سائبر حملے ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں ناقص سیکیورٹی کی وجہ سے ہیں، بلال بن ثاقب

ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بینکوں اور ریگولیٹرز کو سائبر سیکیورٹی مزید مضبوط بنانا ہوگی، وزیر مملکت


ارشاد انصاری November 02, 2026

وزیر مملکت اور چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ سائبر حملے ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں بلکہ سیکیورٹی پروٹوکول میں کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر مملکت اور چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب کا لمز میں منعقد ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے سائبر حملوں پر گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ سائبر حملے ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں بلکہ سیکیورٹی پروٹوکول میں کمزوریوں کی وجہ سے ہیں جن کی نشاندہی ہونے کے بعد انہیں دور کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بینکوں اور ریگولیٹرز کو سائبر سیکیورٹی مزید مضبوط بنانا ہوگی، ملک کا ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر محفوظ، مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

لال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مالیاتی جدت اور جدید ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی، پاکستان محض ٹیکنالوجی کا صارف بننے کے بجائے عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی پاکستان کے مالیاتی نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں، بلاک چین ٹیکنالوجی کے امکانات بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ سے کہیں زیادہ وسیع ہیں جبکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے مالیاتی شمولیت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو مستقبل کے مالیاتی نظام میں اپنا کردار خود متعین کرنا ہوگا،جس کے فروغ کے لیے بینکوں اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے، مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے جدت کے فروغ کے لیے سازگار ریگولیٹری ماحول ناگزیر ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ ترسیلات زر کی لاگت میں صرف 2 سے تین فیصد کمی سے ملکی معیشت میں ایک ارب ڈالر اضافی آسکتے ہیں جبکہ پاکستان کی تقریباً 41 ارب ڈالر کی سالانہ ترسیلات زر کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے کے لیے پیوارا اور اسٹیٹ بینک مشترکہ ورکنگ گروپ پر کام کر رہے ہیں جبکہ خلیجی ممالک سے پاکستان ترسیلات زر کے لیے پائلٹ منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ بینکوں کو مشترکہ مالیاتی انفراسٹرکچر، کسٹڈی سروسز اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کرنا ہوگا جبکہ پیوارا ، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی مالیاتی جدت کے فروغ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کے بیرون ملک مقیم فِن ٹیک ماہرین کی مہارت سے استفادہ ضروری ہے جبکہ پاکستان کا بینکاری شعبہ ملک کو مالیاتی جدت کا علاقائی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔