سابق اسرائیلی میجر جنرل اِتزحاک برِک نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو محض سیاسی بحران نہیں بلکہ فوج، معیشت، ریاستی اداروں اور معاشرے سمیت جامع اور ناقابلِ تلافی زوال کا سامنا ہے۔
برِک نے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو اسرائیل کے لیے ’’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔
برِک کے مطابق طویل جنگ کے باعث اسرائیلی زمینی افواج شدید دباؤ، ساختی کمزوری اور حوصلے میں کمی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بیک وقت کئی محاذوں پر وسیع جنگ چھڑ گئی تو موجودہ فوجی صلاحیت بڑے پیمانے پر دراندازی روکنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔
سابق جنرل نے معاشی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ طویل جنگ سے اسرائیل کا قومی قرض تقریباً 1.4 ٹریلین شیکل (تقریباً 445 ارب ڈالر) تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے بقول ممکنہ بین الاقوامی پابندیاں، اسلحے کی فراہمی میں رکاوٹیں اور مالی تنہائی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم نیتن یاہو کی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کرنے کی تجویز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔