سری لنکا کا اسکور 325رنز تک پہنچ گیا، پاکستانی ڈریسنگ روم میں یہی سوچ تھی کہ اتنے بڑے ہدف کا تعاقب آسان نہیں ہو گا، البتہ ایک پلیئر بالکل مطمئن نظر آ رہا تھا، وہ ماضی میں بھی ایسے بڑے میچز میں ٹیم کو فتح دلا چکا،اسے اب ایک بار پھر اپنی ایسی ہی کارکردگی کا یقین تھا، جب وہ میدان میں داخل ہوا تو جلد ہی اسکور بورڈ پر 2 وکٹ پر 14 رنز کا ہندسہ درج ہو گیا۔
معاذ صداقت کے بعد جب بابر اعظم نے وکٹ گنوائی تب بھی اس کے ماتھے پر شکن نہیں آئی، اسے خود پر اعتماد تھا کہ کچھ کر کے ہی واپس جانا ہے، پھر نوجوان سعد بیگ کے ساتھ بڑی شراکت سے ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کیا، آپ سب جانتے ہیں کہ بات فخر زمان کی ہو رہی ہے، ایک بے لوث شخصیت کے حامل انسان جنھوں نے کبھی اپنی ذاتی کارکردگی کو ٹیم پر ترجیح نہ دی، ان کی نہ کوئی پی آر ٹیم ہے نہ کسی نے کنگ، چیتے یا ٹائیگر جیسا لقب دیا۔
سوشل میڈیا پر جانثاروں کی فوج ہے نہ ہی ایسے سابق کرکٹرز کا ساتھ جو ہر وقت مدح سرائی کرتے رہیں،ان کو نہ کپتان بننے کا شوق ہے نہ دماغ میں اتنا تکبر کہ اپنے سامنے کسی کو کچھ سمجھے ہی نہیں،فخر ایک انتہائی سادہ شخصیت کے مالک ہیں،عام سا لائف اسٹائل، کبھی خود کو بہت بڑا سپراسٹار نہیں سمجھا۔
شاید کیریئر کے اعدادوشمار ٹیلنٹ کی درست عکاسی نہ کر پائیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ میچ ونر ہیں،اکثر کھلاڑی جب دیکھیں کہ ٹیم مشکل میں ہے تو یا تو اپنے تھوڑے بہت رنز بنا کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں یا جونیئرز کو آگے کر کے خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
فخر نے کبھی ایسا نہ کیا ہمیشہ ٹیم کا مفاد مقدم رکھا اسی لیے عزت ملی، ہمارے ملک میں بہت سے کھلاڑی اسٹار بننے کے باوجود خود کو غیرمحفوظ سمجھتے ہیں، انھیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں کوئی نوجوان کھلاڑی جگہ نہ چھین لی،اسی لیے کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، فخرزمان کا معاملہ اس کے الٹ ہے، ہر ینگسٹر ان کے مشوروں سے مستفید ہوتا رہتا ہے، گزشتہ دنوں فخر زمان نے مجھے ایک دلچسپ قصہ سنایا تھا کہ کس طرح ماضی میں انھوں نے صاحبزادہ فرحان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر ان سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا اور اپنی ڈومیسٹک ٹیم سے کھیلنے کا کہا۔
پی ایس ایل میں بھی لاہور قلندرز میں عاطف رانا اور سمین راناکے ساتھ انھوں نے برسوں گذار دیے اور اس ٹیم کو اپنی فیملی قرار دیتے ہیں، حالیہ ٹرائنگولر سیریز میں فخر زمان فائنل سے قبل ناکام ثابت ہوئے تھے، بعض حلقوں نے انھیں ٹیم سے باہر کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا تھا،البتہ ٹیم مینجمنٹ نے اعتماد برقرار رکھا اور فخر زمان نے بھی سنچری بنا کر پاکستان کو فتح دلا دی، عام طور پر بڑے مقابلوں میں پلیئرز دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں البتہ فخر زمان کی کارکردگی زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہے، بلاشبہ وہ بڑے میچز کے بڑے کھلاڑی ہیں۔
آج سوشل میڈیا اسکرول کرتے ہوئے مجھے احمد شہزاد کی ایک کلپ نظر آئی،عموما میں ایسے ”شاندار“ تبصرے سننے سے گریز ہی کرتا ہوں لیکن ہیڈ لائن دیکھ کر ہمت کر لی، اس میں وہ کچھ ایسا فرما رہے تھے کہ ”فخر کو اتنے چانسز ملے تو ایک بڑی اننگز کھیل لی، اسی طرح بابر کے ساتھ بھی ہو گا اسے بھی کھلاتے رہیں“ ایسی باتوں سے حسد کی بو آتی ہے،ہماری ٹیم میں ایسا کون سا کھلاڑی ہے جو تسلسل سے ہر میچ میں پرفارم کر رہا ہو؟ اگر کسی کے بارے میں یقین ہو کہ اسے چار میچز کھلائے تو ایک میں تو فتح دلا ہی دے گا تو اسے کسی صورت باہر نہیں کرنا چاہیے۔
شاہد آفریدی کی مثال سامنے رکھیں وہ ہر چند میچز بعد کوئی ایک اپنی انفرادی کارکردگی سے جتوا دیتے تھے،اسی لیے سب سے زیادہ مین آف دی میچز حاصل کرنے والے پاکستانی کرکٹرہیں، فخر جیسے کھلاڑی ورلڈکپ میں ٹیم کا اثاثہ ثابت ہوتے ہیں، آئندہ سال افریقہ میں میگا ایونٹ کا انعقاد ہو گا وہاں وہ بہت کام آ سکتے ہیں۔
مائیک ہیسن پر ہم سب بہت تنقید کرتے رہتے ہیں لیکن یہاں انھیں سراہنا چاہیے کہ فخرزمان پر اعتماد برقرار رکھا اور سوشل میڈیا کے دبائو میں نہیں آئے، کپتان شاہین آفریدی تو چاہے لاہور قلندرز ہو یا پاکستان ٹیم پہلا نام فخرزمان کا ہی لکھتے ہیں،ان کے فٹنس مسائل بھی کم ہوئے ہیں، فخر آرام سے 2،3 سال ملک کی نمائندگی کر سکتے ہیں، زمبابوے اور آئرلینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف انھیں آرام کروائیں اور اہم میچز میں کھلائیں، اسی طرح کیریئر آگے بڑھ سکے گا، ایک اننگز کس طرح ملکی کرکٹ میں جان ڈال سکتی ہے اس کا ثبوت فخر نے پیش کر دیا۔
ٹرائنگولر سیریز کی فتح سے پی سی بی پر بھی دبائو کم ہوا ہو گا ورنہ تو ملک میں کرکٹ کے مستقبل پر ہی سوال اٹھائے جا رہے تھے، اب یہ آس ملی کہ ہماری ٹیم میں دم خم موجود ہے،سلیکٹرز عاقب جاوید اور سرفراز احمد کی بھی جان میں جان آئی ہو گی،سب سے اچھی بات نوجوان کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی ہے، سعد بیگ، عرفات منہاس اور حسن نواز نے بہتر کھیل پیش کیا، پیسرز کی بھی پرفارمنس میں بہتری نظر آئی،البتہ بابر اعظم بیحد مایوس کر رہے ہیں،انھیں چاہیے کہ فخر سے سبق سیکھیں، مثبت انداز سے کھیلیں گے تو فارم بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
سلمان علی آغا کو بھی کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا، نوجوان کرکٹرز کا اچھا کھیل اپنی جگہ لیکن ٹیم میں سینئرز کی موجودگی بھی ضروری ہے، فخر، بابر اور سلمان پاکستان کی ورلڈکپ مہم میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں،شاہین خود کو بطور کپتان منوا چکے،بولنگ بھی اچھی کر رہے ہیں۔
پی سی بی کو انھیں ورلڈکپ تک کپتان مقرر کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے تاکہ خود کو ٹاس کا سکہ اچھالتے دیکھنے کا خواب آنکھوں میں سمانے والے دیگر کرکٹرز صرف اپنے کھیل پر ہی توجہ دے سکیں، یہاں بھی فخر زمان کی مثال سامنے آتی ہے جو برسوں سے کرکٹ کھیل رہے ہیں لیکن کبھی کپتانی کے پیچھے نہیں بھاگے نہ ہی کسی سے شکوہ کیا، ہمیں ایسے ہی کھلاڑیوں کی ضرورت ہے، قوم کو آپ پر فخر ہے فخر ایسے ہی ملک کا نام روشن کرتے رہیں۔