استغفار کی ضرورت

شیطان انسان کے دل میں وسوسے اور دنیا سے محبت اور اسے اپنا بنانے کے لیے دلکش جال بنتا ہے


نسیم انجم October 25, 2026

انسان جب حق کا راستہ چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے اور اپنے اشاروں پر نچاتا ہے۔ شیطان کا مقصد ہی لوگوں کو گمراہ اور تباہ و برباد کرنا ہے، جیساکہ اس نے اللہ سے اس وقت کہا تھا جب شیطان (ابلیس) نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اس نے کہا کہ ’’میں آدمؑ سے بہتر ہوں، تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدمؑ کو مٹی سے بنایا ہے‘‘( سورۃ الاعراف)

اس واقعہ کے بعد اسے اللہ کی درگاہ سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ ’’اے میرے رب! چونکہ تُو نے مجھے گمراہ کیا ہے (نعوذباللہ) تو میں بھی تیرے بندوں کو صراط مستقیم سے دور کر دوں گا، میں انسانوں کے لیے گناہوں کو خوش نما بناؤں گا اور سیدھے راستے پر چلنے والوں کی تاک میں بیٹھوں گا، پھر ان کے آگے پیچھے، دائیں اور بائیں سے آؤں گا اور تُو ان میں سے بہت سوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔‘‘

اور اس نے یہ مہلت بھی مانگی کہ اسے تاقیامت زندہ رکھا جائے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کے مطابق مہلت عطا فرما دی۔ اللہ کے نیک بندے شیطان کے شر سے دور رہنے کے لیے عبادات اور نیک اعمال میں اپنی زندگی گزارتے ہیں لیکن اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندہ خدا نیکی کے راستے سے بھٹک جاتا ہے چونکہ انسان کی فطرت میں شر اور خیر دونوں ہی ہیں، کبھی طمع، کبھی بددیانتی اور اقربا پروری اسے بھلائی سے دور اور شیطان کے قریب کر دیتی ہے۔

شیطان انسان کے دل میں وسوسے اور دنیا سے محبت اور اسے اپنا بنانے کے لیے دلکش جال بنتا ہے کہ وہ اگر کسی کا اپنے خاندان اور عزیز و اقارب، دوست احباب میں سے قتل کر دے تو ساری جائیداد اور مال و اسباب اس کا ہوگا، وہ مقتول کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دیتا ہے جس کی بنا پر وہ اپنے انجام سے غافل رہ کر ایسے ایسے کام کرنے کے لیے نہ کہ ارادہ باندھتا ہے بلکہ چٹکی بجاتے ہی وہ گھر کے گھر اجاڑ دیتا ہے۔

معصوم کلیوں کو پیروں تلے مسل دیتا ہے، یتیم کا مال آنکھ جھپکتے ہی ہضم کر لیتا ہے جس ماں اور بہن کی عزت کا محافظ ہوتا ہے، ان کی ہی عزت کو داغدار کر دیتا ہے، اپنے کالے کرتوتوں کی بنا پر وہ بہت جلد قانون کی گرفت میں بھی آ جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جب مجرم کو دن میں تارے اور رات کو پھانسی کا پھندا نظر آتا ہے۔ شیطان سے بچنے کے لیے استغفار اور نیک اعمال کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں لائبہ اعجاز جس نے ہارورڈ یونیورسٹی جانے کا خواب دیکھا لیکن جعلساز نے اس بے چاری طالبہ کو اپنے جال میں پھانسا اور لاکھوں روپے ہضم کر گیا۔ اس واقعے سے دل برداشتہ ہو کر لائبہ نے خودکشی کر لی اور طمع پرست جھوٹا اور دھوکے باز پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

شیطان ایسے کام کروانے کے لیے انسان کے پیچھے لگا رہتا ہے اور ایک شیطان یا جن وہ بھی ہے جسے ہم، ہم زاد کہتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہم زاد فارسی زبان کا لفظ ہے۔ قرآن پاک میں اسے ’’قرین‘‘ کہا گیا ہے یعنی ساتھ رہنے والا۔ یہ ہم زاد بھی برائی کی ہی طرف مائل کرتے ہیں۔اب جب کہ انسان کے اتنے دشمن ہوں، کافر جنات، ہم زاد، شیاطین اور وہ انسان علیحدہ جو حسد اور نفرت کی آگ میں خود بھی جلتا ہے اور اسے بھی جلاتا ہے جو دین و دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کی کوشش میں ہزاروں خواہشوں کو خاطر میں نہیں لاتا ہے۔

شیطان کہیں پیچھا نہیں چھوڑتا ہے۔ چاہے مہ خانہ ہو یا عبادت گا۔ یہ شیطان کی کارستانی ہے کہ انسان اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہ کیسی بدنصیبی ہے کہ پوری دنیا میں بدی کے کردار کا چرچا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو بدی سے محفوظ رکھے۔ کسی بدی کے واقعہ پر لوگ اپنے اپنے خیالات اور کہانیاں پیش کرتے ہیں ، کیا سچ کیا جھوٹ یہ اللہ ہی کو پتا ہے، وہ دلوں کے راز سے واقف ہے۔

اللہ کے گھر انسان نیکی کے لیے جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں کوئی گناہ کریں تو برائی اور گناہوں کا وبال اور عذاب بھی بڑھ جاتا ہے۔ مقدس جگہوں اور مقدس مہینوں کے تقدس کا احترام لازم ہوتا ہے۔

قرآن پاک کی آیت 25 سورۃ الحج، اس کا ترجمہ ہے ’’یعنی جو بھی اس حرم میں ظلماً کج روی یا گناہ کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ دنیاوی اور اخروی سزا کی نوعیت کچھ اس طرح ہے۔ حرم میں کوئی حد (شرعی سزا جیسے چوری یا زنا کی سزا) نافذ ہو تو وہ عام جگہ کی ہی طرح ہوگی لیکن اس مقام پر اخروی عذاب اور گناہ کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے کہ حدود حرم میں گناہ کرنا ازروئے قرآن موجب عذاب ہے۔

حدود حرم میں مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور بعد کے آئمہ کرام رحمہ اللہ سے ایسے آثار منقول ہیں جن کے مطابق حرم میں کردہ گناہ کا عذاب اور سزا دوچند ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ میرے نزدیک مکہ میں گناہ مکہ کے علاوہ گناہ سے ستر درجہ زیادہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کرنے سے اجتناب کرتے چلے آئے ہیں کہ کہیں نادانستہ منہ سے کوئی غلط بات ہی نہ نکل جائے یا غصے میں کسی سے کوئی جھگڑا ہی نہ ہو جائے،کسی سے جھگڑنا، جیب تراشی ،کسی کے بارے میں چغلی کھانا،غیبت کرنا بھی بڑا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اللہ ہم سب کو گناہوں سے بچاکر رکھے۔( آمین۔)