سستے گھروں کی فراہمی، معاشی بحالی اور عوامی خوشحالی

اپنا گھر اسکیم سے تعمیراتی صنعت، روزگار اور صنعتی پیداوار میں اضافے کی امید ہے


آہ سومرو October 25, 2026

کراچی:

پاکستان کی معیشت کومہنگائی، روپے کی قدر میں اتارچڑھاؤ، توانائی کے بحران اور سیاسی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کاسامناہے، تاہم سستے گھروں کی فراہمی کاشعبہ معاشی بحالی،روزگارکے مواقع پیداکرنے اور صنعتی سرگرمیوں کوفروغ دینے کیلیے اہم امید بن کر سامنے آیاہے۔

ماہرین کے مطابق اگرکم آمدنی والے طبقے کو قابلِ برداشت شرائط پر گھرکی تعمیر اور خریداری کیلیے مالی سہولتیں فراہم کی جائیں تو اس سے نہ صرف لاکھوں خاندان مستفیدہوسکتے ہیں، بلکہ تعمیراتی صنعت سے وابستہ متعدد شعبوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق ملک میں تقریباً ایک کروڑگھروں کی کمی ہے،جس کا زیادہ بوجھ کم اورمتوسط آمدنی والے خاندانوں پر پڑرہاہے۔

اکتوبر میں ہونیوالے منصوبہ بندی جائزے میں سالانہ 7 لاکھ گھروں کی طلب کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی لاکھ گھروں کی فراہمی کاتخمینہ پیش کیاگیا، ان اعدادوشمار میں فرق ہوسکتاہے، تاہم یہ صورتحال ملک میں رہائشی سہولتوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی واضح عکاسی کرتی ہے۔وفاقی حکومت کی ’’اپناگھر‘‘ اسکیم کے تحت اہل افرادکو ایک کروڑتک قرض فراہم کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جس پر ابتدائی 10 سال کیلیے صارف کیلیے مقررہ شرحِ منافع 5 فیصد بتائی گئی ہے۔

اسکیم کے تحت ماہانہ قسط تقریباً 66 ہزارروپے سے شروع ہونے کی تشہیرکی گئی ہے،جبکہ قرض کی واپسی کی مدت 30 سال تک ہوسکتی ہے۔ پنجاب حکومت کی ’’اپنی چھت اپناگھر‘‘ اسکیم بھی اس سلسلے میں اہم قدم ہے۔

پروگرام کے تحت اہل افرادکو اپناگھر تعمیرکرنے کیلیے 15 لاکھ روپے تک بلاسودقرض فراہم کیاجاتاہے،جس کی واپسی نوسال میں تقریباً 14ہزارماہانہ اقساط کے ذریعے کی جاتی ہے۔

سستے گھروں کی تعمیر کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں میں سرگرمیاں بڑھتی ہیں، پورے عمل سے مزدوروں،مستریوں، الیکٹریشنز، پلمبروں،ٹرانسپورٹروں اور چھوٹے کاروباروں کو بھی روزگار اورآمدنی کے مواقع ملتے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی مقامی ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 7 سے 8 فیصد اضافہ ہوا، یہ تعمیراتی طلب میں بہتری کااشارہ ہے،تاہم اس اضافے کو مکمل طور پر سبسڈی والے ہاؤسنگ قرضوں کانتیجہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔

ایف بی آرکے اعدادوشمارکے مطابق مالی سال 2024-25 میں صرف سیمنٹ کی مقامی فروخت سے تقریباً 108۔7 ارب روپے سیلز ٹیکس وصول ہوا۔

ماہرین کے مطابق بینکوں کو قرض کی اہلیت جانچتے وقت حقیقی آمدنی، ڈیجیٹل لین دین،کرایے کی سابقہ ادائیگیوں اور مناسب صورتوں میں مشترکہ قرض لینے والوں کو بھی مدنظررکھناچاہیے۔