ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے (حصہ اول)

مصنف کے مطابق 1958تک کراچی میں پریس کلب کی عمارت ایک مضبوط جمہوری ادارے کی حیثیت اختیار کرچکی تھی



مظہر عباس کسی تعارف کے محتاج نہیں، انھیں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا طویل تجربہ ہے اور اردو ، انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ وہ ایک کمیٹڈ ٹریڈ یونینسٹ ہیں۔ انھوں نے جب سے صحافت کا پیشہ اپنایا ہے، وہ پی ایف یو جے، کے یو جے اور کراچی پریس کلب کو متحرک کرنے والے گروپ میں سر فہرست رہے ہیں۔ ان کی اپنی تحریر کردہ کتاب "Media under the shadow of death" پاکستان کے میڈیا کے ماضی اور حال کی داستان ہے۔

یہ کتاب فی الحال انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے۔ جلد ہی اردو ایڈیشن بھی دستیاب ہوگا۔ انگریزی کی کتاب 331صفحات پر مشتمل ہے جس میں آزادئ صحافت کی تحریکوں اور پی ایف یو جے کے بانیوں کی کی نادر تصاویر بھی شامل ہیں۔

کتاب کا پہلا باب کراچی پریس کلب کے بارے میں ہے۔ مصنف کے مطابق 1958تک کراچی میں پریس کلب کی عمارت ایک مضبوط جمہوری ادارے کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ اس کی جمہوری شناخت اس اعتبار سے بھی نمایا ں ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی شمع کمزور رہی ہے ،تاہم پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں کراچی پریس کلب نے نہ صرف اپنی یہ شناخت برقرار رکھی ہے بلکہ اسے وقار، تسلسل اور جرات کے ساتھ آگے بھی بڑھایا۔

 فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار تک پریس کلب نے مختلف قسم کے دباؤ کا سامناکیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کراچی پریس کلب کی بنیاد 1958 میں اس وقت پڑی جب پی ایف یو جے اور کے یو جے نے صحافیوں کے لیے باقاعدہ کلب کی بنیاد رکھی تھی۔

پی ایف یو جے کے بانی ایم اے شکور نے اقبال حسین برنی، محمود اشعر، منتظر الحسن اور حامد زبیری کے ساتھ مل کر پریس کلب کا آئین تیار کیا۔ بقول مصنف کراچی پریس کلب ان اداروں میں شامل ہے جہاں 1958 سے آج تک باقاعدگی سے ہر سال انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ جب ایوب خان نے 1963 میں پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کا اجراء کیا تو کراچی پریس کلب نے احتجاج کا مرکز بن کر اس قانون کے خلاف صحافی برادری کی موثر نمائندگی کی۔ 1978 سے شروع ہونے والی صحافیوں کی مزاحمتی تحریک میں بھی کراچی پریس کلب نے تاریخی کردار ادا کیا۔

کتاب کے دوسرے باب میں پی ایف یو جے کی تاریخ بیان کی گئی ہے کہ 1950 میں پی ایف یو جے کے قیام سے لے کر آج تک اس تنظیم نے صحافت پیشہ وارانہ اصولوں کی پاسداری میں اہم کردار ادا کیا۔ 1950 کے آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادئ صحافت کی ضمانت پی ایف یو جے کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھی۔ 18ویں ترمیم کے آرٹیکل 19اور 19-A بھی اسی تنظیم کی کاوشوں کا ثمر ہے۔

بقول مصنف ، قیام پاکستان کے ساتھ ہی ملک میں آئینی حقوق کی ضمانت اور آزادئ صحافت کے لیے جدوجہد کاآغاز ہوگیا تھا۔ جنوری 1948میں مقامی انتظامیہ نے صحافیوں کے ایس ایم کالج میں ہونے والے ایک طے شدہ اجلاس کو اس وقت روک دیا تھا ، پھر یہ اجلاس موجودہ برنس گارڈن میں ہوا۔

اس اجلاس کے انعقاد میں ایم اے شکور، علی احمد خان اور اسرار احمد پیش پیش تھے۔ ان میں سے بیشتر صحافیوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز متحدہ ہندوستان سے کیا تھا۔ برنس گارڈن میں ہونے والے اجلاس میں عبدالشکور اور اسرار احمد کی قیادت میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی جانب سے ملک گیر سطح پر تنظیم کے قیام کے لیے صحافیوں کے حوصلہ افزاء پیغامات موصول ہوئے۔

یہ فیصلہ بھی ہوا کہ پہلے سے قائم پنجاب یونین آف جرنلسٹس (P.U.J) کو ازسر نو فعال کیا جائے گا۔ 2 اگست 1950ء کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا باضابطہ قیام عمل میں آیا اور اس اجلاس میں آئین کی منظوری دی گئی۔ اس اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو ایک جدید جمہوری ریاست کی حیثیت سے استوار کرنا ہے تو ریاست کے آئین میں آزادئ صحافت کی واضح اور غیر مبہم ضمانت ناگزیر ہوگی۔

اس موقع پر ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ اس اجلاس میں انٹرنیشنل یونین آف جرنلسٹس (I.U.J) کے نمائندوں کے علاوہ دہلی اور برطانیہ سے آئے ہوئے مندوبین بھی شریک ہوئے تھے۔ پی ایف یو جے کے آئین میں واضح طور پر درج تھا کہ تنظیمیں ملک میں آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کرے گی۔

تمام محنت کشوں بالخصوص صحافیوں کے معاشی اور پیشہ وارانہ حقوق کے لیے آواز بلند کرے گی اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ تربیت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ پی ایف یو جے نے اپنے بنیادی اصولوں پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور تمام جمہوری تحریکوں میں ایک موثر اور مرکزی قوت کے طور پر عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور پی ایف یو جے نے اپنا علیحدہ اور پیشہ وارانہ تشخص ہمیشہ قائم رکھا اور کبھی کسی سیاسی جماعت کی آلہ کار نہیں بنی۔

مصنف نے مزید لکھا ہے کہ معروف ریٹائر بیوروکریٹ روئیداد خان نے انھیں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ آزادی کے بعد حکومتی پالیسی یہ تھی کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ صحافیوں پرکریک ڈاؤن کیا جائے۔

صحافیوں کو عموماً بائیں بازو کا آلہ کار سمجھا جاتاتھا اور یہی وجہ تھی کہ اس کنونشن کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا۔ بقول روئیداد خان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس دور کی بیوروکریسی اور بالادست اشرافیہ آزادئ اظہار اور اختلافِ رائے جیسے بنیادوں تصورات کے خلاف ہوتے گئے۔

ملک میں میڈیا کے خلاف قوانین کا استعمال وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد شروع ہوا۔ پی ایف یو جے کا دوسرا سالانہ اجلاس (A.D.M) 1953میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ایک قرارداد می پی ایف یو جے کے نظریاتی خدوخال کو مزید واضح کیا گیا۔ دوسری قرارداد آزادئ صحافت سے متعلق تھی جب کہ تیسری قرارداد صحافتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے حالات کار کا احاطہ کرتی تھی۔

ایک اور قراداد میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ آزادئ صحافت کو قراردادِ مقاصد کا حصہ نہیں بنایا گیا نہ ہی اسے ریاست کی بنیادی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل کیا گیا۔ ایک اور قراداد میں ان صحافیوں اور کارٹونسٹوں کے نام بھی درج کیے گئے تھے جنھیںگرفتار کیا گیا۔

جب جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا تو پی ایف یو جے کی ایگزیکٹو کونسل کے کراچی میں ہونے والے اجلاس میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ 1959 میں مارشل لاء ریگولیشن اور سیکیورٹی آرڈیننس کے تحت پی پی ایل پر قبضہ کیا تو پی ایف یو جے کی ایف ای سی کے ڈھاکہ میں ہونے والے اجلاس میں پی پی ایل پر قبضہ کی شدید مذمت کی گئی۔

مظہر عباس نے لکھا ہے کہ جنرل ایوب خان کی حکومت نے 1956میں قائم ہونے والے پریس کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں پہلا ویج ایوارڈ 1960ء میں جاری کیا۔ جب ایوب خان نے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس جاری کیا تو پی ایف یو جے نے اخباری مالکان اور ایڈیٹروں کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک تاریخی جدوجہد کی۔

اپریل 1970 میں پی ایف یو جے نے اخباری کارکنوں کے معاشی تحفظ کے لیے تاریخی ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ جس کے نتیجے میں100 سے زیادہ صحافیوں اور کارکنوں کو برطرف کر کیا گیا مگر جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت قائم ہوئی تو یہ صحافی اور کارکن ملازمتوں پر بحال ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 1973میں نیوز پیپرز ایمپلائز ایکٹ نافذ کیا۔

اس قانون کے تحت صحافیوں کے علاوہ غیر صحافتی عملہ کو بھی ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق تنخواہیں ملنے لگیں۔ پی ایف یو جے نے مارچ 1971 میں جنرل یحییٰ خان کی مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کو ملک توڑنے کے مترادف قرار دیا۔

پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس منسوخ نہیں کیا اور نیشنل پریس ٹرسٹ کو تحلیل نہ کیا تو پی ایف یو جے نے حکومت پر سخت تنقید کی۔ اس دور میں اخبارات بند ہوئے اور کئی ایڈیٹروں کو گرفتار کیا گیا۔ پی ایف یو جے نے ایک دن کی ہڑتال کی اپیل کی۔ مظہر عباس لکھتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کا دور صحافت کے لیے تاریک ترین دور تھا۔

پی ایف یو جے اور ایپنک نے 1978میں اخبارات پر پابندیوں کے خلاف تحریک چلائی۔ اس تحریک میں کثیر تعداد میں صحافیوں نے کراچی اور پھر لاہور میں گرفتاریاں دیں۔  جب جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کو برطرف کیا تو پی ایف یو جے نے اپنے آئین اور اصولوں کے مطابق منتخب وزیر اعظم کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیا ، اس باب میں ان صحافیوں کا ذکر کیا ہے جنھوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

 مظہر عباس نے تیسرے باب میں ’’1970 کے انتخابات ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور میڈیا ‘‘کے عنوان سے لکھا ہے کہ 1970کے انتخابات کے دوران صحافیوں کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل تھی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مشرقی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پی ایف یو جے بنگلہ دیش کے قیام کے 6ماہ بعد تک متحد رہیں۔ذوالفقارعلی بھٹو دور کا ذکر کرتے ہوئے مظہر عباس لکھتے ہیں کہ بھٹو کا دور جمہوریت کے لیے ایک ایسا نادر موقع سمجھا جاتا ہے جو بھٹو کے اقدامات کے باعث ضایع ہوگیا۔

(جاری ہے)