ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق روزانہ ورزش اور جسمانی سرگرمی ڈپریشن کے جینیاتی خطرے سے وابستہ علامات کی شدت کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔
محققین نے سروے، الیکٹرانک طبی ریکارڈ، جینیاتی معلومات اور فٹ بِٹ آلات سے حاصل کردہ جسمانی سرگرمی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔
نتائج کے مطابق زیادہ متحرک افراد میں جینیاتی خطرے اور ڈپریشن کی شدت کے درمیان تعلق نسبتاً کمزور دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق ورزش دماغی افعال بہتر بنانے، جسمانی سوزش کو منظم کرنے اور ذہنی دباؤ کے اثرات کم کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
تحقیق کے مصنف ڈینور براؤن کا کہنا ہے کہ جینیاتی خطرے کو سمجھ کر طرزِ زندگی میں مناسب تبدیلیوں کے ذریعے ڈپریشن سے بچاؤ اور اس کی علامات کے انتظام میں مدد مل سکتی ہے۔
محققین نے واضح کیا کہ جسمانی سرگرمی کو ڈپریشن کے مکمل علاج کا متبادل نہیں بلکہ اس کے خطرات اور علامات سے نمٹنے کے لیے ایک ممکنہ معاون حکمتِ عملی سمجھا جانا چاہیے۔
جرنل نیچر مینٹل ہیلتھ میں شائع تحقیق میں 23 ہزار 517 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔