پختونخوا میں بروقت گورنر راج نہ لگاتے تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا، وزیراعظم

2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا، جس سے ملک کو بہت نقصان پہنچا، شہباز شریف


ویب ڈیسک October 31, 2026

اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پختونخوا میں بروقت گورنر راج نہ لگاتے تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔

مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداوں سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بطوروزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے  کارکن کی حیثیت سے آپ  سے مخاطب ہوں۔ خیبر پختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ  اوریہاں  کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں ۔ مسلم لیگ ن نے خیبر پختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعدقائدنواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ نواز شریف کی جمہوری سوچ اور فراخ دلی نے خیبر پختونخوا میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ خیبر پختونخوا میں  13 سال  برسراقتدار پارٹی  کی طرف سے بلند  بانگ دعوے کیے گئے۔ گزشتہ 13سال میں صوبے میں کتنی یونیورسٹیاں اور اسپتال بنائے گئے؟۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی۔ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی  مسائل عدم توجہی کا شکار رہے ۔ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں خیبر پختونخوا کے عوام نے عظیم قربانیاں دیں۔ عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور  معاشی نقصان اٹھایا۔ نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا ۔ اے پی ایس پشاور  کا انتہائی دردناک اور دل خراش واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے۔ ننھے بچوں  کی شہادت کا سانحہ  تاریخ میں ایک المناک مثال کے طور پرموجود رہے گا ۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ڈھائی سال  میں  ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست  کی گئی۔ 2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا ۔ 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان  میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا۔ دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو  بہت نقصان پہنچا ۔ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی ۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا ۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے؟ ۔ خیبر پختونخوا میں  محکمہ انسداددہشتگردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار خالی  اسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت  کی فراہمی پر خرچ ہونے چاہییں تھے ۔ ملکی معیشت  مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی ۔ عالمی حالات اور خلیج جنگ کے باعث  توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی سکیم کااجراء کیا، جس سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے۔ غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی  اہم ترجیح ہے۔ ملکی معیشت کو  عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔

صوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی  کا نفاذ کیا گیا،مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے ۔ مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا  لیکن منظوری نہ مل سکی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبےکی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ ن اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔