راولپنڈی:
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سینئر وکیل احسن بھون سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا۔
راولپنڈی ضلع کچہری میں مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن محمد صفدر نے کہا میں نے وزیر قانون کو میسیج کیا کہ ایسے شخص کو سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں کیوں کھڑا کیا جس کی ڈگری جعلی ہے۔
کیپٹن صفدر نے کہا کہ ہم مشروط دستبرداری کیلئے تیار ہیں لیکن پہلے ڈگری دکھائیں، ہم اپنا امیدوار بھی واپس لینگے اور معافی نامہ بھی دینگے۔ احسن بھون صاحب کو استعفی دینا ہی دینا پڑے گا، اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ کو بھی استعفی دینا پڑے گا، ہم حافظ آباد اسکول آف تھاٹ کو نہیں چلنے دینگے۔
کیپٹن محمد صفدر نے کہا کہ احسن بھون جہاں پیش ہوگا ہمارے سو وکلاء ڈگریوں کے ساتھ پیش ہونگے، ہم ہر عدالت میں جاکر کہیں گے احسن بھون سے ڈگری مانگی جائے، ہم منشیوں کے آگے نہیں لیٹیں گے، کفر کا نظام قائم رہ سکتا ہے ظلم کا نظام نہیں رہ سکتا، وکلاء کو درخواست کرتا ہوں جہاد اب فرض ہوگیا ہے، یکم نومبر کے بعد احسن بھون کے خلاف پوری تحریک اٹھے گی، ہم اپنے سو وکلاء کی ڈگریاں عدالت میں پیش کرینگے عدالت سے کہیں گے احسن بھون سے بھی ڈگری مانگیں۔
انکا کہنا تھا کہ ہماری عدالتوں اور ججز نے پاکستان کو کمزور کیا ہے، ڈن بیس کے اربوں روپے امریکہ اور یورپ پہنچے ہیں، ساجد تارڑ امریکہ میں بیٹھ کر کیسے ارب پتی بن گیا۔ میں اتنی دفعہ جیل گیا ہوں جیسے جیل مجھے جہیز میں ملی ہو، قانون اور آئین کی پاسداری ہر پاکستانی کا فرض ہے۔
کیپٹن محمد صفدر کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا بھگوان داس سپریم کورٹ کے جج تھے ان سے سب مطمئن تھے، آئین میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ جمہوری ادارے ہی ترمیم کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس ملک اور آئین کے لئے ابھی بہت قربانیاں دینی ہیں، ججز کی سلیکشن کے طریقہ کار میں ہم نے ایک عالم کو بھی بٹھانے کا مطالبہ کیا، ہمیں خدشہ ہے ہماری عدالتوں میں قادیانی نہ آکر بیٹھ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے کسی نے کہا مریم نے کہا ہے عدالتوں میں پیسے چلتے ہیں۔ میں نے کہا مریم صوبے کی وزیراعلیٰ ہے کل وزیراعظم ہوگی تو پوچھنا تو بنتا ہے، ایک 25 ہزار تنخواہ لینے والے بچے کے اوپر پر ظلم ہوا وزیر اعلیٰ نے نوٹس لیا۔ پیٹرول پمپ پر بچے کو لگنے والا تھپڑ دس کروڑ عوام کے منہ پر تھپڑ تھا۔ وزیر اعلٰیٰ پنجاب نے بچے پر تھپڑ کا بدلہ لیا تھا، کیا نو دولتیے، قبضہ گروپ یا وی ایٹ والے ایک 25 ہزار تنخواہ لینے والے بچے پر تھپڑ مارے گا۔