پاکستان میں ماحول دوست کاروبار کے لیے 12 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے

منصوبوں کا تعلق صاف توانائی، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، زراعت اور کچرے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کرنے جیسے شعبوں سے ہے


ویب ڈیسک October 28, 2026

برطانوی حکومت کی معاونت سے پاکستان کے 10 کاروباری ادارے ماحول دوست منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے آئندہ 12 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 5 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

ان منصوبوں کا تعلق صاف توانائی، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، زراعت اور کچرے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کرنے جیسے شعبوں سے ہے۔

سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ان کاروباری اداروں کو برطانوی حکومت کی مالی معاونت سے تکنیکی اور مالی مشاورت فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنے منصوبوں کو سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار کیا۔

اس سلسلے میں کراچی میں منعقدہ اجلاس کے دوران کاروباری نمائندوں نے اپنے منصوبے سرمایہ کاروں، بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے سامنے پیش کیے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے تعاون یافتہ کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر پاکستان (سی ایف اے پاکستان) پروگرام، جس پر ڈی اے آئی عمل درآمد کررہا ہے، نے کاروباری اداروں کو تکنیکی، مالی اور صنفی مساوات و سماجی شمولیت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی ہے۔

پروگرام کے تحت 2022 سے 2024 کے دوران پاکستان میں 22 منصوبوں کی معاونت کی گئی اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے 4 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کرنے میں مدد ملی۔

27 اور 28 اکتوبر کو منعقد ہونے والے 2 روزہ کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر پاکستان انویسٹر روڈ شو میں ان 10 کاروباری اداروں کو ممکنہ سرمایہ کاروں سے براہ راست رابطے کا موقع دیا گیا۔

اس میں زراعت و زمین کے استعمال، کچرے کی ری سائیکلنگ، صاف توانائی، تعمیرات اور برقی ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ ان کاروباروں کے پاس آئندہ 3 برس کے لیے مجموعی طور پر 12 کروڑ ڈالر مالیت کے سرمایہ کاری منصوبے موجود ہیں۔

اس موقع پر حکومتی نمائندوں، سرمایہ کاروں اور صنعتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پالیسی، ضابطہ جاتی اور مارکیٹ سے متعلق رکاوٹیں دور کرکے پاکستان میں ماحولیاتی منصوبوں کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کیسے بڑھائی جاسکتی ہے۔

کراچی میں برطانیہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک برن نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ برطانیہ کی ماحولیاتی شراکت داری میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل جمع کرنے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور عملی اقدامات کے لیے ضروری پالیسی و ادارہ جاتی نظام مضبوط کرنے پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں حکومت پاکستان کے ساتھ دستخط کیے گئے یو کے پاکستان گرین کمپیکٹ کے تحت موسمیاتی تبدیلی، صاف توانائی، مالی معاونت، پالیسی مذاکرات، نجی سرمایہ کاری، ماحول دوست ہنر اور بین الاقوامی تعاون کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کے لیے وسیع تر فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

تقریب میں سندھ حکومت کے وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل متحرک کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معیشت، ترقی، بنیادی ڈھانچے، زراعت، شہروں، توانائی کے نظام اور عوام کے روزگار سے جڑا ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت کی ذمہ داری اب ایسے حالات پیدا کرنا ہے جہاں نجی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ لگا سکیں۔

دوسری جانب سی ایف اے پاکستان کی ٹیم لیڈ وردہ ملک نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کے لیے تیار پاکستانی کاروباری اداروں کو ایسے سرمایہ کاروں سے ملانا ہے جو ان کے منصوبوں کی مالی معاونت کرسکیں، تاکہ ابتدائی رابطے طویل مدتی شراکت داریوں میں تبدیل ہوں۔

واضح رہے کہ 2026 کے منتخب کاروباری اداروں میں اے ایس انٹرپرائزز شامل ہے، جو فصلوں کی باقیات سے بایو کوئلہ تیار کرتا ہے، جبکہ ٹریش اٹ نامی ادارہ نامیاتی کچرے اور فصلوں کی باقیات کو جرثوموں سے تقویت یافتہ کھاد میں تبدیل کرنے پر کام کررہا ہے۔ یہ منصوبے زرعی فضلے کے بہتر استعمال اور ماحول پر اس کے منفی اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کچرے کے انتظام اور سرکلر اکانومی کے شعبے میں صحارا ری سائیکلنگ شہری کچرے کی ری سائیکلنگ کے لیے مربوط مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جبکہ ویسٹ بسٹرز جے وی انٹرٹیک بلیک سولجر فلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے نامیاتی فضلے کو قابل استعمال بنانے پر کام کررہی ہے۔

صاف توانائی اور توانائی کی منتقلی کے شعبے میں بائیوویسٹ انرجی وینچرز لمیٹڈ بایومیتھین اور کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے نظام پر کام کررہی ہے۔ گوسِیڈ اٹ کم سہولت یافتہ متوسط طبقے کے صارفین کے لیے قسط وار ادائیگی کے ذریعے شمسی توانائی تک رسائی فراہم کرنا چاہتی ہے، جبکہ بائیو انرجی سلوشن پرائیویٹ لمیٹڈ زرعی اور نامیاتی فضلے سے بایوماس ایندھن کی گولیاں تیار کرتی ہے۔

تعمیرات کے شعبے میں ایکو ایج اے آئی عمارتوں میں توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے سینسرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کررہی ہے۔ برقی نقل و حمل کے شعبے میں بس کارو شہری مسافروں اور ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے کام کررہی ہے، جبکہ ڈائیوو ایکسپریس کا منصوبہ برقی بسوں کے بیڑے اور چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری سے متعلق ہے۔

برطانوی حکومت کے تعاون سے جاری اس پروگرام کے تحت 2022 سے اب تک پاکستان میں 22 منصوبوں کی معاونت کی جاچکی ہے اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے 4 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک ہوئی ہے۔

اگر موجودہ گروپ کے کاروبار مطلوبہ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کے منصوبے آلودگی میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کچرے کے بہتر انتظام اور صاف توانائی و ماحول دوست ٹرانسپورٹ تک رسائی بڑھانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔