فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات سے متعلق ایک تحقیق میں آلودہ ہوا اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے دارالحکومت دہلی اور جنوبی شہر چنئی میں ہونے والی تحقیق میں پایا گیا کہ PM2.5 ذرات سے زیادہ متاثرہ ہوا میں سانس لینے کے ساتھ خون میں شوگر کی سطح اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
PM2.5 ایسے باریک ذرات ہیں جو بال کی موٹائی سے تقریباً 30 گنا چھوٹے ہوتے ہیں۔ سانس کے ذریعے یہ پھیپھڑوں میں پہنچنے کے بعد خون میں داخل ہوسکتے ہیں اور نظامِ تنفس و قلب کو متاثر کرسکتے ہیں۔
تحقیق کے مصنفین میں شامل ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر ڈوریراج پربھاکرن کے مطابق ان ذرات میں سلفیٹ، نائٹریٹ، بھاری دھاتیں اور بلیک کاربن شامل ہوسکتے ہیں، جو خون کی نالیوں کی اندرونی تہہ کو نقصان پہنچانے، شریانوں کو سخت کرنے اور بلڈ پریشر بڑھانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ ذرات جسم میں سوزش اور دل کے پٹھوں پر اثرات سے بھی وابستہ ہیں۔
یہ تحقیق بھارت میں دائمی بیماریوں کے حوالے سے 2010 میں شروع کیے گئے مطالعے کا حصہ ہے۔ محققین نے 2010 سے 2017 کے دوران دہلی اور چنئی کے 12 ہزار مردوں اور خواتین کی نگرانی کی اور وقفے وقفے سے ان کے خون میں شوگر کی سطح جانچی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور فضائی آلودگی کے ماڈلز کے ذریعے ہر شریک کے علاقے میں آلودگی کی سطح کا اندازہ لگایا گیا۔
نتائج کے مطابق PM2.5 سے ایک ماہ کی نمائش خون میں شوگر کی سطح بڑھنے سے وابستہ تھی، جبکہ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک مسلسل نمائش ذیابیطس کے خطرے میں اضافے سے تعلق رکھتی تھی۔ دہلی میں اسی گروہ پر کی گئی ایک اور تحقیق میں آلودگی کی اوسط سالانہ سطح اور بلڈ پریشر میں اضافے کے ساتھ ہائی بلڈ پریشر کے امکان کے درمیان تعلق بھی دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق PM2.5 جسم میں انسولین کی پیداوار اور اس کے اثرات میں مداخلت کرسکتا ہے۔ یہ ذرات جسم کے ہارمونز بنانے والے اینڈوکرائن نظام کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر شریانوں میں چربی جمع ہونے، دل کے دورے اور دل کی ناکامی جیسے مسائل کے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔
تحقیق کرنے والی ٹیم اب آلودگی کے کولیسٹرول اور وٹامن ڈی کی سطح پر اثرات سمیت زندگی کے مختلف مراحل سے متعلق ممکنہ تعلقات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان میں پیدائش کے وقت بچے کا وزن، حاملہ خواتین کی صحت، نوعمروں میں انسولین کے خلاف مزاحمت اور پارکنسنز و الزائمر جیسی بیماریوں کے خطرات شامل ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج تشویش کا باعث ضرور ہیں، تاہم فضائی آلودگی میں کمی سے ذیابیطس سمیت دیگر غیر متعدی بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔