امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات کی تعمیرِ نو کے شواہد نہیں ملے، آئی اے ای اے

آئی اے ای اے ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور جوہری مواد کے پُرامن استعمال کی تصدیق کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے


ویب ڈیسک October 28, 2026

ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی ان جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کے کوئی شواہد نہیں ملے جنہیں امریکا اور اسرائیل نے حملوں میں نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ معائنہ کاروں کی رسائی محدود ہونے کے باعث ایجنسی اس صورت حال کی مکمل تصدیق نہیں کرسکتی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق رافیل گروسی نے واضح کیا کہ دستیاب معلومات میں ایسی کوئی علامت سامنے نہیں آئی جس سے ثابت ہو کہ ایران نے متاثرہ جوہری تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کیا ہے۔ تاہم، محدود رسائی کے باعث ایجنسی کے لیے یہ یقینی طور پر طے کرنا ممکن نہیں کہ تنصیبات کی موجودہ حالت کیا ہے اور وہاں سرگرمیاں کس سطح پر جاری ہیں۔

آئی اے ای اے ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور جوہری مواد کے پُرامن استعمال کی تصدیق کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے معائنے اور نگرانی کے نتائج ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات اور سفارتی کوششوں میں اہمیت رکھتے ہیں۔

گروسی کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں یا تمام متاثرہ مقامات غیر فعال ہیں۔