چرچ حملے کے بعد اردن کا جوابی وار، شام میں داعش کے 20 سے زائد جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

اردنی حکومت کے مطابق یہ حملے پیر کے روز کیے گئے اور ان کا مقصد چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کا جواب دینا تھا


ویب ڈیسک October 27, 2026

اردن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے شام میں کارروائیاں کرتے ہوئے داعش کے 20 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا، جبکہ تنظیم کا ایک بڑا اسلحہ ڈپو بھی تباہ کردیا گیا۔

اردنی حکومت کے مطابق یہ حملے پیر کے روز کیے گئے اور ان کا مقصد چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کا جواب دینا تھا۔

اردن کے حکومتی ترجمان محمد المومنی نے منگل کو بتایا کہ ابتدائی نتائج کے مطابق کارروائیوں میں داعش کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔

ان کے بقول، ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد 20 سے زیادہ بتائی جارہی ہے، جبکہ تنظیم کے اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

اردن کی جانب سے یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب ملک میں چرچ پر حملے کے بعد سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اردنی حکام نے تین مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اردنی حکومت نے شام میں کارروائیوں کو چرچ حملے کے ردعمل سے جوڑا ہے، تاہم فراہم کردہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے طیاروں یا ہتھیاروں کی نوعیت کیا تھی اور شام میں کن مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

جنگجوؤں کی ہلاکتوں اور اسلحہ ڈپو کی تباہی سے متعلق تفصیلات بھی فی الحال اردنی حکام کے بیان پر مبنی ہیں۔