امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے نیٹو کے بعض یورپی رکن ممالک سے نجی ملاقاتوں میں روس کے بارے میں اپنی عوامی بیان بازی میں نرمی اور احتیاط برتنے کو کہا ہے۔
چار باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کے نزدیک بعض یورپی رہنماؤں کے سخت بیانات یورپی براعظم کی سیکیورٹی کے لیے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لتھوانیا، لٹویا اور ایسٹونیا ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں یہ پیغام دیا گیا۔ پینٹاگون کے پالیسی چیف ایلبرج کولبی بھی ان امریکی حکام میں شامل تھے جنہوں نے بعض یورپی حکام سے اس معاملے پر بات کی۔
ایک ذریعے کے مطابق امریکی حکام نے یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ روس کو ’’اشتعال دلانے‘‘ والی بیان بازی سے گریز کریں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے خاص طور پر ایسے بیانات پر اعتراض کیا جن میں کہا گیا کہ روس یوکرین جنگ میں مشکلات کے باعث ’’گھِر چکا ہے‘‘ اور مزید خطرناک اقدامات کر رہا ہے۔
ایک مثال کے طور پر یورپی بیانات میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں ’’کونے میں گھِرے چوہے‘‘ جیسی تشبیہ کا حوالہ دیا گیا۔
یہ امریکی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی کوششیں دوبارہ تیز کررہی ہے۔ واشنگٹن ایک طرف روس کو ممکنہ مراعات، جن میں پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہوسکتی ہے، دینے پر غور کررہا ہے جبکہ دوسری جانب یوکرین پر روسی توانائی تنصیبات کے خلاف حملے روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔