عالمی بحران، غذائی تحفظ اور حکومتی ذمے داری

نومبر تک ضروریات پوری کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں اور موسم سرما کے لیے بھی پیش بندی جاری ہے


ایڈیٹوریل October 26, 2026
—فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی تنازعات کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال تسلی بخش ہے، نومبر تک ضروریات پوری کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں اور موسم سرما کے لیے بھی پیش بندی جاری ہے۔ ان کا یہ بیان موجودہ عالمی حالات میں اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ علاقائی کشیدگی، رسد کے راستوں میں رکاوٹیں، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی تجارت میں غیر یقینی صورت حال براہ راست درآمدی اخراجات اور بالواسطہ پیداواری لاگت کو متاثر کرتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے، جس کی توانائی کی ضروریات کا قابل ذکر حصہ بیرونی ذرائع سے پورا ہوتا ہے، ان خطرات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ تاہم عالمی حالات کے ممکنہ اثرات اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والی مہنگائی میں فرق کرنا بھی ناگزیر ہے۔ بیرونی بحران کی شدت اپنی جگہ، لیکن اگر کسی شے کی قلت ذخیرہ اندوزی یا ناقص انتظامی نگرانی کے باعث پیدا ہو تو اس کا ملبہ عالمی منڈیوں پر ڈال کر ذمے داری سے فرار اختیار نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی، ایندھن کے حصول کے لیے پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں نہیں لگیں اور توانائی کے بحران نے امن و امان کی صورت حال کو متاثر نہیں کیا۔ یہ انتظامی کامیابی قابلِ تحسین ہے، بشرطیکہ اس تسلسل کو محض وقتی بندوبست کے بجائے مستقل پالیسی میں تبدیل کیا جائے۔

توانائی کی دستیابی کا اصل مفہوم صرف یہ نہیں کہ بازار میں پٹرول موجود ہو، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی قیمت عام شہری کی قوتِ خرید سے مکمل طور پر باہر نہ نکل جائے، اگر ایندھن دستیاب ہو لیکن اس کی قیمت میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے خورونوش کی نقل و حمل مہنگی ہو جائے تو رسد کی ظاہری بہتری کے باوجود عوام معاشی دباؤ سے محفوظ نہیں رہتے۔ حکومت کو توانائی کی خریداری، ذخائر، درآمدی معاہدوں اور قیمتوں کے ممکنہ اثرات کے بارے میں ایک مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، تاکہ کسی ہنگامی صورت حال میں فیصلے عجلت کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیے جا سکیں۔

 ملک میں معاشی استحکام کے دعوؤں کی اصل آزمائش عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ سے زیادہ اس باورچی خانے میں ہوتی ہے جہاں محدود آمدنی رکھنے والا خاندان آٹے، چینی، گھی اور ایندھن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی دوسری ضروریات قربان کرتا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات کی ترقی یقیناً خوش آئند معاشی اشاریے ہیں، مگر ان کامیابیوں کا حقیقی ثمر اسی وقت عوام تک پہنچ سکتا ہے جب منڈیوں میں قیمتوں کا تعین چند بااثر کاروباری حلقوں کے رحم و کرم پر نہ ہو اور کسی عالمی بحران کو مقامی منافع خوری کا جواز نہ بننے دیا جائے۔ پاکستان کو اس وقت دو متوازی محاذوں پر کامیابی درکار ہے۔ ایک طرف عالمی اقتصادی بے یقینی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور دوسری طرف داخلی منڈی میں مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور ناجائز منافع خوری کے خلاف فیصلہ کن کارروائی۔

 پاکستان کی معاشی صورت حال کے بعض اشاریے امید افزا ضرور ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق آئی ٹی خدمات کی برآمدات ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور رواں مالی سال میں ان کے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی بتائے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ برس اپریل سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے نجی سرمایہ کاری، پانڈا بانڈ اور یورو بانڈز کے اجرا جیسے اقدامات بھی معاشی اعتماد کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ یورو بانڈز کے لیے جاری کردہ حجم سے دوگنا آرڈرز موصول ہونے کا بیان اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کے معاشی امکانات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

 معاشی استحکام کا دیرپا راستہ اسی وقت ہموار ہوگا جب مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ پیداواری معیشت کو وسعت دی جائے اور عام آدمی کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ ا س معاشی منظرنامے کا سب سے تشویش ناک پہلو اشیائے خورونوش کی منڈی ہے، جہاں بسا اوقات قلت حقیقی ضرورت سے زیادہ کاروباری مفادات کا نتیجہ بن جاتی ہے۔ چینی کی صنعت اس حوالے سے ایک اہم مثال سمجھی جاتی ہے۔

جب مقامی پیداوار اور ملکی ضروریات کا درست تخمینہ لگائے بغیر برآمد کی اجازت دی جائے تو خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اندرونِ ملک دستیاب ذخائر کم ہو جائیں گے اور قیمتیں بڑھنے لگیں گی۔ بعد ازاں اگر یہی کمی درآمدات کے ذریعے پوری کی جائے تو قومی معیشت کو دوہرا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک طرف ملکی پیداوار بیرونِ ملک فروخت کرنے سے مقامی صارف مہنگی شے خریدنے پر مجبور ہوتا ہے، دوسری طرف قلت دور کرنے کے لیے بیرونی منڈی سے خریداری پر قیمتی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے، اگر اس سارے عمل میں کسی کاروباری گروہ کو غیر معمولی فایدہ پہنچے تو معاملہ محض انتظامی کمزوری نہیں رہتا بلکہ شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کے تحفظ کا سوال بن جاتا ہے۔

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کے ذخائر، قیمتوں اور رسد کے جائزے کے لیے ہونے والا اجلاس اسی تناظر میں اہم ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کے مقامی ذخائر اور درآمدی گندم اگلی فصل تک ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، جبکہ چینی کے ذخائر بھی اگلے کرشنگ سیزن تک دستیاب ہیں اور اس کی قیمت مقررہ ہدف، یعنی 155 روپے فی کلوگرام سے کم بتائی گئی ہے۔ اس کے باوجود گندم کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان تشویش کا باعث ہے۔

جب ذخائر تسلی بخش ہوں تو قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی وجوہات کا تعین کرنا انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔ محض اجلاس منعقد کرنے، ہدایات جاری کرنے اور صورت حال پر تشویش ظاہر کرنے سے منڈی کا مزاج تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ذخیرہ گاہوں، تھوک منڈیوں، آڑھتیوں، ترسیلی نظام اور پرچون فروشوں تک رسائی رکھنے والا موثر نگرانی کا نظام درکار ہے۔

آنے والے موسم سرما میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ افغانستان اور ایران میں سرد موسم کے آغاز کے باعث بعض اشیائے خورونوش، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی طلب میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں قیمتوں کا فرق، غیر قانونی تجارت کے لیے منافع بخش مواقع پیدا کرتا ہے۔ اگر ملکی پیداوار کو قانونی برآمدی طریقہ کار سے ہٹ کر اسمگلنگ کے ذریعے باہر منتقل کیا جائے تو مقامی منڈی میں رسد متاثر اور قیمتیں بلند ہو سکتی ہیں۔

تاہم اس خطرے سے نمٹنے کے لیے محض سرحدی نگرانی کافی نہیں،داخلی ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی نقل و حمل، مشکوک تجارتی لین دین اور تقسیم کے نظام میں موجود کمزوریوں کو بھی بیک وقت دور کرنا ہوگا۔ سرحدی علاقوں میں ضروری اشیا کی نقل و حرکت کا قابلِ اعتماد ریکارڈ، متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا فوری تبادلہ اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ ساتھ ہی قانونی تجارت کو آسان اور شفاف بنایا جائے، تاکہ جائز کاروبار غیر ضروری رکاوٹوں کا شکار ہوئے بغیر قومی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

 پاکستان کو معاشی استحکام کے موجودہ مرحلے پر محض اطمینان کے اظہار کے بجائے ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو بحران آنے سے پہلے خطرات کی نشان دہی کر سکے۔ ذخائر کا درست تخمینہ، توانائی کی پیشگی خریداری، زرعی پیداوار کی مؤثر منصوبہ بندی، برآمدات کے محتاط فیصلے اور سرحدی تجارت کی نگرانی ایک ہی معاشی حکمت عملی کے مختلف اجزا ہیں۔

حکومت اگر عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے کے ساتھ داخلی منڈی میں قانون کی بالادستی بھی یقینی بنائے تو مالیاتی کامیابیاں عوامی خوش حالی میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ ورنہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے اور عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافے کے باوجود عام شہری مہنگائی کے ہاتھوں بدستور بے بس رہے گا۔ ریاست کی معاشی بصیرت کا اصل امتحان یہی ہے کہ قومی پیداوار سے حاصل ہونے والا فایدہ عوام تک پہنچے، ضروری اشیا کی دستیابی چند طاقت ور حلقوں کے مفادات کی اسیر نہ ہو اور کسی بیرونی بحران کو اندرونی استحصال کا وسیلہ نہ بننے دیا جائے۔