قطر کی جانب سے امن معاہدے کے نکات موصول؛ ایران کا ردعمل سامنے آگیا

قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو باقاعدہ امن معاہدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔


ویب ڈیسک October 28, 2026
ایرانی صدر نے مجتبیٰ خامنہ ای کیساتھ 7 گھنٹوں پر مشتمل ملاقات کا احوال بتادیا (فوٹو: فائل)

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرانے کے لیے قطر کی جانب سے نئی امن تجویز پیش کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں صرف ایسے خیالات پیش کیے گئے ہیں جو ناقابلِ قبول ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ بات مذاکرات میں شریک ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی۔

مذاکرات سے واقف ایرانی عہدیدار نے مزید بتایا کہ قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو باقاعدہ امن معاہدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب مذاکرات سے آگاہ ایک اور ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ قطری ثالثوں نے اتوار کے روز ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے ایک مسودہ پیش کیا تھا جس پر ایران غور کر رہا ہے اور جمعے تک جواب متوقع ہے۔

اس ذریعے کے بقول مجوزہ معاہدے میں سات روزہ لائحہ عمل شامل ہے جس کے تحت دونوں فریق روزانہ اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کریں گے۔

اس ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ اس معاہدے پر عمل درآمد اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتا ہے، جبکہ کئی ممالک اس کی ضمانت دیں گے۔

یاد رہے کہ قطر اور پاکستان اس وقت بھی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور دونوں ثالثوں کی جانب سے سفارتی سطح پر فریقین سے رابطے بھی جاری ہیں۔

امریکا کی خواہش ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جنگ ختم کرنے کے عمل کا ابتدائی حصہ ہوں جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ پہلے ایرانی بحریہ کی امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھائی جائیں۔

واضح رہے کہ رواں برس فروری کے اختتام سے جاری جنگ نے آبنائے ہرمز اور اب باب المندب میں بھی عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے جبکہ جون میں فریقین کے درمیان ہونے والی عارضی مفاہمت بھی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی تھی۔