کل 3نومبر2026 ہے اور کل ہی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں Midterm Elections (وسط مدتی انتخابات) کا یُدھ پڑ رہا ہے۔ معلوم دُنیا میں امریکہ کو ’’یک قطبی اکلوتی عالمی طاقت‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور ’’دُنیا کا تھانیدار‘‘ بھی۔ تیزی سے معاشی و عسکری عالمی طاقت پکڑتے چین اور تازہ ترین ایران و امریکی تصادم نے اگرچہ امریکی اکلوتی سُپر عالمی طاقت کے تصور کو خاصا گزند اور ضعف پہنچایا ہے ، مگر اِس کے باوجود امریکہ ’’بہادر‘‘ کا عالمی ٹور ٹپا ابھی باقی ہے۔
اِسی لیے امریکہ میں ہر بدلتے سیاسی ، سماجی اور معاشی پہلو پر دُنیا بھر کی نظریں ٹکی رہتی ہیں ۔ 3نومبر کے مڈٹرم الیکشن بھی اِنہی میں شمار ہو رہے ہیں۔ ساری دُنیا کی نظریں اِن پر مرتکز ہیں۔ یہاں اوّلین سوال مگر یہ ہے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے معنی و مفہوم کیا ہیں اور یہ کہ امریکی سیاست و اقتدار میں مڈٹرم الیکشن کی ضرورت پڑتی ہی کیوں ہے ؟
امریکا میں صدارتی انتخابات ہر چار سال بعد ہوتے ہیں، جب کہ ان کے درمیانی عرصے میں ہونے والے وفاقی انتخابات کو’’ مڈٹرم انتخابات‘‘ کہا جاتا ہے۔3نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہو رہا، بلکہ امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں اور متعلقہ ریاستوں میں گورنروں، ریاستی قانون ساز اداروں اور متعدد مقامی عہدوں کے لیے مقابلے ہوں گے۔مڈٹرم انتخابات کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ کانگریس وفاقی بجٹ، ٹیکس، امیگریشن، صحت، تعلیم، دفاع، خارجہ امداد اور حکومتی نگرانی جیسے معاملات پر قانون سازی کرتی ہے۔
اگر امریکی صدر کی جماعت کانگریس میں اپنی اکثریت کھو دے تو صدر کے لیے اپنے قانونی اور سیاسی ایجنڈے پر عمل کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکی مسلمان ووٹروں کے لیے بھی مڈٹرم انتخابات یکساں اہم ہیں۔ شہری حقوق، مذہبی آزادی، نفرت انگیز جرائم، امیگریشن، فلسطین و اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی، مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات اور روزمرہ کے معاشی مسائل مڈٹرم انتخابی بحث کا حصہ بن رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر معاملے پر تمام امریکی مسلمان ایک جیسی رائے نہیں رکھتے۔
امریکی سیاست میں مسلمانوں کا کردار اب محض ایک مذہبی اقلیت کی نمائندگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ انتخابی سیاست، قانون سازی، شہری حقوق، خارجہ پالیسی، تعلیم، معیشت اور مقامی حکومتوں میں بھی اپنی موجودگی منوا رہے ہیں۔ امریکی مسلمانوں کی سیاسی اہمیت کا اندازہ صرف ان کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان کی جغرافیائی تقسیم، ووٹ ڈالنے کی شرح، انتخابی مقابلوں میں ان کی شرکت، مالی و سائل، تنظیمی صلاحیت اور فیصلہ کن ریاستوں میں ان کے ووٹوں کے اثرات سے لگایا جا سکتا ہے۔
3 نومبر 2026 کے امریکی مڈٹرم انتخابات اسی اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان انتخابات میں مسلمان ووٹر نہ صرف کانگریس کی آیندہ سیاسی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ مختلف ریاستوں میں گورنروں، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے انتخاب میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکی مسلمان کوئی یکساں سیاسی گروہ نہیں بلکہ ان کے نظریات، نسلی پس منظر، معاشی مفادات اور سیاسی ترجیحات ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔
مڈٹرم انتخابات میں امریکی مسلمان کیا کردار ادا کر سکتے ہیں ، اِس کا اندازہ ہم اُن کی تعداد سے لگا سکتے ہیں۔امریکی مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں تازہ ترین اہم اعداد و شمارPew Research Center کی 3 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔ اس کے مطابق: امریکا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 55 لاکھ ہے۔ امریکہ میں مساجد کی تعداد بھی3ہزار سے متجاوزہو چکی ہے۔
امریکی مسلمان امریکی معاشرے میں نسلی اور ثقافتی اعتبار سے خاصے متنوع ہیں۔ ان میں پاکستان، بنگلہ دیش، عالمِ عرب ، افریقہ، ایران، ترکی اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ سیاہ فام امریکی مسلمان بھی شامل ہیں۔امریکی مسلمانوں کی نئی نسل تعلیم، کاروبار، طب، قانون، صحافت اور سیاست میں سرگرم ہے۔تاہم 55 لاکھ کی امریکی مسلم آبادی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام امریکی مسلمان ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ بچوں، غیر شہری رہائشیوں اور ووٹ کے لیے رجسٹرڈ نہ ہونے والوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح مذہبی وابستگی اور سیاسی ترجیحات کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔
امریکی مسلمانوں کی عددی و سیاسی طاقت جاننے اور امریکی انتخابات میں امریکی مسلمانوں کے کردار کی تفہیم کے لیے یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے کہ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ امریکی مسلمانوں کی موثر تنظیمیں کتنی اور کونسی ہیں؟ امریکا کی اہم مسلمان تنظیمیں یہ ہیں: (1)کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز(2) ایکشن کیئر(3) مسلم پبلک افیئرز کونسل(4) ایم گیج (5) ایم گیج پی اے سی(6) اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ(7) مسلم ایڈووکیٹس!! یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ 5ملین سے زائد امریکی مسلمان اب تک امریکی پارلیمنٹ میں کتنی نشستیں حاصل کر پائے ہیں؟اِس وقت امریکی سینیٹ اور کانگریس میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف تین افراد پر مشتمل ہے :ریاست انڈیانا سے آندرے کارسن ، ریاست مینیسوٹا سے الہان عمر اور ریاست مشی گن سے رشیدہ طلیب! تینوں کا تعلق پارٹی ’’ڈیمو کریٹ‘‘ سے ہے (اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ 3نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹ ہی فتحیاب ہونے جا رہی ہے) کانگریس میں مسلمان ارکان کی تعداد اب بھی مجموعی ارکان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں کسی مسلمان رکن کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے پورے انتخابی حلقے کے ووٹروں کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ امریکی سینیٹ میں مسلمان نمائندگی کا فقدان اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ سیاسی ترقی کے لیے صرف آبادی کافی نہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی پیش رفت کا سب سے واضح ثبوت صرف واشنگٹن میں نہیں، بلکہ ریاستی اسمبلیوں، شہروں، کاؤنٹیوں اور تعلیمی اداروں کی منتخب قیادت میں بھی نظر آتا ہے۔ امریکی مسلمان تنظیم CAIR کی اگست 2026 کی ڈائریکٹری میں 26 امریکی ریاستوں کے 255 مسلمان منتخب عہدے داروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں 98 سٹی کونسل کے ارکان، تعلیم سے متعلق 63 منتخب عہدے دار، ریاستی اسمبلیوں کے 46 ارکان، 11 میئر اور 18 منتخب جج شامل ہیں۔
یہ تعداد بتاتی ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کی سیاسی موجودگی کئی علاقوں میں منظم شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ کے سب سے بڑے شہر،نیویارک، کے میئر زہران ممدانی مسلمان ہیں۔ یہ بھی دراصل امریکی سیاست میں مسلمان نمائندگی کی ایک اہم مثال ہیں۔ واضح رہے کہ کیلیفورنیا، نیویارک، ورجینیا، ٹیکساس، مشی گن، نیو جرسی، فلوریڈا، الینوائے، میری لینڈ، جارجیا اور اوہائیو ایسی امریکی ریاستوں میں مسلمان زیادہ آباد ہیں۔ وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی پارٹی اِنہی ریاستوں سے خائف ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ 3 نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں امریکی مسلمان کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟اصل سوال مگر یہ نہیں کہ امریکا میں مسلمان کتنے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی آبادی کو کس حد تک اور کیسے منظم شہری اور انتخابی شرکت میں تبدیل کر سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر (1) امریکی مسلمان ووٹروں کی رجسٹریشن اور ٹرن آؤٹ میں امریکی مسلمان کس طرح متحرک ہو سکتے ہیں (2) مشی گن، پنسلوانیا، جارجیا، ورجینیا اور نیو جرسی جیسے علاقوں میں بعض مقابلے سخت ہیں اور اِنہی میں امریکی مسلمانوں کو زیادہ ارتکاز کا ثبوت پیش کرنا ہوگا (3) مسلمان ووٹرز امیدواروں سے مذہبی آزادی، نفرت انگیز جرائم، امیگریشن، صحت، تعلیم، روزگار اور خارجہ پالیسی پر واضح مؤقف طلب کر سکتے ہیں۔ ان کی توجہ صرف مسلم امیدواروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے(4) مسلم امیدواروں کو آگے لانا ہوگا۔ اور اِس کے لیے مقامی اسکول بورڈ، سٹی کونسل اور ریاستی اسمبلی سے سیاسی سفر شروع کرنا اکثر زیادہ قابلِ عمل ہوتا ہے۔
2026 کی ڈائریکٹری میں 255 مسلمان منتخب عہدے داروں کی نشاندہی اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی حکومتیں سیاسی نمائندگی کی ایک اہم بنیاد ہیں(5) مسلمان ووٹروں کے لیے افریقی نژاد امریکیوں، لاطینی امریکیوں، ایشیائی امریکیوں اور دیگر مذہبی برادریوں کے ساتھ مشترکہ مسائل پر تعاون اہم ہو سکتا ہے(6) فلسطین، مقبوضہ کشمیر، غزہ، ایران اور دیگر مسلم ممالک سے متعلق امریکی پالیسی امریکی مسلم ووٹروں کے لیے اہم ہونی چاہیے۔ امریکی مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اُمیدواروں کی داخلی پالیسیوں پر بھی گہری نگاہ رکھیں (7)تین نومبر کے مڈٹرم انتخابات میںامریکی مسلمان ووٹرز ہر اُس اُمیدوار پر کڑی نظریں رکھیں جو اُن کے مذہبی و ثقافتی جذبات و تصورات کا مثبت خیال رکھتے ہوں ۔