وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں خیبرپختونخوا حکومت کو بحال کیا جائے، پی ٹی آئی

بانی چیئرمین کے علاج، اہل خانہ سے ملاقات، کارکنان و رہنماؤں کی رہائی سمیت دیگر معاملات پر قرارداد کثرت رائے سے منظور


اسامہ اقبال October 27, 2026

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے بانی پی ٹی آئی کے علاج، رہائی جبکہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فوری خاتمے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت کے پی حکومت کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا کئی گھنٹوں طویل اجلاس ہوا جس میں اراکین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی جبکہ کچھ اراکین اجلاس ادھورا بھی چھوڑ گئے۔

اعلامیے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اہم قرارداد منظور کی گئی جس میں بانی چیئرمین کی قیادت، فیصلوں اور وژن پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا گیا جبکہ بانی چیئرمین اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بانی چیئرمین سے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی ملاقاتیں بحال کی جائیں جبکہ آزادانہ طبی معائنے اور شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کروایا جائے،بانی چیئرمین کے ذاتی معالج کو علاج میں شامل کیا جائے۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ  خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آئین اور صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے اسے فوری طور پر ختم کیا جائے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت بحال کی جائے۔

پارلیمانی پارٹی نے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر منتخب مشاورتی کونسل اور منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرنے کے اقدامات کو مسترد کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ پارلیمانی پارٹی بانی چیئرمین کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو رہا کیا جائے اور لاپتہ افراد کے مقام اور معلومات دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ گرفتارارکان پارلیمنٹ کو اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات اور پارلیمانی کارروائی میں شرکت کا حق دیا جائے، عمر ایوب، شبلی فراز اور دیگر رہنماؤں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات اور سزائیں ختم کی جائیں اور نااہلیاں ختم اور متاثرہ ارکان کی پارلیمانی نشستیں بحال کی جائیں۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ سمیت سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کی جبکہ مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بانی چیئرمین اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں قومی اتحاد کو کمزور کرتی ہیں، امن کی بحالی کیلئے آئین، قانون اور صوبائی حقوق کے مطابق مؤثر اقدامات کیے جائیں، 8 فروری 2024 کے انتخابی مینڈیٹ کی بحالی یا ملک میں نئے شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

قرارداد میں 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم واپس لینے، عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے اور پُرامن احتجاج کے بنیادی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

پارلیمانی پارٹی نے مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کرنے جبکہ عوام کو معاشی ریلیف اور روزگار و کاروبار کے مواقع بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

پارلیمانی پارٹی نے بانی چیئرمین کی نامزد کردہ پارٹی اور پارلیمانی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت کا اظہار کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے اختیارات و ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں، پارٹی فیصلوں میں قومی اور صوبائی پارلیمانی پارٹیوں کی تجاویز کو مناسب اہمیت دی جائے جبکہ حتمی فیصلوں کا اختیار بانی چیئرمین اور ان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی قیادت کے پاس رہے گا۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے پارٹی کے اندرونی اختلافات عوامی بیانات کے بجائے متعلقہ فورمز پر حل کرنے جبکہ آئینی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اجلاس کے بعد پی ٹی آئی چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ آج کی میٹنگ انتہائی غیر معمولی تھی، تمام اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ نے کھل کر تمام قومی معاملات پر گفتگو کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج ، ایمرجنسی اور پارلیمانی معمالات پر کھل کر گفتگو ہوئی، یہ پارلیمانی پارٹی کا پہلا سیشن تھا جبکہ مزید اجلاس بھی ہوں گے، جو فیصلے ہوئے ہیں وہ اپوزیشن لیڈران کے سامنے رکھیں گے۔