برطانوی اداکار اور کامیڈین رسل برانڈ کی اہلیہ لورا برانڈ نے عدالت میں اپنے شوہر کو خیال رکھنے والا، مہربان اور بچوں کے لیے بہترین باپ قرار دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق لورا برانڈ نے جمعرات کو لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر انہیں سمجھتے ہیں اور ان کے درمیان محبت اور اعتماد کا رشتہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ رسل برانڈ سے 2006 میں ایڈنبرا میلے کے دوران ملی تھیں اور دونوں نے جلد ہی تعلق قائم کر لیا تھا۔
لورا نے تسلیم کیا کہ اُس دور میں بھی اداکار رسل کے دوسری خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات بھی رہے جس کے باعث ان کے درمیان مسائل بھی پیدا ہوئے تھے۔
انھوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ تاہم دونوں نے 2015 میں دوبارہ تعلق شروع کیا اور 2017 میں شادی کر لی اور اب ان کے تین بچے بھی ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ اداکار کی اہلیہ نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ جب وہ کبھی جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتیں تو ان کے شوہر ان کی خواہش کا احترام کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ رسل برانڈ پر 1999 سے 2009 کے دوران جنسی زیادتی اور جنسی حملوں کے الزامات چھ متاثرہ خواتین نے می ٹو مہم کے زیر اثر عائد کیے ہیں۔ اس مہم نے خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والے جنسی مظالم پر بات کرنے کی ہمت دی۔
عدالت میں دو سابقہ گرل فرینڈز کے بیانات بھی پیش کیے گئے۔ ایک نے رسل کو نرم دل اور محبت کرنے والا قرار دیا، جبکہ دونوں نے ان کے دوسری خواتین سے تعلقات کا ذکر کیا۔
دوسری جناب رسل برانڈ ان تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دے چکے ہیں۔ عدالت میں یہ کیس ابھی زیر سماعت ہے جس میں آج اداکار کی اہلیہ گواہی کے لیے پیش ہوئی تھیں۔
رسل برانڈ نے ایک روز قبل عدالت میں کہا تھا کہ جنسی رضامندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ اداکار کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور جیوری کی جانب سے فیصلے پر غور منگل کو شروع کیے جانے کا امکان ہے۔