واٹر کارپوریشن کے افسران سمیت ملازمین کی بڑی تعداد کا دو اداروں سے تنخواہیں لینے کا انکشاف

تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے کر اور 14 روز میں رپورٹ طلب کرلی گئی ہے


نعیم خانزادہ October 25, 2026
فوٹو: فائل

کراچی کے واٹر کارپوریشن میں ایک سرکاری ملازمت میں دو اداروں سے مبینہ طور پر تنخواہیں وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں اہم افسران سمیت ملازمین کی طویل فہرست سامنے آگئی ہے، جس کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے کر اور 14 روز میں رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی کا ایسا معاملہ سامنے آگیا ہے جس نے محکمہ جاتی ریکارڈ کی جانچ پڑتال ناگزیر بنا دی ہے، ایک طرف واٹر کارپوریشن کے خزانے سے تنخواہیں وصول کرنے والے ملازمین اور دوسری طرف دیگر سرکاری اداروں سے بیک وقت تنخواہ لینے کے شبہ نے پورے معاملے کو تحقیقات کے حوالے کردیا ہے۔

ایس اے پی سسٹم سے حاصل کردہ معلومات میں متعدد ملازمین کے نام سامنے آنے کے بعد ایم ڈی واٹر کارپوریشن کے حکم پر ڈائریکٹر پرسنل غضنفر علی خان نے 6 اکتوبر کو پانچ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی تھی، جس سے محض 14 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

دستیاب فہرست میں بعض ملازمین کے ریکارڈ کے سامنے 30 سے 35 سال تک کی مدت درج ہے بتائی جاتی ہے تاہم اصل انکشاف اب ریکارڈ کی چھان بین سے ہونا باقی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنگینی اس امر سے بڑھ گئی ہے کہ انکوائری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے بعض ملازمین بیک وقت دیگر سرکاری محکموں یا اداروں میں ملازمت کرتے ہوئے دونوں جانب سے تنخواہیں وصول کر رہے ہوں، اب کمیٹی تقرری کے احکامات، سروس ریکارڈ، تنخواہوں کے بلوں، آخری تنخواہ کے سرٹیفکیٹس اور متعلقہ اداروں کے دستاویزات کی مدد سے اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا واقعی دہری ادائیگیاں ہوئیں یا معاملہ ریکارڈ کی غلطی، دہرے اندراج یا انتظامی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔

تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی 5 رکنی کمیٹی کے کنوینر چیف ہیومن ریسورس آفیسر مرزا محمدنیئر کو مقرر کیا گیا ہے، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ساجد نظام، ڈائریکٹر آئی ٹی عبدالغنی شیخ، ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس سید اطہر علی شاہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل افیئرز رضوان خان غوری بطور ارکان شامل ہیں۔

کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ افسران اور ملازمین کو طلب کرے، ریکارڈ حاصل کرے اور ہر ملازم کو صفائی پیش کرنے کا موقع دینے کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کرے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اب اصل امتحان انکوائری کمیٹی کا ہے جس کی انکوائری مکمل کرنے کی 14 روزہ مدت مکمل ہوچکی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر سرکاری خزانے سے بیک وقت دو تنخواہیں وصول کرنے کا الزام دستاویزی ثبوت سے ثابت ہوگیا تو مالی ذمہ داری اور قواعد کے مطابق کارروائی کا معاملہ سامنے آئے گا جبکہ ریکارڈ کی غلطی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ نظام اور ذمہ داران کا تعین کرنا ہوگا۔

واٹر کارپوریشن کے حکم نامے نے تحقیقات کا آغاز تو کردیا ہے لیکن یہ معلوم ہونا ابھی باقی ہے کہ فہرست میں شامل کتنے ملازمین کے خلاف الزام درست ثابت ہوتا ہے اور کتنی رقم کی دہری ادائیگی ہوئی اور اگر کوئی مالی نقصان ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایس اے پی سسٹم میں ڈبل تنخواہوں کی نشان دہی کے بعد سے لسٹ میں شامل افسران کی تنخواہیں روک دی گئی تھیں، ڈبل تنخواہیں لینے والے افسران سے اضافی تنخواہوں کی ریکوری کے ساتھ ساتھ ملازمتوں سے برطرفی کا بھی امکان ہے۔