پنشن سے متعلق نیا فیملی قانون کالعدم قرار، طلاق یافتہ بیوہ غیرشادی شدہ بیٹیوں کو پنشن دینے کا حکم

ہائی کورٹ فیصلے سے فیملی پنشن سے محروم ہزاروں خواتین کو فائدہ ہوگا


قیصر شیرازی October 28, 2026

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی  بینچ نے فیملی پنشن سے متعلق نیا فیملی قانون کالعدم قرار دیتے ہوئے طلاق یافتہ بیوہ غیر شادی شدہ بیٹیوں کو فوری فیملی پنشن دینے کا حکم دے دیا۔

ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس احسن رضا کاظمی نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے کہا کہ بیوہ طلاق یافتہ خواتین غیر شادی شدہ بیٹیوں کو فیملی پنشن محروم رکھنا آرٹیکل 25 خلاف ورزی ہے، نئے صوبائی فیملی قانون میں فیملی پنشن صرف بیوہ تک محدود کر دی گئی تھی۔

پٹیشن کے مطابق پنجاب حکومت نے 2024 میں یہ قانون تبدیل کیا، والدین وفات بعد طلاق یافتہ بیوہ غیر شادی شدہ بیٹیوں کو فیملی پنشن سے محروم کر دیا گیا تھا۔

قانون کو متاثرہ خاتون مسمات فلک شاہ اور تنویر سہیل شاہ ایڈووکیٹ نے چیلنج کیا تھا، ہائی کورٹ کا فیملی پنشن سے محروم تمام خواتین کو فیملی پنشن ادا کرنے کا حکم دیا، ہائی کورٹ فیصلہ سے فیملی پنشن سے محروم ہزاروں خواتین کو فائدہ ہوگا۔