صحت کارڈ پلس  پروگرام: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور اقتدار کی ایک اور واردات سے پردہ فاش

پی ٹی آئی دورِ اقتدار میں صحت کارڈ پلس میں بچت کے نام پر عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی مجوزہ پالیسی بےنقاب ہوگئی


خالد محمود October 27, 2026

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دورِ اقتدار کے دوران صحت کارڈ پلس میں بچت کے نام پر عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی مجوزہ پالیسی بےنقاب ہوگئی۔

صحت جیسی بنیادی سہولت کے نام پر غریب عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی جیبوں سے 9 ارب روپے وصول کرنے کی تجویز زیرِ غور رہی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت 10 ستمبر کے اجلاس میں صحت کارڈ پلس کے اخراجات کم کرنے کے نام پر مریضوں کی سہولتیں محدود کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔

نجی ہسپتالوں میں منتخب علاج کے علاوہ مریضوں سے *20 فیصد اخراجات* وصول کرنے کی تجویز نے غریب مریضوں کے مالی تحفظ پر سوالات اٹھا دیے۔

مہنگے اور غیر ہنگامی علاج صرف سرکاری ہسپتالوں تک محدود کرنے کی تجویز سے نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، صحت کارڈ پلس سے متعدد طبی سہولتیں خارج کرنے اور سرکاری ہسپتالوں کی ادائیگیوں میں 10 سے 15 فیصد نظرثانی کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔

اجلاس میں مہنگے غیر ہنگامی علاج محدود کرکے *1.7 ارب روپے* اور کم پیچیدگی والے علاج خارج کرکے *37 کروڑ 90 لاکھ روپے* بچانے کا تخمینہ لگایا گیا، صحت کارڈ پلس کے اخراجات میں کٹوتیوں کی تجاویز نے یہ سوال اٹھایا کہ مالی بچت کی قیمت آخرغریب مریضوں کو کیوں چکانا پڑتی۔

دستاویزات کے مطابق، شہریوں سے *9 ارب روپے* وصولی کی مجوزہ تبدیلیوں کیلئے وزیراعلیٰ یا کابینہ کی باقاعدہ منظوری درکار تھی۔

ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کی سیاسی سرگرمیوں میں مصروفیت کے باعث سہیل آفریدی مجوزہ سمری پر دستخط نہ کرسکے، 11 اکتوبر کو گورنرراج کے نفاذ کے بعد صحت کارڈ پلس میں مجوزہ تبدیلیاں نافذ نہ ہوئیں، لیکن پی ٹی آئی نے علاج بندش کے معاملے کو سیاسی رنگ دیا۔

گورنر راج کے بعد علاج بندش کا شور مچانے والی پی ٹی آئی  کی سوشل میڈیا مہم کا صحت کارڈ پلس میں مجوزہ کٹوتیوں نے پردہ چاک کر دیا ہے۔