جرمنی میں پہاڑی پر واقع ہٹلر کے زیر استعمال تاریخی خفیہ عمارت عقاب کا گھونسلا نذر آتش

یہ عمارت 1938 میں نازی دور میں تعمیر کی گئی جو جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کے زیراستعمال خفیہ ٹھکانوں میں سے ایک تھی


ویب ڈیسک October 25, 2026
یہ مقام نازی آمریت، اس کے مظالم اور تاریخ سے سبق سیکھنے کی اہمیت کی یاد دہانی سمجھا جاتا ہے

جرمنی کے جنوبی علاقے باویریا میں ایڈولف ہٹلر کے تاریخی پہاڑی ٹھکانے ’ایگلز نیسٹ‘ (Eagle’s Nest) میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، پولیس نے 33 سالہ جرمن شہری کو گرفتار کر لیا۔

جب فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچے تو عمارت شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 200 امدادی اہلکار تعینات کیے گئے تاہم دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کی صبح تک بھی آگ سلگ رہی تھی۔ تاریخی عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور عوام کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولیس پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ کے قریب سے ایک 33 سالہ جرمن شہری کو موٹر سائیکل پر فرار ہوتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔ تاحال کسی دوسرے مشتبہ شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

سرکاری استغاثہ کے مطابق ابتدائی نفسیاتی جائزے میں ملزم میں ممکنہ ذہنی بیماری کی علامات سامنے آئی ہیں جس کے باعث اس کی مجرمانہ ذمہ داری کی نوعیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام نے یہ بھی کہا کہ سیاسی محرکات کے امکان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے۔

ایگلز نیسٹ کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟

ایگلز نیسٹ جرمنی کے شہر برشتسگاڈن کے قریب تقریباً 1,800 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ عمارت 1938 میں نازی دور میں تعمیر کی گئی تھی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کے زیرِ استعمال عمارتوں کے مجموعے کا حصہ تھی۔

جنگ کے بعد یہ عمارت تباہی سے بچ گئی اور بعد میں ایک مشہور سیاحتی مقام اور پہاڑی ریسٹورنٹ بن گئی۔

آج یہ مقام نازی آمریت، اس کے مظالم اور تاریخ سے سبق سیکھنے کی اہمیت کی یاد دہانی سمجھا جاتا ہے۔

حکام کا اہم بیان

باویریا کے وزیر داخلہ یوآخیم ہیرمان نے کہا کہ عمارت کو کسی صورت کھنڈر کی حالت میں نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کے مطابق تاریخی یادداشت اور ماضی کے واقعات سے سبق سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ جرمنی میں ہٹلر سے وابستہ تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھنے، عجائب گھروں میں تبدیل کرنے یا ختم کرنے کے حوالے سے طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔