20 ویں صدی اس اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ بالخصوص 20 ویں صدی کا اولین دوسرا و تیسرا عشرہ کہ ان دو تین عشروں میں ادب کی تاریخ میں بہت بڑے بڑے ترقی پسند اہل قلم پیدا ہوئے۔ یہ اہل قلم 20 ویں صدی کے چوتھے و پانچویں عشرے میں جب یہ قلم سے اپنا رشتہ قائم کر چکے تو اس دور کا بہترین ادب جو تخلیق ہوا تو وہ ادب باذوق قارئین آج بھی بڑی توجہ و شوق سے پڑھتے ہیں بلکہ یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ ان ادبا کی تحریریں آج کے اہل قلم کے لیے حوالہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ بھی ایک صداقت ہے کہ ان ادبا کی تحریروں کی بدولت 20 ویں صدی کے چوتھے و پانچویں عشرے میں دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا اور بالآخر دنیا سامراج سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی چلی گئی ، برصغیر میں بھی بڑے بڑے ادبا کے نام ہمارے سامنے آئے ان ادبا میں ایک نمایاں نام ہے غلام عباس صاحب کا، جنھوں نے 17 نومبر 1909 کو امرتسر میں جنم لیا۔
ان کے والد محترم کا اسم گرامی میاں عبدالعزیز تھا، گمان کیا جا سکتا ہے کہ غلام عباس نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہی حاصل کی اور جب لکھنے پڑھنے کی صلاحیت حاصل کر چکے تو کم عمری میں ہی غلام عباس نے قلم سے رشتہ قائم کر لیا۔ یہ ضرور ہے کہ انھوں نے میٹرک تک تعلیم و ادیب عالم کی تعلیم خاصی تاخیر کے بعد حاصل کی، غلام عباس کو قدرت نے لکھنے کی صلاحیت عطا کر دی تھی کہ انھوں نے فقط15 برس کی عمر میں ٹالسٹائی کی کتاب جلاوطن کا ترجمہ بھی کر ڈالا اور یہ ترجمہ کردہ تحریر ہزار داستان لاہور میں چھپی۔ یہ ذکر ہے جنوری 1925 کا۔
انھوں نے جو اولین افسانہ قلم بند کیا وہ تھا موت کا درخت، یہ افسانہ سالنامہ نیرنگ خیال میں شائع ہوا اور اس افسانے کا انھیں معاوضہ بھی ملا۔ یہ ذکر ہے 1929 کا جب کہ اسی برس انھوں نے ماہنامہ پھول سے اپنا تعلق قائم کر لیا، جہاں نامور ادیب پطرس بخاری صاحب کے ساتھ کام کرنے کا انھیں موقعہ مل گیا، پطرس بخاری صاحب نے غلام عباس صاحب کو آل انڈیا ریڈیو سے متعارف کروا دیا، اسی زمانے میں غلام عباس تہذیب نسواں سے بھی منسلک ہو گئے یوں انھیں امتیاز علی تاج کا ساتھ نصیب ہو گیا.
حقیقت ہے کہ امتیاز علی تاج کی فرمائش پر غلام عباس نے واشنگٹن ارونگ کے افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا، اس افسانوں کے مجموعے کا نام الحمرا رکھا گیا۔ افسانوں کا یہ مجموعہ بے حد پسند کیا گیا جب کہ 1937 میں غلام عباس صاحب نامور ترین قلم کار جناب چراغ حسن حسرت کے ہفت روزہ شیرازہ کے لیے ایک طنزیہ افسانہ جزیرہ سخنواراں کے عنوان سے لکھا، اس طنزیہ افسانے کے چھپنے کے ساتھ ہی محترم غلام عباس کی شہرت ہر جانب پھیل گئی۔
البتہ جب غلام عباس کا افسانہ آنندی شائع ہوا تو پھر اسی افسانے کے لکھنے کے باعث اردو ادب میں انھیں اعلیٰ ترین مقام عطا ہوا۔ یہ ایک منفرد و انتہائی حساس موضوع پر لکھا گیا افسانہ ہے۔ اس افسانے کا اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو ان الفاظ میں بیان یوں کیا جا سکتا ہے شہر میں میونسپل کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہوتا ہے اور مسئلہ یہ زیر بحث ہوتا ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ جو ناچنے گانے والوں کا بازار ہے، اس بازار میں آباد لوگوں کی وجہ سے شہر بھر میں بے راہ روی پھیل رہی ہے۔ شہر کے معزز لوگوں کا اس رقاصاؤں کے بازار کے قریب سے گزرنا بھی مشکل ہے جب کہ شرفا کی اولاد اس بازار کے ماحول کے باعث بداخلاقی کا شکار ہو سکتی ہے طویل بحث کے بعد تمام ارکان بلدیہ کا یہ فیصلہ سامنے آتا ہے کہ شہر کے تمام شہریوں کو بے راہ روی سے محفوظ رکھنے کے لیے لازمی طور پر تمام رقاصاؤں سے وابستہ خاندانوں کو شہر سے بے دخل کر دیا جائے البتہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ ضرور کیا جائے کہ ان رقاصاؤں کے خاندانوں کو شہر سے 20 میل دور آباد کر دیا جائے، چنانچہ میونسپل کمیٹی کے فیصلے کے مطابق شہر سے 20 میل دور شہر آباد ہونا شروع ہوتا ہے جب شہر آباد ہوتا ہے تو وہاں چپل مرمت والا آ جاتا ہے۔
بھنے چنے بیچنے والی بھٹیارن آ جاتی ہے، کباب فروش، حجام، پرچون فروش، درزی، پان فروش، کپڑوں کے رنگ کرنے والا، پھولوں والا و دیگر اسی قماش کے لوگ آ کر اس شہر حسن آباد میں آ کر آباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور تو اور وہاں ایک بزرگ کا مزار بھی بابا کھٹر شاہ کے نام سے دریافت ہو جاتا ہے، گویا زائرین کی آمد بھی شروع ہو جاتی ہے۔ ٹھیک 6 ماہ کے عرصے میں 14 مکان بھی مکمل طور پر آباد ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک کے نیچے چار چار دکانیں بھی تعمیر ہو جاتی ہیں ، گزرتے وقت کے ساتھ حسن آباد میں آباد لوگوں کی تعداد ڈھائی لاکھ ہو جاتی ہے اور 20 برس کا عرصہ بیت جاتا ہے چنانچہ شہر میں بہت بڑا جلوس نکالا جاتا ہے اور مظاہرین کا مطالبہ ہوتا ہے کہ رقاصاؤں سے شہر کو پاک کرو گویا جنھوں نے شہر آباد کیا ہوتا ہے انھی کو شہر سے نکالنے کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے۔ غلام عباس کے اس افسانے پر پڑوسی ملک میں ایک فلم منڈی کے نام سے بنائی جا چکی ہے۔ آنندی کے علاوہ ناول گوندنی والا تکیہ دھنک ناولٹ، چاند تارہ، بچوں کی نظمیں، جاڑے کی چاندنی، کن رس، زندگی اور نقاب و دیگر تخلیقات شامل ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کر لی۔ ریڈیو کے ترجمان رسالہ آہنگ و پاکستان کالنگ کے مدیر بن گئے۔ غلام عباس صاحب فن موسیقی پر مکمل عبور رکھتے تھے اور وائلن بجانے میں مہارت رکھتے تھے بلکہ انھوں نے فن موسیقی کی مکمل تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ بہرکیف موت برحق ہے چنانچہ غلام عباس 2 نومبر 1982 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ انھوں نے 73 برس عمر پائی اور کراچی میں آسودہ خاک ہوئے۔ یہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق اس قبیلے سے تھا جو کسی کے ہاتھ میں کوڑا دیکھ کر اپنی پیٹھ پیش نہیں کرتے کہ کوڑے والا اپنی قوت آزما سکے، ان کے بارے میں نصراللہ خان نے اپنی کتاب کیا قافلہ جاتا ہے میں ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ وہ اپنے نظریات پڑھنے والے کے ذہن میں ٹھونسنے کی کوشش نہیں کرتے ،ان کا انداز نہ ناصح کا ہے نہ مصلح کا ، نہ نقاد کا، ان کے افسانوں میں ایسا دھیما پن ہے کہ جس سے قاری کی طبیعت اکتاتی ہے۔ ہم غلام عباس کو ان کی 44 ویں برسی کے موقعہ پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔