پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے واقعات، تحفظ کا نظام غیر مؤثر قرار

آن لائن جنسی استحصال کے واقعات کی مکمل تعداد معلوم کرنے کے لیے قومی سطح پر قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس موجود نہیں


آصف محمود October 27, 2026
فوٹو: فائل

لاہور:

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے واقعات کی مکمل تعداد معلوم کرنے کے لیے قومی سطح پر قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس موجود نہیں، جبکہ کمزور رپورٹنگ، اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان اور متاثرہ بچوں کے تحفظ کے ناکافی انتظامات کے باعث متعدد واقعات سامنے نہیں آتے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کو محض سائبر کرائم کا معاملہ سمجھنے کے بجائے بچوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں 2025ء میں مظفرگڑھ میں سامنے آنے والے ایک کیس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر چھ سال یا اس سے کم عمر بچوں سمیت کم از کم 50 بچوں کو ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں امریکی نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے منسلک مشتبہ بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے متعلق اطلاعات کی تعداد 2021ء میں 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم، یہ تعداد متاثرہ بچوں کی نہیں بلکہ ڈیجیٹل سرگرمیوں سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کی ہے۔

ایچ آر سی پی نے سفارش کی ہے کہ بچوں کے تحفظ کے اداروں، پولیس، سائبر کرائم تحقیقاتی اداروں، استغاثہ اور عدلیہ کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے، ملزمان کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے اور متاثرہ بچوں کو قانونی، نفسیاتی اور بحالی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

کمیشن کے مطابق صرف آگاہی مہمات کافی نہیں، بلکہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام، ادارہ جاتی جواب دہی اور انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں کا تعین بھی ضروری ہے۔