وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی جیت کتنی یقینی ہے ؟

عالمی سطح پر ٹرمپ کی بعض عالمی ناکامیاں اور نامرادیاں نومبر2026ء کے مڈ ٹرمپ الیکشن میں سیاہ سایہ بن گئی ہیں


تنویر قیصر شاہد October 26, 2026
[email protected]

اگلے ماہ ، نومبر2026ء کے پہلے ہفتے امریکی وسط مدتی انتخابات( Midterm Elections) کا میدان سجنے جا رہا ہے ۔ امریکی سیاست کی دونوں بڑی اور اہم ترین پارٹیاں ( ری پبلکن اور ڈیموکریٹ) میدان میں ہیں ۔ اِس وقت امریکی مرکزی اقتدار میں ری پبلکن پارٹی فائز ہے ۔

امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، اِسی پارٹی سے ہیں ۔ مختلف امریکی سیاسی سرویز بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی مقتدر پارٹی کی( وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے) حالت مضبوط نہیں ہے ۔ اور ڈیمو کریٹ یلغار کرتے ہُوئے آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں ۔ ٹرمپ صاحب اِن حالات سے خاصے مشوش ہیں ۔ وہ دو بار امریکی صدر منتخب ہو چکے ہیں ۔ امریکی آئین کے مطابق: تیسری بار امریکی صدر منتخب ہونا ناممکن ہے ۔ اِس کے باوجود وہ بار بار بیان دے چکے ہے: اگر مَیں چاہوں گا تو تیسری مرتبہ بھی انتخابات کے میدان میں اُتر سکتا ہُوں ۔ مگر یہ کہنے کی باتیں ہیں۔ اُن کے کئی ناکام عالمی اقدامات ایک بھیانک تصویر بن کر اُن کے سامنے لہرا رہے ہیں ۔ بسیار کوششوں کے باوصف وہ دو بار امن کا نوبل انعام جیتنے میں بُری طرح ناکام ہُوئے ہیں۔ اور یوں اکتوبر کے پہلے ہفتے نوبیل امن انعام کمیٹی نے 2026ء کا نوبیل امن انعام جنوبی افریقہ کی سابق جج، محترمہ ناوی پِلّے، کے نام کر دیا ۔

عالمی سطح پر ٹرمپ کی بعض عالمی ناکامیاں اور نامرادیاں نومبر2026ء کے مڈ ٹرمپ الیکشن میں سیاہ سایہ بن گئی ہیں۔ ٹرمپ نے خود سے طے کردہ سنگین الزامات عائد کرکے (3جنوری2026ء کو) رات کی تاریکی میں وینزویلا پر( ناجائز) حملہ کر کے وینز ویلین صدر ( نکولوس مادورو)اور اُن کی اہلیہ( سیلیا) کو گرفتار کرکے اور اُنہیں امریکہ منتقل کرکے اپنے تئیں ایک بڑی کامیابی تو حاصل کی مگر اب مڈٹرم انتخابات میں یہ جارح کامیابی بھی، بظاہر، اُن کے کسی کام نہیں آ رہی۔ دیگر عالمی ناکامیاں بھی اُن کے تعاقب میں ہیں۔

مثال کے طور پر:(۱)صہیونی اسرائیل کی ترغیب و اُکساہٹ پر ٹرمپ کا ، بِلا وجہ، ایران پر حملہ اور اِس امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں امریکی و اسرائیلی ناکامیاں (۲) ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر قبضہ اور مبینہ ایرانی پراکسی ، حوثیوں ، کی جانب سے ’’ باب المندب‘‘ کی سخت ناکہ بندی اور اِس کے نتیجے میں تیل کی عالمی آزادانہ تجارت میں بندش اور عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں کمر توڑ اضافہ (۳) غزہ میں صہیونی اسرائیل کے ہاتھوں 80ہزار سے زائد معصوم اہلِ غزہ کی شہادتیں اور غزہ کی مکمل تباہی اور اِس تباہی کے باوجود ٹرمپ اور اُن کی پارٹی کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حمائت (۴) اسرائیل کی لبنان اور شام پر متعدد یلغاریں اور ٹرمپ کی دانستہ خاموشی (۵) یمنی باغی حوثیوںکے سعودی عرب پر متعدد میزائل حملے اور ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کی کوئی بھی عسکری امداد کرنے سے صاف انکار ، حالانکہ اِس ضمن میں سعودی ولی عہد ، شہزادہ محمد بن سلمان، نے مبینہ طور پر خصوصی طور پر ٹرمپ کو فون بھی کیا ( ۶) ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ووٹروں سے کیا گیا کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کر سکے ۔ ایران ، امریکہ تصادم کے کارن امریکہ میں مہنگائی کا گراف بڑھا ہے ، اور ہر امریکی ٹرمپ سے نالاں اور ناراض ہے ۔

اور اب وسط مدتی انتخابات کے نتائج نوشتہ دیوار بن کر ٹرمپ کو ڈراوا دے رہے ہیں ۔ سب سے بڑا خوف اُنہیں یہ لاحق ہے کہ اگر وہ شکست سے دوچار ہو جاتے ہیں تو امریکی ایوانوں میں غالب مخالفین اُن کا مواخذہ کرتے ہُوئے اُن کے خلاف تعزیری کارروائی (Impeachment)بھی کر سکتے ہیں ؛ چنانچہ ٹرمپ صاحب جیت کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ اپنے دولتمند دوستوں کو اعانت کے لیے آوازیں دے رہے ہیں ۔ اِس سلسلے میں اُن کے دیرینہ دوست اور بہی خواہ ایلون مسک ( جو دُنیا کے امیر ترین فرد ہیں)اُن کی آواز پر ایک بار پھر آگے بڑھے ہیں ۔ پچھلے عام انتخابات میں بھی ایلون مسک نے ٹرمپ کی جیت پر اربوں روپیہ پانی کی طرح بہا دیا تھا۔ اب پھر وہ سامنے آ ئے ہیں ؛ چنانچہ خبریں ہیں کہ ایلون مسک نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی لاج رکھنے اور ری پبلکنز کی کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے 275 ملین امریکی ڈالرز ( 76ارب پاکستانی روپے) سے زائد خرچ کر ڈالے ہیں ۔

 اگر ہمارے خطّے میں سرمایہ دار ، اپنے بڑے بڑے مفادات کے حصول کے لالچ میں، اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کو جتوانے کے لیے روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہیںتو یہی رویہ امریکہ میں بھی بروئے کار ہے۔ اگر ہمارے ہاں انتخابات میں سیاستدان ووٹروں میں نقد روپیہ تقسیم کرتے ہیں ، کسی جگہ موٹر سائیکلیں بھی تقسیم کی جاتی ہیں اور کہیں آٹے کے توڑے ، گھی کے کنستر اور چاول کے تھیلے بانٹے جاتے ہیں تو امریکی سیاستدان بھی اِسی روش پر عمل پیرا ہیں ۔ مثلاً: امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے کھلے بندوں اعلان کیا ہے :’’ اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں اُن کی جماعت ( ری پبلکن) کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو5ہزار ڈالر بطور Trump Dividendدیئے جائیں گے ۔‘‘ مگر اِس منصوبے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی ۔ ماہرین اور معیشت دانوں نے اِس پر شک کا اظہار کیا ہے کیونکہ اِس پر 1.2ٹریلین ڈالر سے زائد کا خرچ آ ئے گا۔

خود کو اور اپنی پارٹی کو جتوانے کے لیے امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے ووٹروں کو کھلی’’ رشوت‘‘ کی پیشکش کی ہے ، مگر اُنہیں اِس پر کوئی جھجک اور حجاب محسوس نہیں ہو رہی ۔ ایسے میں دیکھا جائے تو ہمارے اور امریکی انتخابات میں چنداں امتیاز نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں اگر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیتنے کے لیے اُمیدوار ، کھلے بندوں بطورِ رشوت ، اپنے ووٹروں کو قیمے والے نان کھلا کر ووٹ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہمارے انتخابی اُمیدوار اسمبلیوں اور سینیٹ کے ایوانوں میں پہنچنے کے لیے مبینہ طور پر ووٹروں میں چنے، چکن اور مٹن کا پلاؤ کھلاتے ہیں ، اور ٹکٹ جاری کرنے والے بڑوںکو مبینہ طور پر کروڑوں کی رشوت پیش کرتے ہیں تو کچھ ایسا ہی چلن امریکی سیاست میں بھی ہے ۔

امریکہ میں CNNکے ممتاز صحافی، فرید زکریا ، کے ایک حالیہ ٹاک شو میں ایک کینیڈین مبصر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست اورشخصیت پر اِن الفاظ میں تبصرہ کیا ہے : ٹرمپ کے امریکہ بارے آج کہا جارہا ہے کہ America is an Unreliable Boyfriend of Worldدیکھا جائے تو یہ مختصر ، مگر بلیغ تبصرہ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے زیر نگیں اُس امریکہ کی تصویر کشی کرتا ہے جس پر آج کسی کو اعتبار نہیں رہا ۔ معروف اور ممتاز عرب ممالک آج بھی امریکہ کو اپنا اتحادی مانتے تو ہیں ، لیکن اسے اپنا قابلِ اعتبار دوست ماننے میں مذبذب ہیں ۔ ایران ، امریکہ جنگ کے دوران ٹرمپ نے عرب ممالک کے اعتبار کو سخت دھچکا پہنچایا ہے ۔ اِس کے نتائج اب مڈ ٹرم انتخابات میں یقیناً نکلنے والے ہیں۔بِلا شبہ سفید فام امریکیوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی پارٹی کی محبوبیت ہنوز باقی ہے ۔

اِنہی گروہوں کے ٹرمپ صاحب ’’ہیرو‘‘ بھی ہیں ۔ خصوصاً ٹرمپ نے غیر ملکیوں اور امیگریشن پر جو سخت ہاتھ ڈال رکھا ہے ، اِس سے یہ سفید فام امریکی بے حد خوش ہیں ۔ ٹرمپ کا یہ کہنا خاصا اہمیت کا حامل ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کروں گا ، مگر حملے کے بادل ابھی چھٹے نہیں ہیں ۔ ٹرمپ کی مقتدر پارٹی کی سینیٹ کی10نشستیں تو بہت خطرے میں ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اِس پر بے حد فکر مند ہیں ۔ وہ ، اُن کی پارٹی اور اُن کے ارب پتی امریکی سرمایہ دار دوست ، مبینہ طور پر ، اِن مشتبہ سیٹوں پر فتح حاصل کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر پانی کی طرح بہارہے ہیں ۔ اصل نتائج تو مگر ہم 3نومبر2026ء کے بعد ہی دیکھیں گے ۔