کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 4 روزہ تیزی کے تسلسل کے بعد جمعہ کو مندی رہی، جس سے انڈیکس کی ایک لاکھ 67 ہزار پوائنٹس کی سطح گرگئی۔
ماہرین کے مطابق جیوپولیٹیکل خراب صورتحال سے تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے رحجان اور افراط زر کی شرح بڑھنے سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی رہی۔ مندی کے باعث 60 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے ایک کھرب تین ارب 75 کروڑ 84 لاکھ 77 ہزار 606 روپے ڈوب گئے۔
کاروبار کا آغاز تیزی سے ہوا، جس سے ایک موقع پر 145 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن رول اوور ویک کی وجہ سے پرانے سودوں کے تصفیوں، بینکنگ اور ریفائنری سیکٹر میں پرافٹ سیلنگ کے باعث جاری تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی، جس سے ایک موقع پر 866 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی۔
اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر خریداری سرگرمیاں قدرے بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔ نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 784.19 پوائنٹس کی کمی سے 166409.25 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ کے ایس ای 30 انڈیکس 294.03 پوائنٹس کی کمی سے 49026.65 پوائنٹس، کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 457.17 پوائنٹس کی کمی سے 100685.85 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 986.42 پوائنٹس کی کمی سے 237971.74 پوائنٹس پر بند ہوا۔
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 1.05 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 82 کروڑ 54 لاکھ 67 ہزار 439 حصص کے سودے ہوئے، جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 501 کمپنیوں کے حصص تک وسیع ہوا، جن میں 173 کے بھاؤ میں اضافہ، 300 کے داموں میں کمی اور 28 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور پاکستان فوڈز کے بھاؤ 428.80 روپے بڑھ کر 26280 روپے اور رفحان میظ کے بھاؤ 104.14 روپے بڑھ کر 8587.46 روپے ہوگئے، جبکہ پاکستان انجینئرنگ کمپنی کے بھاؤ 35.70 روپے گھٹ کر 880.29 روپے اور سازگار انجینئرنگ ورکس کے بھاؤ 33.11 روپے گھٹ کر 1400.25 روپے ہوگئے۔