خبر کبھی محض اطلاع نہیں ہوتی تھی، وہ حقیقت تک پہنچنے کا راستہ، اقتدار سے سوال کرنے کا حوصلہ اور معاشرے کے اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی تھی۔ صحافت کا منصب یہ تھا کہ وہ واقعات کے گرد اٹھنے والے گردوغبار کو ہٹائے، حقائق کو سامنے لائے اور عوام کو خود فیصلہ کرنے کا موقع دے لیکن آج ایک تلخ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا ہم خبر کے دور سے نکل کر بیانیے کے دور میں داخل ہو چکے ہیں؟
کیا اب اہم یہ نہیں رہا کہ حقیقت کیا ہے، بلکہ یہ ہو گیا ہے کہ حقیقت کو کس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے؟ یہ سوال محض صحافت کا نہیں، سیاست، جمہوریت، قومی سلامتی اور انسانی شعور کا بھی ہے۔
آج دنیا میں اطلاعات کی کوئی کمی نہیں۔ موبائل فون کی ایک اسکرین پر چند لمحوں میں جنگ، سفارتکاری، معیشت، سیاست اور انسانی المیوں کی خبریں سامنے آ جاتی ہیں مگر اطلاعات کی اس فراوانی میں ایک عجیب تضاد پیدا ہو گیا ہے، خبر تک رسائی آسان ہوئی ہے لیکن حقیقت تک پہنچنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
ایک واقعہ پیش آتا ہے، اس کے مختلف پہلو سامنے آنے سے پہلے ہی اس کی تشریح شروع ہو جاتی ہے۔ یوں واقعہ پیچھے رہ جاتا ہے اور اس کے گرد تعمیر ہونے والے بیانیے میدان پر قابض ہو جاتے ہیں۔ خبر کا بنیادی تقاضا ہے کہ کیا ہوا، کب ہوا، کہاں ہوا اور اس کی تصدیق کن ذرائع سے ہوتی ہے۔
بیانیہ ان حقائق کو ایک مخصوص مفہوم اور تناظر فراہم کرتا ہے۔ بیانیہ بذاتِ خود غلط نہیں، ہر سنجیدہ تجزیے میں واقعات کو سمجھنے کے لیے ایک فکری زاویہ ضروری ہوتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بیانیہ حقائق کی وضاحت کرنے کے بجائے انھیں چھپانے، مسخ کرنے یا اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے لگے۔
سیاسی جماعتیں اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ حکومتیں اپنی پالیسیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ریاستیں قومی سلامتی اور سفارتی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا مؤقف پیش کرتی ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ فطری، سیاسی اور ابلاغی سرگرمیاں ہیں لیکن کسی بھی مؤقف کی سچائی کا فیصلہ اس کی مقبولیت، تکرار یا اسے پھیلانے والے کی طاقت سے نہیں ہونا چاہیے۔ سچ کو جانچنے کا پیمانہ ثبوت ہے، محض آواز کی بلندی نہیں۔
ایک صحافی کی حیثیت سے عراق جنگ 2003 کی رپورٹنگ میرے لیے محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ابلاغی طاقت، جنگی پروپیگنڈے اور رائے عامہ کی تشکیل کو سمجھنے کا ایک اہم تجربہ بھی ہے۔عراق پر امریکی قیادت میں حملے کے جواز کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کو نمایاں کیا گیا۔
بعدازاں عراق میں ایسے ذخائر برآمد نہیں ہوئے جن کی بنیاد پر جنگ کے جواز کو پیش کیا گیا تھا۔عراق جنگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقتور حلقوں کا بار بار دہرایا جانے والا دعویٰ لازماً حقیقت نہیں بن جاتا۔
ڈیجیٹل انقلاب نے ابلاغ کی دنیا میں غیرمعمولی تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب کسی خبر کو نشر کرنے کے لیے ٹیلی وژن اسٹیشن، اخبار یا خبررساں ادارے کا مالک ہونا ضروری نہیں۔ ایک عام شہری بھی چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔ یہ تبدیلی اپنی جگہ ایک بڑی سہولت اور اظہار کا نیا امکان ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بنیادی مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے: اشاعت کی رفتار نے تصدیق کی اہمیت کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
ایک غیرمصدقہ ویڈیو، پرانی تصویر یا سیاق و سباق سے ہٹا ہوا بیان چند لمحوں میں وائرل ہو سکتا ہے۔ بعد میں تردید سامنے بھی آ جائے تو ضروری نہیں کہ وہ اتنے ہی لوگوں تک پہنچے جنھوں نے اصل دعویٰ دیکھا تھا۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے رائٹرز انسٹیٹیوٹ کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2026 اس تبدیلی کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب مقابلہ صرف خبر دینے کا نہیں، توجہ حاصل کرنے کا ہے۔ سنسنی خیز سرخی، اشتعال انگیز بیان اور جذبات بھڑکانے والی ویڈیو اکثر محتاط اور متوازن رپورٹنگ سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔
اب اس منظرنامے میں مصنوعی ذہانت بھی شامل ہو چکی ہے۔ کسی کی آواز کی نقل تیار کی جا سکتی ہے، تصاویر میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے اور فرضی واقعات کو حقیقی منظرنامے کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
کل تک یہ جانچنا ہوتا تھا کہ تصویر اصلی ہے یا نہیں، آج یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ تصویر کہیں مصنوعی طور پر تخلیق تو نہیں کی گئی۔ کل آواز کی شناخت کافی سمجھی جاتی تھی، آج آواز کی صداقت بھی تحقیق کا تقاضا کرتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں اس بحث کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جہاں سیاسی تقسیم، معاشی دباؤ، اور سوشل میڈیا کی تیزرفتار ترقی نے عوامی مکالمے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یقیناً یہ ہے کہ حساس معاملات میں ذمے داری سے کام لیا جائے، افواہوں سے گریز کیا جائے اور غیرمصدقہ اطلاعات کو آگے نہ پھیلایا جائے ۔ اسی طرح آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دعوے کو بلاثبوت درست مان لیا جائے۔ آزادی کے ساتھ ذمے داری بھی لازم ہے۔
بالآخر سوال یہ نہیں کہ بیانیہ کون بنا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ اس بیانیے کی بنیاد کیا ہے۔ کیا وہ حقائق پر کھڑا ہے یا جذبات، مفادات اور تکرار کے سہارے قائم کیا گیا ہے؟یاد رکھیے، جھوٹ اگر ہزار بار دہرایا جائے تو وہ لوگوں کے ذہنوں میں جگہ ضرور بنا سکتا ہے لیکن تکرار اسے حقیقت نہیں بنا دیتی۔
کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ صرف یہ نہیں کہ اس سے سچ چھپا لیا جائے، اصل المیہ یہ ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی خواہش ہی کھو بیٹھے۔ اور جب ایسا ہو جائے تو خبر ہی نہیں مرتی، اجتماعی شعور بھی خاموش ہونے لگتا ہے۔