راولپنڈی:
تھانہ ٹیکسلا کے علاقے میں گانگو چیک پوسٹ پر پولیس عملے کے مبینہ تشدد سے شہری جاں بحق ہوگیا، اے ایس آئی سمیت دو کانسٹیبلوں کے خلاف قتل کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔
مقدمہ مقتول اکمل خان کے چھوٹے بھائی زاہد خان کی مدعیت میں تشدد و قتل کی دفعہ 302/34 کے تحت درج کیا گیا جس میں اے ایس آئی کاشف اور دو کانسٹیبلوں سہیل اور قدیر پر تشدد و قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مدعی زاہد خان نے موقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکاروں نے میرے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا، بھائی اکمل خان گاڑی میں سی این جی بھروانے گیا تھا، گانگو چیک پوسٹ پر پہنچا تو تھانہ ٹیکسلا کے اہلکاروں نے اسے چیک پوسٹ پر روک لیا۔
مدعی کے مطابق بھائی اکمل علی خان نے اپنے فون سے درگاہی کے رہائشی فرخ امیر خان کو کال کرکے بتایا کہ مجھے تھانہ ٹیکسلا کے پولیس اہلکاروں نے گانگو چیک پوسٹ پر روک لیا ہے جس پروہ فرخ امیر خان اور مختیار خان بھی موجود تھا چیک پوسٹ پہنچ گئے۔
مدعی نے بتایا ہم چیک پوسٹ پہنچے تو دیکھا کہ بھائی اکمل علی خان کو پولیس اہلکار اپنی چیک پوسٹ کے کمرہ کے اندر زدو کوب کر رہے تھے، اکمل علی خان زمین پر گرا ہوا تھا اور منت سماجت کر رہا تھا، ہم تینوں نے پولیس اہلکاروں کی منت سماجت کی لیکن انہوں نے اس کو نہ چھوڑا۔
مدعی کے مطابق اے ایس آئی کاشف نے اپنے دیگر کانسٹیبلوں سہیل اور قدیر کو کہا کہ اسکو مارو جس پر تینوں پولیس اہلکاروں نے اکمل خان کو لاتوں اور مکوں سے مزید تشدد کیا، بعد ازاں ہم اکمل خان کو گاڑی میں ڈال کر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال ٹیکسلا لے کر آئے جہاں ڈاکٹر نے زخمی اکمل خان کو چیک کیا تو بتلایا کہ اسکی موت واقع ہو چکی ہے۔
اے ایس آئی کاشف کانسٹیبلز سہیل اور قدیر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور جان بوجھ کر جان سے مارنے کی نیت سے بھائی کو ناحق قتل کیا انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور ہمیں انصاف دلایا جائے۔
مدعی نے مطالبہ کیا کہ انکی گاڑی کے کاغذات بھی پولیس نے لے لیے تھے وہ بھی واپس دلوائے جائیں اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوائی جائے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملوث اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
دریں اثنا پولیس چوکی میں اکمل خان کی موجودگی کی ویڈیو سامنے آگئی، فوٹیج میں مقتول کو چارپائی پر پریشان حالت میں لیٹے اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو میں چوکی پہنچنے والے افراد پولیس اہلکار سے بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ایک شخص اکمل خان کی حالت دیکھ کر پانی پلانے کا کہتا سنائی دیتا ہے۔ فوٹیج میں پولیس اہلکار کو وہاں موجود افراد کی ویڈیو بناتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
واقعہ سڑک پر ٹرک اور اکمل خان کی گاڑی آمنے سامنے آنے اور راستہ بند ہونے پر معمولی تنازع سے شروع ہوا جو ٹرک ڈرائیور کے بجائے پولیس اور اکمل خان کے درمیان جھگڑے میں تبدیل ہوگیا۔
واقعے کے دوران مشتعل افراد نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، ایک تھانیدار زخمی ہونے کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہے۔
واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری جاری ہے جبکہ پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا ہے۔