باجوڑ میں فاریسٹ گارڈ کی 31 آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد متاثرہ امیدواروں نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
محکمہ جنگلات کے تحت فاریسٹ گارڈ کی 31 آسامیوں پر بھرتیوں میں مبینہ کرپشن، پیسوں کے لین دین اور سیاسی سفارشات کے ذریعے من پسند امیدواروں کو نوازنے کے الزامات سامنے آگئے۔
اس حوالے سے سماجی کارکن ڈاکٹر ارشاد خان اور متاثرہ نوجوانوں حنیف اللہ، امداد اللہ، فرہاد، صدیق اور دیگر نے باجوڑ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھرتیوں کے عمل میں مبینہ طور پر سیاسی مداخلت کی گئی اور اہل امیدواروں کو نظرانداز کیا گیا۔
متاثرہ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ میرٹ لسٹ میں پہلے نمبر سے 17ویں نمبر تک کے امیدواروں کو چھوڑ کر 40 نمبر سے اوپر والے امیدواروں کو منتخب کیا گیا، جس سے بھرتیوں کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، انہوں نے بھرتیوں میں پی ٹی آئی کے موجودہ ایم پی ایز اور سابق ایم این ایز کے مبینہ کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
پریس کانفرنس کے شرکاء نے وزیراعظم شہباز شریف، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، انجینئر شوکت اللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فاریسٹ گارڈ کی بھرتیوں کے عمل کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں ، میرٹ لسٹ اور انتخابی ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے اور اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔