پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایوی ایشن کو 2 ارب ڈالر کا نقصان

ایئر انڈیا نے مالی دباؤ کے باعث ویانا اور برمنگھم کے لیے پروازیں معطل کردیں


طالب فریدی October 26, 2026
فوٹو:فائل

لاہور:

پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو مبینہ طور پر 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، ایئر انڈیا نے مالی دباؤ کے باعث ویانا اور برمنگھم کے لیے پروازیں معطل کردیں۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اپنی فضائی حدود 23 اپریل 2025 کو پہلگام واقعے کے بعد بھارتی طیاروں کے لیے بند کی تھی جو اب تک 18 مہینے سے مسلسل بند ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور عالمی ایوی ایشن ڈیٹا کے مطابق بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو اب تک تقریباً 2 ارب ڈالر تقریباً 5 ہزار ارب پاکستانی روپے کا نقصان ہو چکا ہے، صرف ائیر انڈیا کو سالانہ بنیادوں پر 455 ملین ڈالر سے 591 ملین ڈالر تقریباً 4000 سے 5000 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہو رہا ہے، ایئر انڈیا نے خود بھارتی حکومت کو بتایا ہے کہ اس کا profit before tax اتنا متاثر ہوا ہے۔

ایئر انڈیا نومبر سے دہلی اور برمنگھم کے درمیان پروازیں معطل کردے گی جبکہ دہلی سے ویانا کے لیے پروازیں بھی اکتوبر کے اختتام سے بند کی جارہی ہیں۔ ایئر انڈیا نے بین الاقوامی روٹس پر ٹکٹوں کی بکنگ کرنے والے ٹریول ایجنٹس کو ٹریول ایڈوائزری جاری کرکے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد 23 اپریل 2025 کو بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں جس کے نتیجے میں بھارتی ایئرلائنز کو متبادل اور طویل فضائی راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فضائی حدود کی بندش سے ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ پروازوں کے دورانیے میں 30 منٹ سے 3 گھنٹے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے تقریباً 800 ہفتہ وار بھارتی پروازیں متاثر ہورہی ہیں جن میں سے 640 دہلی ایئرپورٹ سے متعلق ہیں۔

ایئر انڈیا نے اپنے ونٹر شیڈول 2026-27 میں یورپ کے لیے فضائی نیٹ ورک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہلی اور ویانا کے درمیان ہفتہ وار 4 پروازیں 31 اکتوبر سے معطل کی جارہی ہیں جبکہ دہلی اور برمنگھم کے درمیان ہفتہ وار 3 پروازیں یکم نومبر سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کی جارہی ہیں۔

اس کے علاوہ دہلی اور کوپن ہیگن کے درمیان پروازیں بھی معطل کرنے جبکہ لندن گیٹ وک اور سان فرانسسکو کے لیے پروازوں میں کمی کرنے کی اطلاعات ہیں۔

ایئر انڈیا کے مطابق فضائی آپریشن محدود کرنے کی اہم وجوہات میں پاکستان کی فضائی حدود کی مسلسل بندش، جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ اور بوئنگ 787 طیاروں کی مرمت و کیبن اپ گریڈیشن کے باعث دستیابی میں کمی شامل ہیں۔

فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی طیاروں کو ایران یا وسطی ایشیا کے راستے طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ایندھن کی کھپت اور آپریشنل اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ویانا کے لیے پروازوں کی معطلی کے بعد بھارت اور اس شہر کے درمیان ایئر انڈیا کا براہ راست فضائی رابطہ بھی ختم ہوجائے گا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش نومبر تک برقرار ہے جس کے حوالے سے باقاعدہ نوٹم بھی جاری کیا گیا ہے۔