کویت نے حکومتی عہدیدار کے قتل کی مبینہ سازش میں ایرانی شہری کے ملوث ہونے سے متعلق الزامات مسترد کرنے پر ایرانی سفیر کو طلب کرکے تہران کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کویتی حکام نے بدھ کو ایرانی سفیر محمد توتونجی کو طلب کیا اور ایرانی سفارت خانے کے بیان کو اپنے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت، ملکی خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس سے قبل کویت کے دو عدالتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ فہد الیوسف کے قتل کی سازش، ایران کے ساتھ تعاون اور حزب اللہ کی رکنیت کے الزامات پر تین افراد کو سزائے موت بھی سنائی گئی۔
یاد رہے کہ ایرانی سفارت خانے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کویتی حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور ایرانی مداخلت سے متعلق الزامات کو بے بنیاد اور فرسودہ قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ کویت میں سزائے موت پانے والا ایرانی شہری کسی عہدیدار کے قتل کی سازش یا کویت کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی کارروائی میں ملوث نہیں تھا بلکہ وہ گزشتہ 10 برس سے کویت سے باہر مقیم تھا۔
ادھر کویتی عدالتی ذرائع کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں ایرانی شہری عبدالرضا حیدر دہقانی بھی شامل ہے۔
جسے غیر حاضری میں 2016 کو مقدمے کی سماعت کے بعد ایران کے لیے جاسوسی اور حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ذرائع نے اس مقدمے میں حسین عبداللہ المطوق کا نام بھی بتایا جو کویت کے مذہبی شخصیت اور نیشنل اسلامک الائنس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں 25 کویتی شہری بھی شامل تھے۔ اس معاملے نے کویت اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔