تیل کی قیمت اور لیوی

تیل صرف ایک سیال نہیں، یہ زمانے کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون ہے، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی سے بیرون ممالک خوب نمٹنا جانتے ہیں



تیل صرف ایک سیال نہیں، یہ زمانے کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون ہے، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی سے بیرون ممالک خوب نمٹنا جانتے ہیں ۔اس کے برے اثرات سے اپنے شہریوں کو بچا لیتے ہیں کیونکہ وہاں پر افراط زر کی شرح کو اپنی مرضی کے مطابق رکھتے ہیں۔ اتنا کچھ ہو گیا، اب جا کر چند ترقی یافتہ ملکوں کے شہریوں نے آواز نکالی کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ حکومت اسے کنٹرول کرے لیکن پاکستان کا مسئلہ دوسرا ہے۔

افراط زر پر کنٹرول نہیں، اس کے ساتھ حکومت لیوی کم کرنے پر راضی نہیں لہٰذا جب عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو صرف انجن نہیں بلکہ پورے پاکستان کی سانس مہنگی ہو جاتی ہے لوگ گاڑیوں سے اتر کر اسکوٹر پر آ جاتے ہیں اور غریب بائیک والا اپنی پرانی سائیکل نکال لیتا ہے اور سائیکل والا اپنا سینہ چوڑا کرکے سائیکل چلا رہا ہوتا ہے۔ حکومت تیل مہنگا کرتی چلی جا رہی ہے اور سارا الزام عالمی تیل مارکیٹ پر دھر دیتی ہے۔

اگست کی ابتدا میں برینٹ بینچ مارک 77.5 ڈالر کے آس پاس سستا رہا تھا۔ دنیا نے بھی کچھ سکھ کا سانس لیا تھا کہ پھر 30 اگست کے بعد ہرمز پر جنگ کے باعث بارود کی بو پھیلی۔ امریکی حملہ پھر ایران کا جوابی حملہ آبنائے ہرمز کی بندش کی افواہ اور پھر عالمی تیل و گیس کی سپلائی کا 14 فی صد متاثر ہوا اور نتیجہ وہی جو ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے۔ اگست کے آخر میں 80 ڈالر سے ستمبر میں 106.83 ڈالر نے چھوا۔ اکتوبر میں 102.60 ڈالر سے ہوتا ہوا 109.86 پر بند ہوا۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ قیمتوں کو کم سطح پر لے کر آتی، لیکن لیوی ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا ،گزشتہ دنوں پٹرول 376.06 روپے کا ہو گیا۔ حکومت جب بھی ریٹ کا اعلان کرتی ہے تو یہ جملہ سن سن کر غریب عوام کے کان پک گئے ہیں کہ ’’عالمی منڈی کی وجہ سے۔‘‘ پٹرول کا مہنگا ہونا صرف گاڑی والوں کے لیے مسئلہ نہیں ہے بلکہ سوزوکی والے نے کرایہ بڑھایا تو سبزی والے نے سبزی کی قیمت بڑھا دی۔ وہ دکاندار جوکہ جوڑیا بازار یا اکبری منڈی سے اشیائے خوراک خرید کر لا رہا تھا کرایہ بڑھنے پر اس نے بھی اشیا کے دام بڑھا دیے۔

وہ لوگ جو پہلے 100 روپے میں مزدا یا ویگن میں بیٹھ کر منزل پر پہنچ جاتے تھے اب 140 یا 150 روپے خرچ کرکے بھی ویگن والے سے تکرار کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ ایسے ویگنوں یا مزدا بسوں میں نہ کوئی کرایہ نامہ آویزاں ہوتا ہے نہ ہی کوئی ٹکٹ دیا جاتا ہے۔ پھر تو ظاہر ہے ہلکی پھلکی لڑائی کا میدان تیار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایل پی جی سلنڈر فی کلو میں اضافہ ، ٹھیک ہے جو اضافہ حکومت نے کیا وہی وصول کر لیں مگر یہ مافیاز والے تو اتنے آزاد ہو گئے کہ مارکیٹ میں شارٹیج پیدا کر دی اور بلیک میں 80 روپے یا 100 روپے کے اضافے سے فروخت ہو رہا تھا۔ اب جب تیل مہنگا ہوگا تو فرنس آئل بھی مہنگا ہوگا۔ چھوٹے کارخانے والے شدید متاثر ہوتے ہیں، حکومت غریب عوام کا خیال کرے اور لیوی میں کمی لے کر آئے۔ حکومت ایسے لوگوں کو لگام دینے میں ناکام جوکہ ذخیرہ اندوزی کر لیتے ہیں۔سندھ حکومت موٹر سائیکل چلانے والوں کو کچھ ریلیف فراہم کر رہی ہے ۔ اس دائرے کو تھوڑا سا آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

غریب رکشے والے، سوزوکی والے اور امیر پجیرو والے کو ایک ہی ریٹ پر تیل دینا ناانصافی ہے کیونکہ امیر کی لینڈ کروزر اور غریب کی سوزوکی کو ایک ہی قیمت پر تیل دینا کہاں کا انصاف ہے۔ وزیر اعظم صاحب لیوی کم کریں لیکن صرف غریبوں کے لیے اس کے لیے کوئی بھی طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہرمز کی کبھی بندش اور کبھی افواہ سازی ہماری معیشت کو لے ڈوب رہی ہے۔ اس کا فوری علاج سوچنا ہوگا جس میں لیوی کو فوری کم کرنا ایک مناسب راہ عمل ہے۔ ملک سے تیل نکالنے کے عمل کو تیز تر کیا جائے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کبھی بھی یکساں نہیں رہتی اور جب تیل کا درآمدی بل بڑھتا ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آتا ہے اور یہ دباؤ روپے کو لے ڈوبتا ہے۔

ادھر روپیہ سستا ہوا تیل مہنگا ہو گیا، پھر برآمدی شے مہنگی ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہرمز کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے تیل و گیس کی پیداوار کو ترقی دیں۔ تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو عالمی معیار کے مطابق لے کر آئیں تاکہ تیل کی سپلائی کی کمی، زیادتی سے ہماری معیشت کو کوئی فرق نہ پڑے۔ اس سے تیل کی قیمت کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوگی اور غریب عوام بھی عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں کمی کے برے اثرات سے محفوظ رہیں گے۔