محکمہ آبپاشی سندھ میں ایک سال میں 23 ارب 95 کروڑ سے زائد کی سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف

سیلابی شگافوں کو بھرنے کے نام پر کروڑوں روپے، ٹھیکوں کی غیر قانونی تقسیم سمیت دیگر کاموں میں دھجیاں اڑائی گئیں


محمد سلیم جھنڈیر November 02, 2026
فوٹو: فائل

کراچی: آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے محکمہ آبپاشی سندھ میں مالی سال 2025-2024 کے دوران 23 ارب 95 کروڑ 8 لاکھ روپے کی سنگین مالی بے قاعدگیوں اور ضوابط کی خلاف ورزیوں کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔

اے جی سندھ نے 54 نکات پر مشتمل تفصیلی آڈٹ رپورٹ حتمی کارروائی کے لیے سیکریٹری آبپاشی کے حوالے کر دی، جس نے صوبائی محکمہ آبپاشی کی مالی شفافیت پر شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں ٹھیکوں کی غیر قانونی تقسیم، منظور شدہ قوانین کے برعکس ادائیگیوں اور بلوں کی پاسنگ میں آئینی ضوابط کی دھجیاں اڑانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے متن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور ان پر عملدرآمد کے دوران تمام قانونی راستے بائی پاس کیے گئے، جبکہ ہنگامی کاموں کی آڑ میں مشکوک اقدامات اٹھا کر سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر قانونی ٹینڈرز کی قبولیت اور ضوابط کے منافی خریداریاں آڈٹ حکام کے شدید اعتراضات کی زد میں آئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیلابی شگافوں کو بھرنے کے نام پر کروڑوں روپے کے اخراجات ظاہر کیے گئے، تاہم محکمہ آبپاشی ان بھاری اخراجات کے حق میں آڈٹ ٹیم کو کوئی قانونی یا ٹھوس جواز فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

آڈٹ حکام نے معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے۔