اسکول انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ عمارت کی دیکھ بھال کے لیے مناسب وسائل مختص کرے، مستند ماہرین سے معائنہ کرائے اور خطرناک خامیوں کو فوری دور کرے۔

اسی طرح سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے بھی مستقل منصوبہ بندی اور مناسب مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے، اگر کسی عمارت کی حالت اتنی خراب ہو کہ معمول کی مرمت سے مسئلہ حل نہ ہو سکے تو متبادل عمارت یا مناسب عارضی انتظام کیا جانا چاہیے، تاکہ بچوں کی تعلیم بھی جاری رہے اور ان کی جان بھی خطرے میں نہ پڑے۔

حکومت اور تعلیمی انتظامیہ کے پاس عمارتوں کا معائنہ کرنے، ضوابط نافذ کرنے اور حفاظتی خامیوں کو دور کرانے کے لیے اختیارات اور ذمے داریاں موجود ہیں۔ والدین کی شکایات کو سنجیدگی سے سننا، ان کا بروقت جائزہ لینا اور مناسب کارروائی کرنا ضروری ہے۔ خطرے کی بروقت نشاندہی کسی بڑے حادثے کو روکنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس سانحے میں متاثرہ خاندانوں کی مدد بھی فوری توجہ کی مستحق ہے۔ زخمی بچوں کو معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنا، ان کی بحالی میں معاونت کرنا اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ کی ضروریات کا خیال رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی اہم ذمے داری ہے۔

ایسے حادثات کے بعد بچوں اور ان کے خاندانوں کو ذہنی صدمے سے نکلنے کے لیے بھی تعاون درکار ہو سکتا ہے۔ امداد کی فراہمی کو محض ابتدائی اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ متاثرہ خاندانوں کی حقیقی ضروریات کا جائزہ لے کر مناسب مدد یقینی بنائی جانی چاہیے۔

اسی طرح تحقیقاتی کارروائی میں پیش رفت کے بارے میں متاثرہ خاندانوں کو مناسب معلومات فراہم کرنا اور ان کے قانونی حقوق کا احترام کرنا بھی اہم ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ حادثے کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور ذمے داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جائے۔ اسکول کی عمارت محض اینٹ، سیمنٹ، سریے اور چھت کا نام نہیں، بلکہ وہ بچوں کی امیدوں، والدین کے اعتماد اور قوم کے مستقبل کی علامت ہے۔

کسی بھی ملک کی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتیں، بڑے منصوبے یا معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہاں بچوں کی زندگی، صحت اور تعلیم کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔ تعلیم کا حق اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب بچے خوف اور خطرے کے بغیر سیکھ سکیں، اگر کوئی بچہ اسکول میں غیر محفوظ عمارت کے باعث اپنی جان کھو دے تو یہ پورے نظام کے لیے سنجیدہ انتباہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کو محض رسمی کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔

پشاور کا یہ افسوس ناک واقعہ ہم سب سے تقاضا کرتا ہے کہ بچوں کی حفاظت کو وقتی بحث بننے نہ دیا جائے۔ حادثے کی شفاف تحقیقات مکمل کی جائیں، ذمے داری کا تعین قانون کے مطابق ہو، متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جائے اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معائنے کو مستقل نظام کا حصہ بنایا جائے۔

حکومت، اسکول انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور معاشرے کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آیندہ کسی خاندان کو ایسی ناقابلِ تلافی محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہمارے بچوں کی زندگی کسی بھی انتظامی کوتاہی، مالی مفاد یا غفلت سے زیادہ قیمتی ہے۔ اسکول علم، تربیت، امید اور روشن مستقبل کی علامت ہونا چاہیے، خوف اور خطرے کی نہیں۔