کراچی: رشتے سے انکار پر نازیبا تصاویر اور ویڈیوز سے بلیک میل کرنے والے کو 9 سال قید کی سزا

رشتے سے انکار کے بعد ملزم نے لڑکی اور اس کے خاندان کو بلیک میل، ہراساں اور دھمکانا شروع کر دی


ویب ڈیسک October 27, 2026

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی میں رشتے سے انکار پر نازیبا تصاویر اور ویڈیوز سے بلیک میلنگ کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، عدالت میں ملزم اویس ضیا کو مجرم قرار دیا گیا۔

جج گلریز میمن نے ملزم کو مجموعی طور پر 9 سال قید کی سزا سنادی، عدالت نے ملزم پر ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔

ملزم کو متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا، عدالت نے ضمانت منسوخ کر دی، ملزم کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔

استغاثہ نے کہا کہ ملزم متاثرہ لڑکی کے محلے دار تھے، ان کے گھر آنا جانا تھا، ملزم نے لڑکی کے لیے رشتہ بھیجا، لڑکی کے گھر والوں نے ملزم کا کردار اور رویہ دیکھ کر رشتے سے انکار کر دیا،  رابطے کے دوران ملزم نے لڑکی کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر لی تھیں، رشتے سے انکار کے بعد ملزم نے لڑکی اور اس کے خاندان کو بلیک میل، ہراساں اور دھمکانا شروع کر دی۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے واٹس ایپ کے ذریعے نازیبا مواد لڑکی کے والد اور رشتے داروں کو بھیجا  ، 2021 میں میں ملزم کو اُسکے گھر سے گرفتار کیا گیا۔

متاثرہ لڑکی نے گواہی دی کہ ملزم نے دھمکی دی کہ وہ اس کی شادی یا منگنی نہیں ہونے دے گا، وکیل صفائی نے کہا کہ رشتے سے انکار کے بعد خاندانی رنجش اور لین دین کے تنازعات کے باعث مقدمہ بنایا گیا،  لڑکی اور ملزم کا تعلق باہمی رضامندی کا تھا، تصاویر لڑکی نے خود اپنی مرضی سے بھیجی۔
 
عدالت نے کہا کہ متاثرہ کا بیان جرح کے بعد بھی "مضبوط اور غیر متزلزل" رہا، رضامندی کا مؤقف ملزم کو بری الذمہ نہیں کرتا،  ذاتی تصاویر کو بلیک میلنگ اور دھمکی کا ہتھیار بنانا کسی بھی رضامندی کو ختم کر دیتا ہے،  جب ذاتی مواد دباؤ، ہراسانی اور بلیک میلنگ کا ذریعہ بن جائے تو یہ پیکا کے تحت جرم ہے،  عینی گواہوں کے بیانات کو فرانزک رپورٹ نے مکمل تصدیق فراہم کی۔

ملزم کیخلاف سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے مقدمہ درج کیا تھا