پی ٹی آئی کی حکومتی رویہ تبدیل نہ ہونے پر دوبارہ احتجاج کی دھمکی

اداروں کے خلاف یوٹیوبرزکے کسی بیانیے کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں، باہر موجود یوٹیوبرز سے کہہ دیا اب بس کرو، شوکت یوسفزئی


ویب ڈیسک October 25, 2026
فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر رویہ تبدیل نہیں ہوا تو  دوبارہ احتجاج شروع کردیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی مزاحمتی اور مفاہمتی سیاست کے بیچ کھڑی ہے، فیصلہ حکومتی رویے پر ہوگا، حکومت نے سیاسی اسپیس نہ دیا تو پرامن احتجاج دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو 14 دن ہو گئے ہیں، حکومت کا کوئی ویژن سامنے نہیں آیا، حکومت کی ناقص پالیسیوں اور نااہلی کے باعث ملک بند گلی میں کھڑا ہے، معیشت وینٹی لیٹر پر ہے، ملک قرضوں پر چل رہا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو سیاسی اسپیس ملنا چاہیے، پارٹی مزاحمتی اور مفاہمتی سیاست کے بیچ کھڑی ہے، فیصلہ حکومتی رویے پر ہوگا، حکومت نے سیاسی اسپیس نہیں دیا تو پرامن احتجاج دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، پارٹی بیرسٹر گوہر کی قیادت میں متحد ہے، پارلیمانی پارٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں، کوئی فارورڈ بلاک نہیں بن رہا۔

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ بیرون ملک موجود یوٹیوبرز سے کہہ دیا ہے اب بس کرو اپ کے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے، پارٹی عمران خان کے بیانیے کو آگے بڑھائے گی، عمران خان کے ساتھ ملاقات سے ہی مذاکرات کی راہ نکل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ختم کرنے کی کوشش ہے، خیبر پختونخوا میں پارٹی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر تشویش ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، اہلیہ سمیت تمام بے گناہ کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کی اپنی کارکردگی صفر ہے، وہ خیبرپختونخوا میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے دعوے کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے خلاف یوٹیوبرز کے کسی بیانیے کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کے لیے حکومت نے آئینی لوازمات پورے نہیں کیے، توقع ہے پشاور ہائی کورٹ سے اس بارے میں اہم فیصلہ آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ پرامن جدوجہد کی، کبھی نہیں کہا جیل توڑ کر عمران خان کو نکالیں گے، ڈیل سے باہر آنا ہوتا تو تین سال پہلے ہی عمران خان باہر آجاتے، عمران خان چاہتے ہیں کہ عدالتیں ان کے کیسز سنے، مانتا ہوں لیڈرشپ اور ورکرز کے درمیان اعتماد کا فقدان رہا ہے، وقت آگیا ہے کہ کارکنوں کو فیصلہ سازی میں اعتماد میں لیا جائے، تحریک انصاف کا ورکر پارٹی کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔