فوڈ بینک

معاشرے جس بھی قسم کے ہوں،ادنیٰ یا ارفعٰ ، وہ کسی نہ کسی طرح‘ اپنے چند فیصد شہریوں کو کامیاب ضرور کرتے ہیں


راؤ منظر حیات October 26, 2026

معاشرے جس بھی قسم کے ہوں،ادنیٰ یا ارفعٰ ، وہ کسی نہ کسی طرح‘ اپنے چند فیصد شہریوں کو کامیاب ضرور کرتے ہیں۔ ترقی کرنے کے برابر مواقع تو خیر تیسری دنیا کے ممالک کے نصیب میں ہے ہی نہیں۔ مگر یہ ضرور دیکھنے کو ملتا ہے کہ معدودے چند افراد‘ اپنی محنت یا حادثانی طور پر کافی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بڑا گھر‘ قیمتی گاڑی‘ غیر ملکی سفر اور دیگر لوازمات ‘ زندگی میں شامل نظر آتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے بطور مزدور یا دکان پر سیلز مین کے طور پر زندگی کا آغاز کیا ۔ مگر تین دہائیوں میں کافی بہتر حالات میں چلے گئے۔ ویسے معاف کیجیے گا، آج تک ترقی کے معانی نہیں سمجھ پایا؟ان گنت مالدار لوگوں کو دیکھا ہے جو حد درجہ پریشانی میں زندگی گزارتے ہیں۔ متضاد طور پر ایسے کئی خوش گوار لوگوں کو جانتا ہوں جو سفید پوشی کی زندگی گزار رہے ہیں اور بالکل بھی پریشان نہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ‘ یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ ہمارے ملک کے اکثر افراد‘ سنجیدہ فکر سے آزاد ہیں۔ حد درجہ سطحی گفتگو اور کوہلو کے بیل کی طرح آنکھیں بند کر کے زندگی کے معمول کے دائرہ کے مسلسل چکر لگاتے رہتے ہیں۔

اور شائد‘ مرنے کے بعد بھی اسی طرح عالم برزخ میں قیام پذیر رہیں گے۔ مگر یہ تو قیافہ والی بات ہے، آگے کی خبر نہیں کہ کس کی دائمی زندگی آسان ہو گی اور کون مشکلات میں رہے گا۔ اس تمام گنجلک کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ طالب علم تو خیر‘ اس پر کچھ عرض کرنے کی جسارت ہی نہیں کر سکتا۔ مگر آج ایک ایسے مسئلہ اور اس کے ممکنہ حل کے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں۔ جو ہر شہر‘ قصبہ اور گاؤں تک میں ممکن ہے۔ صرف اور صرف تھوڑی سی توجہ اور دردِ دل کی ضرورت ہے۔ اس میں کسی کا نقصان بھی نہیں ہے ۔

اس کے برعکس‘ اس میں سفید پوش طبقے کی بھلائی ہی بھلائی ہے۔ سفید پوش طبقے کا ذکر ضمنی طور پرکر رہا ہوں ۔کیونکہ گذشتہ چار پانچ سال میں اس قدر مشکلات‘ ملک کے نصیب میں آئی ہیں کہ اب یا تو امیر طبقہ موجود ہے یا مفلس لوگ۔ ہمارے دین کے مطابق‘ مستحق لوگوں کو کھانا کھلانے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس میں یہ فرق بھی نہیں رکھا گیا کہ آپ کسی غیر مسلم کو کھانا کھلا رہے ہیں یا کسی ہم مذہب کو ۔ بھوکے کو کھانا کھلانے میں کسی بھی دین کی کوئی قید نہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ ہمارے ملک میں مزارات پر جو لنگر تقسیم کیا جاتا ہے، وہ یکسر طور پر انسانیت کی خدمت پر مرکوز ہے۔

نسل ‘ مذہب ‘ رنگ اور قوم کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہی صورت حال‘ ان لنگر خانوںکی بھی ہے جو مختلف ادارے‘ خلق خدا کے لیے چلا رہے ہیں۔ ان مقامات پر صرف اور صرف انسان کی قدر ہوتی ہے اور اس کی حاجت روائی ہوتی ہے۔ ویسے ان مقامات پر جا کر احساس ہوتا ہے کہ انسان تعصب کے بغیرکتنے بہتر بلکہ عظیم ہو جاتے ہیں۔ دراصل انسانی خدمت وہ وصف ہے جو اصل نیکی کے جوہر کو ظاہرکرتا ہے۔

اس تمہید کے بعد‘ اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں۔ وہ ہے بھوکوں کو کھانا کھلانے کاایک ترتیب وار نظام بنانے کا فیصلہ ۔ ہم میں سے ہر ایک‘ مختلف تقریبات میںجاتا ہے۔ شادی بیاہ یا دیگر سماجی دعوتیں ہوں وہاںوافر کھانے پینے کا سامان موجود ہوتا ہے۔ شادی بیاہ میں تو خیر سیکڑوں لوگوں کے لیے مرغن غذا کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نظر نہیں آتی۔ ہمارا شعوری فیصلہ یہ ہے کہ مہمان بے شک کم یا زیادہ ہو جائیں ۔ مگر ان کے لیے ضیافت میں خوراک قطعاً کم نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ ایک سماجی قانون کا درجہ بن چکا ہے۔ اس کے مثبت پہلو بھی ہیں مگر یہ مجموعہ اضداد ہے۔ غور فرمایئے، اگر کسی شادی یا ولیمہ پر دو تین سو افراد مدعو کیے گئے ہیں۔ تو مکمل طور پر پیٹ بھر کر طعام کرنے کے باوجود بھی ‘ آدھا یا اس سے بھی زیادہ کھانا ڈشوں میں پڑا رہ جاتا ہے۔

اسے آپ اضافی کھانا کھانے کا نام بھی دے سکتے ہیں۔اس غذا کی بابت قطعاً عرض نہیں کر رہا‘ جو دعوت میں آنے والے پلیٹوں میں کھائے بغیر چھوڑ دیتے ہیں۔ ویسے یہ بھی ایک المیہ سے کم نہیں کہ اکثریت‘ گوشت‘ چاول اور دیگر کھانوں کا پلیٹ میں ایک پہاڑ بنا ڈالتے ہیں۔ ان کی ذہنی بھوک اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اصل میں انھیں کتنی مقدار میں طعام کرنا ہے۔ ہوس اتنی ہوتی ہے کہ اپنی پلیٹوں میں غذا کو اس طرح بھرتے ہیں کہ اسے مکمل طور پر کھانا یا ختم کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ پلیٹوں میں پڑا کھانا بہر حال ضایع ہو جاتا ہے۔ اسے آپ جھوٹا یا استعمال شدہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ویسے طالب علم تو اسے بھی کھانا ہی سمجھتا ہے۔ کیونکہ بھوکے انسان کی ضرورت میں کہیں یہ درج نہیں ہے کہ اس نے کسی کی پلیٹ میں پڑا کھانا‘ طعام کرنا ہے یا اسے کسی بوفے کی ٹرے میں سے کھانا نکال کر دیا گیا ہے۔

بھوک حددرجہ ظالم شے ہے۔ یہ صرف شکم بھرنے سے ہی پر ہوتی ہے۔واقعی کسی فاقہ کش کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کھانا‘ کس نے اور کہاں سے مہیا کیا ہے ۔ ویسے پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوںکہ بھوک کسی بھی نوعیت کی ہو‘ کسی بھی وجہ سے ہو‘ جب تک اس کی اصل وجہ کو قابو نہیں کیا جاتا۔ اس وقت تک وہ بلا بن کر‘ انسان کو کسی بھی اخلاقی یا غیر اخلاقی کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ نکتہ یہی ہے کہ اخلاقیات کا درس صرف اس وقت اچھا لگتا ہے جب پیٹ بھرا ہوا ہو۔ ویسے کسی بھی قسم کی بھوک اور اخلاقیات میں کسی بھی قسم کا تعلق نہیں ہے۔ نہ منفی اور نہ ہی مثبت ۔ اخلاقیات کیا ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جو بہت زیادہ وسیع ہے۔ ان کی کوئی ایک تعریف بھی نہیں ہے۔ ایک خطے میں اخلاقی لحاظ سے کوئی بھی حرکت‘ حد درجہ منفی اور سنگین جرم قرار دی جاتی ہے۔

اس کے برعکس کسی دوسرے خطے میں وہی حرکت ‘ معاشرتی طور پر مکمل طور پر بے معنی سا امر ہے۔ اصل میں ہر ملک کی اپنی اپنی اخلاقیات اور ہر معاشرے کی اپنی روایات اور عقائد ہوتے ہیں۔ مگر چند بین الاقوامی طور پر مستحکم عناصر قائم و دائم ہیں جو کسی بھی معاشرے کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ جیسے جھوٹ نہ بولنا‘ کم نہ تولنا‘ ملاوٹ نہ کرنا‘ سرکاری خزانہ کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کرنا‘ دوسروں کی جائیداد پر غاصبانہ قبضہ نہ کرنا ‘ انسانی حقوق کی قدر کرنا اور اس طرح کے معدودے چند معاملات مزید بھی ہیں۔جوکسی بھی سماج کو فکری دائرہ فراہم کرتے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ اوپر درج شدہ اخلاقی قدروں سے کم از کم ہمارا تو کوئی تعلق نہیں۔بلکہ یہ تمام اچھے قوانین کسی بھی مسلمان ملک میں رائج نہیں۔

اب میں جوہری بات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات میں جو کھانا بچ جاتا ہے۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ شادی گھروں یا ہوٹلوں کی انتظامیہ سے بات کی جائے کہ جناب‘ یہ بچا کچھا کھانا آپ کے تو کسی کام کا نہیں‘ آپ دوبارہ تو اسے استعمال نہیں کر سکتے۔ تو یہ بطور ہدیہ ہمیں عنایت فرما دیں۔ ہمیں کا مطلب قطعاً ایک شخص نہیں۔ بلکہ سماجی شعور رکھنے والے چند یا زیادہ ‘ ایسے افراد کا ہے جو اپنا قیمتی وقت نکال کر یہ سب کھانا اکٹھا کریں۔ اس کو حد درجہ صاف ستھرے طریقے سے پیک کریں۔ اور پھر‘ جن شادی گھروں یا ہوٹلوں سے یہ سب کچھ مستعار لیا گیا ہے۔

ان کے نمائندوں کی موجودگی میں اسے کسی شور شرابے یا تصویر بازی کے بغیر ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے جن کو ان کی واقعی ضرورت ہے۔ کسی ایک طبقہ تک اس کام کو محدود نہیں کر رہا۔ کیا یہ پیکٹ عام اسکولوں میں بچوں کے حوالے نہیں کیے جاسکتے ؟ کیا انھیں کسی تحصیل ‘ ضلع یا دیگر اسپتالوں میں بانٹا نہیں جا سکتا؟ کیا حد درجہ احترام سے یہ مزدوروں میں تقسیم نہیں ہو سکتا؟ کیا بس اڈے اور ریلوے اسٹیشنوں پر مسافر‘ اس سے فیضاب نہیں ہو سکتے؟ اور ہاںکیا یہ کسی بھی غریب بستی میں بانٹا نہیں جا سکتا؟ اس کے علاوہ ان گنت جگہیں ہیں‘ جہاں لوگ کھانے کے متلاشی ہوں گے۔جس ملک میں غربت‘ مجموعی طور پر 46فیصد سے بھی آگے چلی گئی ہے۔ کیا وہاں بھوکے لوگوں کی کمی ہو گی؟ قطعاً نہیں ۔ صاحبان! یہاں توکروڑوں افراد ہیں جنھیں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہے۔

اس پورے منصوبے کو ’’فوڈ بینک‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ بلکہ یہ عرض کروں گا کہ ناموں میں کیا رکھا ہے۔ کوئی بھی نام دے دیجیے۔ ہماری حکومتیں غریب کے لیے کوئی ویلفیئر نظام دینے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ یہ عرض کرنا زیادہ مناسب ہو گا کہ انھیں پسے ہوئے لوگوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں ۔ اس بے انصافی کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہیں ۔ بلکہ یہی وہ وقت ہے جس میں مثبت سوچ کے دھارے کو آگے بڑھانا اصل فرض ہے۔ آئیے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دے کراس تجویز کو بھرپور طریقے سے قابل عمل بنائیں۔ شاید یہی ہمارے لیے آگے کا زاد راہ بن جائے!