عالمی امن کا فیصلہ کن موڑ

آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورت حال اس تنازع کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔


ایڈیٹوریل October 31, 2026

تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی نائب صدر کا ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے رابطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران کو یہ خط موصول ہوچکا ہے، تاہم ایران کی جانب سے تاحال اس کا جواب نہیں دیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رابطے کو امن مذاکرات کی بحالی کی کوشش قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ اس کا تعلق طبی سامان کی فراہمی سے تھا، لیکن امریکی نائب صدر کے رابطے اور مستقبل کے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو زیرِ بحث لانے کی اطلاعات اس معاملے کو ایک وسیع تر سفارتی تناظر فراہم کرتی ہیں۔ بظاہر واشنگٹن ایک ایسا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہے جس کے ذریعے عسکری تصادم سے نکلنے کی گنجائش پیدا ہوسکے، مگر امریکی انتظامیہ کے اندر مختلف آوازیں اور متضاد بیانات اس حکمت عملی کے بارے میں ابہام بھی پیدا کر رہے ہیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکا واقعی جنگ کے خاتمے کا خواہش مند ہے یا سفارت کاری کو اپنے عسکری اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایک عارضی ذریعہ سمجھ رہا ہے؟ کسی بھی تنازع میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے پہلی شرط اعتماد کی بحالی ہوتی ہے۔ جب ایک جانب مذاکرات کا پیغام دیا جائے اور دوسری جانب ممکنہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی خبریں سامنے آئیں تو فریق مخالف کے لیے اس پیش رفت پر اعتبار کرنا آسان نہیں رہتا۔

امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان سے متعلق اطلاعات نے بھی تہران کے تحفظات میں اضافے کا خدشہ پیدا کیا ہے۔ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات امریکی صدر کے لیے ایک اہم سیاسی مرحلہ ہیں۔ جنگ کے طویل ہوتے ہوئے اثرات، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، امریکی عوام پر معاشی دباؤ اور بیرونِ ملک فوجی مداخلت کے نتائج انتخابی سیاست کو متاثر کرسکتے ہیں۔ چنانچہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا کہ وہ سفارتی راستہ اختیار کرے یا ایک نئے عسکری محاذ کا خطرہ مول لے۔

 جنگیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں شروع نہیں ہوتیں، بعض اوقات ان کا آغاز بند کمروں میں ہونے والی ان ملاقاتوں سے ہوتا ہے جہاں چند افراد کے سیاسی عزائم، کسی ایک رہنما کی ضد اور طاقت کے اظہار کی خواہش پوری قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کر رہی ہوتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاس ہے۔ ایک طرف میزائلوں کی گھن گرج، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا خطرہ اور تیل بردار جہازوں کو پیش آنے والے حادثات عالمی معیشت کے اعصاب پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، تو دوسری جانب سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوششیں اس امید کو زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ شاید جنگ کے شعلوں کو مزید پھیلنے سے پہلے بجھایا جاسکے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایرانی قیادت کو خط بھیجا جانا اسی تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے، جسے محض ایک رسمی رابطہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اس صورت حال کا دوسرا اہم پہلو اسرائیل کی سیاسی اور تزویراتی ترجیحات ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کو اپنے ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنا ان کی حکمت عملی کا اہم حصہ رہا ہے۔

اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ امریکی سیاسی حلقوں میں بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو سخت گیر موقف رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کو دوبارہ عسکری کارروائی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی امریکی صدر کے لیے اسرائیلی ترجیحات کو اپنی قومی ضروریات پر فوقیت دینا سیاسی طور پر آسان نہیں۔ امریکا کی داخلی سیاست، انتخابی تقاضے، دفاعی اخراجات اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ ایسے عوامل ہیں جنھیں نظرانداز کرکے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل کی داخلی سیاسی مشکلات اور انتخابی غیر یقینی بھی نیتن یاہو کے لیے اضافی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل کسی ایک رہنما کی سیاسی بقا یا انتخابی کامیابی سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف بھی مذاکرات کے مستقبل کا تعین کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ پیش رفت کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران محض مذاکرات کی بحالی کو کامیابی نہیں سمجھے گا بلکہ وہ کسی بھی سمجھوتے میں اپنی سلامتی، خودمختاری، جوہری حقوق اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کی ضمانت چاہتا ہے۔

امریکا کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات کا مرکزی موضوع بنانا قابلِ فہم ہے، لیکن اس معاملے کو یک طرفہ شرائط کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پائیدار معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے تحفظات کو مذاکرات کی میز پر رکھیں اور ایک دوسرے کے جائز خدشات کو تسلیم کرنے کی آمادگی ظاہر کریں۔ سفارت کاری کا مفہوم کسی ایک فریق کی مکمل شکست نہیں بلکہ ایسے مشترکہ راستے کی تلاش ہے جس سے تصادم کے امکانات کم ہوں۔

آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورت حال اس تنازع کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔ یہ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کی شہ رگ ہے۔ بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد چار آئل ٹینکروں میں آگ لگنے اور ایک جہاز کے ڈوبنے کی اطلاعات نے عالمی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ اس نوعیت کے واقعات سے نہ صرف جہاز رانی اور بیمہ کی لاگت بڑھتی ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی رسد بھی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

اس کے اثرات ان ممالک تک محدود نہیں رہتے جو براہِ راست جنگ کا حصہ ہیں۔ پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی بل کا بڑھنا، نقل و حمل کے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی مہنگائی ایک نئی معاشی آزمائش بن سکتے ہیں۔ یوں خلیج میں ہونے والی ایک فوجی کارروائی کا بوجھ ہزاروں میل دور بیٹھے عام شہری کو بھی ایندھن، بجلی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اس تمام منظرنامے میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ امریکی نمائندے ٹام بیرک کی جانب سے دونوں ممالک کے کردار کو سراہنا اس امر کا اعتراف ہے کہ علاقائی ممالک کی مسلسل کوششوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا راستہ کھل رہا ہے۔

بیرک نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں فریق کسی ابتدائی سفارتی مفاہمت کے قریب پہنچ چکے ہیں اور انھیں عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روک کر کشیدگی کم کرنے کا موقع دینا چاہیے، اگرچہ ایسی مفاہمت کو حتمی امن معاہدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں میں وقفہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع بھی ہے اور ذمے داری بھی۔ ایران کے ساتھ جغرافیائی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات جبکہ امریکا کے ساتھ سفارتی و اقتصادی روابط پاکستان کو ایسا کردار ادا کرنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں جس میں دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور اعتماد سازی کو فروغ دیا جاسکے۔ قطر بھی اپنے سفارتی تجربے اور علاقائی روابط کے ذریعے اس کوشش کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

دنیا کے امن پسند ممالک، عالمی اداروں اور بااثر طاقتوں کو بھی اپنی ذمے داری محسوس کرنا ہوگی۔ اقوام متحدہ کو سفارتی کوششوں کی حمایت اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ یورپی ممالک، چین، روس اور خلیجی ریاستیں بھی اپنے اپنے اثر و رسوخ کو جنگ بندی کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی بھی کسی ایک ملک کی فتح یا شکست سے ختم ہونے والی نہیں۔ اس کے اثرات پورے خطے، عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی امن پر مرتب ہوں گے۔

امریکی قیادت کو داخلی انتخابی سیاست، اسرائیلی دباؤ اور انتہا پسندانہ مشوروں سے بالاتر ہوکر اپنے قومی اور عالمی مفادات کا جائزہ لینا ہوگا، جبکہ ایرانی قیادت کو بھی سفارتی مفاہمت کے لیے حقیقت پسندانہ لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان اور قطر سمیت امن کے خواہش مند ممالک کو اس موقع کو ضایع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ آج دنیا کو مزید میزائلوں، جنگی جہازوں اور دھمکیوں کی نہیں بلکہ ایسے بالغ نظر رہنماؤں کی ضرورت ہے جو اختلافات کے باوجود مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، اگر واشنگٹن اور تہران اس حقیقت کو سمجھ لیں تو موجودہ بحران ایک نئے تصادم کے بجائے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔