وہ ذہین شخص ہے، وہ بے وقوف ہے، وہ سقراط ہے، وہ عظیم شخص ہے، وہ بے ایمان ہے، وہ دیانت دار ہے وغیرہ وغیرہ۔ کسی بھی شخص کا تعارف کراتے ہوئے اس شخص کی صفت کو کوئی نام دیا جائے تو سننے والا اسی عکس میں اس کو دیکھتا ہے۔ آئیے اب اس کے اثرات اور دیرپا اثرات کو سمجھتے ہیں۔
کبھی نام رکھنا ایک مقدس کام تھا۔ شخص ہو یا کوئی بھی منظر، اس کو دیکھا جاتا تو اس کی اندرونی حقیقت کو سنا جاتا، پھر اس کا نام رکھا جاتا۔ نام حقیقت کو بیان کرنے کےلیے استعمال ہوتا، نام اس کی حقیقت کا آئینہ ہوتا تھا۔ آج صورتحال الٹ ہے۔ اب نام حقیقت کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ حقیقت کو نام کے تابع کردیا جاتا ہے۔ اس نکتے کو پکڑیں۔ یہ صرف الفاظ کا کھیل نہیں، یہ طاقت کا کھیل ہے۔
آئیے ایک واقعے سے سمجھتے ہیں۔ اعلان ہوا اور بتایا گیا، جناب خون میں سفید خلیے کم ہو رہے ہیں، اسے بلڈ کینسر ہے۔ اب یہ کیمو تھراپی شروع ہوگی۔ کاغذ پر جو لکھ دیا گیا وہی سب کچھ ہے یعنی اب کینسر کا علاج ہوگا۔ مریض کو تکلیف ہے یا نہیں، یہ سب ثانوی بات ہوگئی۔ وہ تو شکر تھا کہ کینسر کی دوا خریدنے کی سکت نہ تھی، وہ کسی سے دوا کی مدد مانگنے آیا، غور اور ہمدردی سے بات سنی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیگم صاحبہ کو دو ہفتوں سے بخار تھا، ملیریا اور ٹائیفائیڈ کہہ کہہ کر ایک وہ دوا غیر ضروری طور پر کھلائی گئی جس کے اثرات میں خون کے سفید خلیات کم ہوتے ہیں۔ اب یہ بات پوچھے بغیر بلڈ کے کینسر کا مریض طے کردیا گیا تھا۔
خیر انھوں نے واپس جاکر ڈاکٹر کو یہ بتانے کی کوشش کی، شعوری سطح اور آمریت کا حال دیکھیے کہ ڈاکٹروں نے سامنے قہقہہ لگایا اور کہا کہ مریض کو مارنا ہے کیا، کیمو تھراپی شروع کروائیں۔ وہ غریب، لاچار بیگم صاحبہ کو اپنی رضامندی سے ڈاکٹروں کی مرضی کے خلاف گھر لے کر آگیا۔ مریضہ چند دنوں میں واپس صحت مند ہوگئیں۔ کون سا کینسر اور کیسا کینسر۔ اس واقعے میں حقیقت کو حکم سے بدل دیا گیا، حقیقت میں وہ دوا کا مضر اثر تھا لیکن آمرانہ شعور نے اسے کینسر کہا۔
اب آئیے پیچیدہ ادویات کی طرف، بنانے کا فارمولہ مختلف، میٹیریل مختلف، مہارت مختلف، مشین مختلف، لیکن انھیں جینرک کہہ کر صرف نام کی بنیاد پر ’’ایک جیسی‘‘ مان لیا گیا، کیونکہ سرکاری دستاویزات میں جینرک لکھا گیا ہے تو ہم اسے ایک جیسا ہی سمجھیں گے، جبکہ ان کی فارمولیشن، دوا جذب کرنے کی صلاحیت اور طبی اثر مختلف تھا۔ نتیجہ میں علاج ناکام رہا یا مضر اثرات بڑھے۔
عجیب ستم ہے کہ ہم دوا میں استعمال ہونے والے کچھ میٹیریل کو اِن ایکٹیو اجزا کہہ کر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اِن ایکٹیو لفظ ہی غلط ہے، ان میٹیریل کا کوئی نہ کوئی کام ہے۔ اگر ہمیں ان کی ایکٹویٹی کا نہیں معلوم تو اِن ایکٹو کہنا صریحاً بددیانتی ہے۔ زیادہ کیا لکھوں، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ غلط نام دے کر حقائق مسخ کیے جاتے ہیں اور قیمت مریض ادا کرتا ہے۔ مثال سے سمجھیے۔
دواؤں میں بینزائل الکحل کو اِن ایکٹو کہہ کر استعمال کیا جاتا ہے، اس کا کام جراثیموں کی دوا میں نشوونما کو روکتا ہے۔ مگر بچوں میں یہی بینزائل الکحل سانس لینے میں دشواری کا باعث بنتا ہے، کئی بچے اس میں جاں سے گئے۔ کئی مثالیں ہیں جنھوں نے اندھیرے میں انسانی جان لے لی۔
اب چلتے ہیں مستقبل کے ہولناک ترین متوقع مناظر کی طرف۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے اصولوں سے ہم نے ریاضی تراشی ہے، چاہے پہاڑ ہوں یا شہد کی مکھی کا چھتہ، پرندے کا گھونسلہ ہو یا صحرا میں لہراتے ناریل کے درخت پر ناریل کا وزنی بوجھ۔ حساب کتاب آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ ریاضی کے پیچیدہ الجھے ہوئے مسائل آج کمپیوٹر حل کر رہا ہے۔ اس نے کیسے حل کیا، کہاں کہاں اس نے کیا کیا فرض کیا، یعنی مفروضہ قائم کیا، ہماری ذہانت کی حدود وہ سمجھنے کی اہلیت سے قاصر ہے۔ یعنی اب ہمیں کمپیوٹر ریاضی کے طے کیے ہوئے اصولوں پر بتائے گا کہ آپ کے گھر کا نقشہ کیا ہے، کہاں سونا ہے اور کہاں بیٹھنا ہے۔ ریاضی فطرت کی زبان ہے، جو اس زبان پر قابو پا لے، وہ فزکس، انجینئرنگ، طب، ادویاتی علوم، سب کچھ بدل سکتا ہے۔
عزیزان گرامی! ناموں کے جادو سے باہر نکل کر حقیقت کی طرف لوٹیں، ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب مشینیں اور حکام نام لکھیں گے اور انسان صرف ان ناموں کے تابع ہو کر رہ جائے گا۔ حقیقت کو نام سے آزاد رکھیں۔ سوچنے کا دروازہ ہمیشہ کھلے رکھیں، قابل اعتماد شواہد کو نمبر سے زیادہ اہمیت دیں۔ ہاں سماج سے درخواست ہے کہ کسی معصوم کو غلط نام دے کر مجرم ثابت نہ کریں۔ غلط تاثر بدقسمتی ہے، اپنے ہاتھوں بدقسمتی کا انتخاب نہ کریں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔