ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کی مسلم دشمنی پوری دنیا پر عیاں ہے۔ اس تنظیم کی مسلم دشمنی کی ایک طویل تاریخ ہے، یہ اپنے قیام 1925 سے لے کر اب تک ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کرا چکی ہے۔ اسے انگریزوں نے انتہا پسند ہندوؤں کی مدد سے قائم کیا تھا جس کے قیام کا مقصد برصغیر میں بسنے والے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرکے دست و گریباں کرنا تھا تاکہ انگریزوں کے لیے ہندوستان میں طویل عرصے تک حکومت کرنے کے لیے حالات ساز گار بنائے جا سکیں۔
انگریز دراصل 1857 کی جنگ آزادی میں ان دونوں کے اتحاد اور ان کی مشترکہ مزاحمت کی وجہ سے برصغیر سے بے دخل ہوتے ہوئے بچے تھے چنانچہ انھوں نے برصغیر میں اپنے پیر جمانے اور دیر تک حکومت کرکے یہاں کی دولت لوٹ کر اپنے ملک منتقل کرنے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑانے کا منصوبہ بنایا تھا ۔
آر ایس ایس اور پہلے سے قائم ہندو مہاسبھا ان کے اس منصوبے کے لیے کارگر ثابت ہوئیں، دراصل انگریز ڈرے ہوئے تھے کیونکہ 1857 کی جنگ آزادی میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر انھیں اتنا نقصان پہنچایا تھا کہ شاید وہ برصغیر کو چھوڑ کر چلے بھی جاتے، اگر بعض مقامی لوگوں نے ان کی مدد نہ کی ہوتی۔
تاہم آگے کے خطرے کو ٹالنے کے لیے ہندو مسلم اتحاد کو توڑنا ان کی مجبوری بن گیا تھا چنانچہ انھوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنے اور انھیں باہم لڑانے کے لیے آر ایس ایس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ اس تنظیم کے بیشتر افراد کا تعلق مہاراشٹر سے تھا جو ہندو جنگجو شیوا جی مرہٹہ کا مسکن تھا۔ یہ افراد اس سے متاثر تھے۔
یہ لوگ شیوا جی اور مغل بادشاہ اورنگ زیب کی باہمی چپقلش اور جنگوں کو ہندو دھرم اور اسلام کی جنگ سے جوڑتے تھے جب کہ ایسا نہیں تھا ۔ یہ دراصل دونوں کے درمیان اقتدار اور زمینوں پر قبضے کی جنگ تھی۔
ان کی دشمنی سے ہندوؤں مسلمانوں کی باہمی رنجش کا کوئی معاملہ نہیں تھا مگر کچھ مراٹھے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے ہندوؤں کو مسلمانوں کا دشمن بنانے کے لیے شیوا جی اور اورنگ زیب کی جنگوں کو ہندوؤں مسلمانوں کی جنگ قرار دینے لگے تاکہ ہندوؤں کے جذبات کو بھڑکا کر انھیں مسلمانوں کا دائمی دشمن بنایا جائے اوراس دشمنی سے ایک طرف آر ایس ایس ہندوؤں میں اپنی جگہ بنا سکے اور دوسری جانب ان کے آقا انگریزوں کو برصغیر میں لمبا بسیرا کرنے کا موقع میسر آ سکے۔
آر ایس ایس نے انگریزوں کے زیر سایہ ہندوستان کے ہر خطے میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا، اور ان کے خلاف بلوے شروع کر دیے، پھر سب سے بڑھ کر اس نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شدھی تحریک شروع کر دی گو کہ یہ ایک ایسی حرکت تھی جس سے ہندوستان کا امن و امان تباہ ہو رہا تھا مگر انگریزوں نے اس سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی تھی کیونکہ یہ سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہو رہا تھا۔
اس طرح چند ہی برسوں میں ہندو اور مسلمان جو پہلے ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے ، اب ایک دوسرے کی دشمن بن گئے۔ ایسے حالات میں مسلمان ہندوستان میں اپنی اور اپنی آیندہ نسلوں کی زندگی غیر محفوظ محسوس کرنے لگے۔ بس اسی بڑھتی ہوئی نفرت کی وجہ سے انھیں قیام پاکستان کا نعرہ بلند کرنا پڑا۔ ادھر انگریز آر ایس ایس اور دیگر ہندو تنظیموں کے ذریعے تقریباً نوے برس تک ہندوستان پر حکومت کرنے میں کامیاب رہے، ساتھ ہی ہندوستان کا بڑا حصہ ہندوؤں کو دے کر چلے گئے جب کہ انھیں پورا ہندوستان مسلمانوں کے حوالے کرنا تھا کیونکہ انھوں نے اسے مسلمانوں سے چھینا تھا۔
تقسیم ہند کے بعد بھی آر ایس ایس نے اپنی مسلم دشمنی قائم رکھی کیونکہ اب اس نفرت سے انگریزوں کے بعد خود اسے بہت فائدہ ہونے والا تھا۔ وہ اپنے زہریلے پروپیگنڈے کی بدولت عام ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر اپنا ووٹ بینک بڑھاتے رہے اور بالآخر کانگریس کے کمزور پڑنے کی وجہ سے اپنی سیاسی شاخ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے بھارت کا اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے میں کامیاب ہو گئے۔
اس وقت دلّی کے سنگھاسن پر ان کا اپنا وزیر اعظم براجمان ہے۔ یہ وزیر اعظم مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے، پھر پاکستان کا قیام بھی اگرچہ آر ایس ایس کی نفرتی پالیسی کی وجہ سے ہی عمل میں آیا تھا، اب اسے تباہ کرنے کے لیے مودی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ، وہ اس وقت مسلمانوں اور پاکستان کی نفرت کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
اب اس نے ہر الیکشن سے قبل پاکستان پر فالس فلیگ آپریشن کرنا اپنا وتیرہ بنا لیا ہے۔ وہ اس سے انتہا پسند ہندوؤں کو خوش کرکے ان کے ووٹ کے ذریعے اپنے اقتدار کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لگتا ہے وہ اپنی اس نفرتی پالیسی کے ذریعے بھارت پر ایک طویل عرصے تک حکومت کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔
اس کی مسلم دشمنی کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ بی جے پی حکومت کی کسی صوبائی یا وفاقی کابینہ میں کوئی مسلمان شامل نہیں ہے حتیٰ کہ کسی اہم سرکاری عہدے پر بھی کوئی مسلمان فائز نہیں ہے، پھر بھارت میں مسلمانوں کے لیے سرکاری نوکریوں کے دروازے بند ہیں۔
مودی تقریباً بارہ برس سے بھارتی اقتدار پر قابض ہے، وہ ہر الیکشن سے قبل پاکستان پر فالس فلیگ آپریشن کرکے اور ساتھ ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کارروائی کرا کے کامیابیاں بٹور رہا ہے۔ اس کے دور میں اقلیتوں کا جینا حرام ہو گیا ہے۔
اس کے متشدد کارکنوں نے امن و امان تباہ کر دیا ہے، خود حزب اختلاف کے لیڈر سہمے ہوئے ہیں، وہ ہر الیکشن میں دھاندلی کرکے جیت رہا ہے مگر حزب اختلاف لاچار اور مجبور ہے۔ کاش کہ پاکستان جیسی حزب اختلاف بھارت میں ہوتی تو شاید وہاں مودی کی ڈکٹیٹر شپ قائم نہ ہونے پاتی۔ بھارت کے دانشور مودی سرکار سے بے زار ہیں مگر وہ بھی مودی سے ڈرے ہوئے ہیں۔
چند دن قبل بی جے پی کے ایک رہنما نے مودی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان سے بھارت کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے اقدام کریں، دراصل آپریشن سندور میں بھارت کی شکست کے بعد عام لوگوں کے علاوہ دانشور طبقہ بھی اب پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کر رہا ہے مگر مودی بھلا اس تجویز کو کیسے مان سکتا ہے کیونکہ پاکستان سے دشمنی ہی تو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔
وہ پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر ہی ہر الیکشن میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، اگر وہ اس پالیسی سے دستبردار ہوتا ہے تو پھر وہ کیسے کوئی الیکشن جیت سکے گا۔ شاید اسی لیے نامور تجزیہ کار پراون ساہی نے درست ہی کہا ہے کہ مودی سرکار صرف پاکستان دشمنی پر ٹکی ہوئی ہے۔