اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان خوفناک تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 68 ہوگئی جب کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فل پروف ٹرین سسٹم ہونے کے دعوے کے باوجود اس حادثے کی ایک مبینہ وجہ نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں ٹرین نظام کے کنٹرول سینٹر کے ایک فیصلے پر سوالات اٹھ گئے ہیں کہ سگنلنگ نظام میں خرابی کے باوجود ٹرین کو معمول کی رفتار سے سفر جاری رکھنے کی اجازت کیوں دی گئی۔
ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے میڈیا کو بتایا کہ میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب حادثے سے پہلے ریلوے کا حفاظتی نظام کمپیوٹر خرابی کے باعث بند ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں متعلقہ پٹری پر چلنے والی 6 ٹرینیں خودکار طور پر رک گئی تھیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ کنٹرول سینٹر نے تقریباً چھ منٹ بعد رینفے کی تیز رفتار ٹرین کو دوبارہ سفر شروع کرنے کی اجازت دے دی حالاں کہ حفاظتی اشارہ سرخ تھا اور آگے ایریو کمپنی کی ایک ٹرین پٹری پر کھڑی تھی۔
حکام کے مطابقول ضابطوں کے تحت ایسی صورت میں ٹرین کو معمول کی رفتار سے چلانے کے بجائے انتہائی احتیاط سے آگے بڑھنا چاہیے تھا۔
رینفے کی ٹرین نے تقریباً 25 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد صبح 8 بج کر 53 منٹ پر کھڑی ٹرین کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ تصادم کے نتیجے میں کئی ڈبے پٹری سے اتر گئے۔
پوینتے نے کنٹرول سینٹر کے فیصلے کو ناقابلِ فہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حادثے کی وجوہ اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا۔
ہسپانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے حادثے کے وقت ٹرینوں کی آمدورفت کی نگرانی کرنے والے آپریٹر سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ حکام نے کم از کم 68 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
حادثے کی حتمی وجہ اور ذمہ داری کا تعین تاحال تحقیقات مکمل ہونے سے مشروط ہے۔